المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. إِنَّ الْجَذَعُ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ .
جذع (چھ ماہ کا دنبہ) وہی کفایت کرتا ہے جو ثنی (ایک سال کا جانور) کرتا ہے
حدیث نمبر: 7728
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا علي بن عاصم، حدثني ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ:"لا تجوزُ في البُدْن (2) : العَوْراءُ، والعَجْفاءُ، والجَرْباءُ، والمُصطَلَمةُ أَطْباؤُها كلُّها" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7537 - علي بن عاصم ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7537 - علي بن عاصم ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نذر میں عوراء (اندھا جانور)، عجفاء (کمزور جانور)، جرباء (خارش زدہ) اور جس کے سارے تھن کٹے ہوئے ہوں جائز نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7728]
حدیث نمبر: 7729
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري، أخبرنا عبد الله بن أبي شَيْبة، حدثنا عبد الله بن إدريس، حدثنا عاصم بن كُلَيب، عن أبيه، قال: كنا نُؤَمّر (1) علينا في المَغازي أصحابَ محمَّد ﷺ، وكُنَّا بفارسَ، فغَلَتْ علينا يومَ النَّحر المَسَانُّ، فكُنَّا نأخذُ المُسِنَّةَ بالجَذَعين، فقام فينا رجلٌ من مُزَينةَ فقال: كُنَّا مع رسول الله ﷺ فأصابَنا مثلُ هذا اليوم، فكُنَّا نأخذُ المُسِنَّةَ بِالجَذَعينِ والثلاثة، فقال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الجَذَعَ يُوفِي بما يُوفِي به الثَّنِيُّ" (2) . رواه الثَّوري عن عاصم بن كليب، وسمَّى الصحابيَّ فيه:
عاصم بن کلیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو ہمارا امیر بنایا جاتا تھا۔ ہم ایران میں ہوتے تھے، قربانی کے موقع پر بڑی عمر والے جانور ہمارے لیے دشوار ہو گیا تھا ہمیں دو یا تین جذعوں (کم عمر والے جانور) کے بدلے ایک مسنہ (زیادہ عمر والا جانور) لینا پڑتا تھا، مزینہ کا ایک آدمی کہنے لگا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، آج کی طرح اس وقت بھی ہمیں پریشانی ہوئی، تو ہم نے اس وقت بھی دو یا تین جذعوں (کم عمر والے جانور) کے بدلے ایک مسنہ (زیادہ عمر والا جانور) لیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں دو دانت کا جانور جائز ہے وہاں ایک جذع (دنبے یا چھترے کا چھ ماہ کا بچہ) بھی جائز ہے۔ ٭٭ اس حدیث کو ثوری نے عاصم بن کلیب سے روایت کیا ہے اور اس میں صحابی کا نام ” مجاشع بن مسعود سلمی “ بتایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7729]
حدیث نمبر: 7730
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّري بن خُزيمة، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن عاصم بن كُليب، عن أبيه، قال: كُنَّا مع مُجاشِع بن مسعود السُّلَمي في غَزاةٍ فعزَّتِ الضَّحايا، فقال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إِنَّ الجَذَعَ يُوفِي ممّا يُوفِي منه الثَّنِيُّ" (1) . رواه شُعبة عن عاصم بن كليب، ولم يسمِّ الصحابيَّ:
عاصم بن کلیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں کہ) ہم سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک جہاد میں تھے، وہاں قربانی کے جانوروں کا ریٹ بہت بڑھ گیا، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دو دانت کے جانور کی جگہ جذع (دنبے یا چھترے کا چھ ماہ کا بچہ) بھی کفایت کرے گا۔ ٭٭ اس حدیث کو شعبہ نے عاصم بن کلیب کے واسطے سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے صحابی کا نام ذکر نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7730]
حدیث نمبر: 7731
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن عاصم بن كُلَيب، عن أبيه، عن رجلٍ من مُزَينة أو جُهَينة، قال: كان أصحابُ رسول الله ﷺ إذا كان قبلَ الأضحى بيومٍ أو يومينِ أعطَوا جَذَعينٍ وأخذوا ثَنيًّا، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ الجَدْعَةَ تُجزئُ مما تُجزئُ منه الثَّنِيَّةُ" (2) .
هذا حديث مختلَف فيه على عاصم بن كُليب، وهو ممن لم يُخرِّجاه الشيخان ﵄، وقد اشترطتُ لنفسي الاحتجاجَ به، والحديثُ عندي صحيحٌ بعد أن أجمَعوا على ذكر الصحابيِّ فيه، ثم سمَّاه إمامُ الصَّنْعة سفيانُ بن سعيد الثَّوري ﵁.
هذا حديث مختلَف فيه على عاصم بن كُليب، وهو ممن لم يُخرِّجاه الشيخان ﵄، وقد اشترطتُ لنفسي الاحتجاجَ به، والحديثُ عندي صحيحٌ بعد أن أجمَعوا على ذكر الصحابيِّ فيه، ثم سمَّاه إمامُ الصَّنْعة سفيانُ بن سعيد الثَّوري ﵁.
شعبہ، عاصم بن کلیب کے واسطے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، کہ مزینہ یا جہینہ کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ قربانی سے ایک یا دو دن پہلے صحابہ کرام دو جذعے (کمر عمر والے جانور) دے کر اس کے بدلے میں دو دانت کا جانور لے لیتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جذعہ (بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ) وہاں کفایت کر جاتا ہے جہاں دو دانت کا جانور کفایت کرتا ہے۔ ٭٭ اس حدیث میں عاصم بن کلیب پر اختلاف ہے، اس کو شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے نقل نہیں کیا۔ اور میری شرئط کے مطابق یہ حدیث لائق حجت ہے۔ اور یہ حدیث میرے نزدیک صحیح ہے کیونکہ اس حدیث میں جس راوی کا نام مجہول تھا اس کے نام پر راویوں کا اجماع ہو چکا ہے اور فن حدیث کے امام سیدنا سفیان بن سعید ثوری نے اپنی روایت میں ان کا نام بھی ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7731]
حدیث نمبر: 7732
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن سلمان، عن (1) عُقَيل، عن ابن قُسَيط، عن سعيد بن المسيّب، عن بعض أزواجِ النبيِّ ﷺ قالت: لأَن أُضحِّيَ بجَذَعٍ من الضَّأْن، أحبُّ إليَّ من أن أضحِّيَ بمُسِنَّة من المَعْز (2) . رواه محمد بن إسحاق القرشي عن يزيد بن عبد الله بن قُسيط، وسمَّى الصحابيةَ أمَّ سَلَمة:
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ام المومنین نے کہا: بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ قربان کرنا میں زیادہ پسند کرتی ہوں یہ نسبت ایک سالہ بکری ذبح کرنے کے۔ ٭٭ محمد بن اسحاق قرشی نے یہ حدیث یزید بن عبداللہ بن قسط کے حوالے سے بیان کی ہے اور صحابیہ کا نام ” ام سلمہ “ بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7732]