المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. عَصَبَةُ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ أُمُّهُ
ملاعنہ (جس پر زنا کی تہمت لگی ہو) کے بچے کے وارث اس کے ننھیال والے ہیں
حدیث نمبر: 8184
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا علي بن عبد الله المَدِيني، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، قال: حدثنا [محمد بن] (1) مسلم بن عبد الله بن شِهَاب، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس أنه قال: أولُ من أعالَ الفرائضَ عمرُ وايمُ اللهِ، لو قدَّم من قدَّم اللهُ وأخَّر مَن أخَّر الله ما عالَتْ فريضةٌ. فقيل له: وأَيُّها قدَّم الله وأَيُّها أخَّر؟ فقال: كلُّ فريضة لم يُهبِطُها اللهُ ﷿ عن فريضةٍ إلَّا إلى فريضة، فهذا ما قدَّم الله ﷿، وكلُّ فريضة إذا زالت عن فَرْضِها لم يكن لها إِلَّا ما بقي، فتلك التي أخَّر الله ﷿ كالزوج والزوجة والأمِّ، والذي أَخَّر كالأخَوات والبنات، فإذا اجتمعَ مَن قدَّم الله ﷿ وأخر بُدِئَ بمَن قَدَّم فأُعطِي حقَّه كاملًا، فإن بَقِيَ شيءٌ كان لمن أخَّر، وإن لم يَبْقَ شيءٌ فلا شيءَ له (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7985 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7985 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: فرائض میں سب سے پہلے عول سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، اللہ کی قسم! اگر قرآن کے مقدم کردہ کو مقدم رکھتے اور قرآن کے موخر کردہ کو موخر رکھتے تو کسی فرض حصہ میں عول کی ضرورت نہ پڑتی، آپ سے پوچھا گیا: کونسے فرائض کو اللہ نے مقدم رکھا ہے اور کونسے فرائض کو موخر رکھا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا: اللہ تعالیٰ اگر کسی فرض حصے کو اتارتا ہے تو کسی فریضہ ہی کی جانب اتارتا ہے، یہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے مقدم کیا ہے، اور ہر وہ فرض حصہ جب اپنے فرض سے زائل ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اس کو صرف باقی ماندہ ہی ملے گا، یہ وہ فرائض ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے موخر کیا ہے جیسا کہ شوہر، بیوی اور ماں۔ اور جن کو موخر کیا ہے، وہ جیسے بہنیں اور بیٹیاں، جب اللہ تعالیٰ کے مقدم کردہ اور موخر کردہ سب جمع ہوں تو ان میں مقدمین سے ابتداء کی جائے، اگر ان سے کچھ بچ جائے تو وہ موخرین کے لیے ہو گا۔ اور اگر کچھ بھی نہ بچے تو یہ محروم رہیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8184]
حدیث نمبر: 8185
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتبة أحمد بن الفَرَج، حدثنا بَقيَّة بن الوليد، حدثني أبو سَلَمة الحِمصي سليمان بن سُلَيم (1) ، عن عمر (2) ابن رُوبَة، عن عبد الواحد بن عبد الله النَّصْري (3) ، عن واثلة بن الأسقَع، عن النبي ﷺ قال:"تَحُوزُ المرأة ثلاثةَ مَوارِيث: عَتيقَها ولَقِيطَها والولدَ الذي لا عَنَت عليه" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک عورت وراثت کے تین حصے جمع کر لیتی ہے، اپنے آزاد کردہ کا، اپنے لقیط کا اور ایسے بچے کا (جس کے بارے میں بچے کی ماں کے شوہر نے اپنا نسب ہونے کا انکار کیا ہو، اس پر لعان کیا گیا ہو، اس عورت کا شوہر اس بچے کی وراثت سے محروم ہو جاتا ہے جبکہ اس کی ماں اس کی وارث بنتی ہے) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8185]
حدیث نمبر: 8186
أخبرنا أبو عبد الله بن يعقوب الحافظ وأبو يحيى السَّمَرقندي، قالا: حدثنا محمد بن نصر الإمام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبَّاد بن العوّام، عن عمر بن عامر عن حمَّاد، عن إبراهيم، عن ابن مسعود: أنه قال في مِيراث ابن الملاعَنة: مِيراثُه كلُّه لأمِّه (1) .
هذا حديث رواتُه كلُّهم ثِقات، وهو مرسل، وله شاهدٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7987 - مرسل
هذا حديث رواتُه كلُّهم ثِقات، وهو مرسل، وله شاهدٌ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7987 - مرسل
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ملاعنہ کے بچے کی وراثت کے بارے میں فرمایا: اس کی تمام میراث اس کی ماں کے لیے ہے۔ ٭٭ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ یہ مرسل ہے۔ اور اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8186]
حدیث نمبر: 8187
أخبرَناه أبو يحيى وحدَه، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا عبد الأعلى بن حمّاد، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن داود بن أبي هِند، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير، عن رجل من أهل الشام: أنَّ رسول الله ﷺ قال في ولد المُلاعَنة:"عَصَبَتْه أُمُّه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7988 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7988 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ایک شامی آدمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاعنہ کے بچے کے بارے میں فرمایا: اس کا عصبہ اس کی ” ماں “ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8187]