🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. حِكَايَةُ رَجُلٍ سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ایک شخص کا قصہ جس نے نبی کریم ﷺ پر جادو کیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8272
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة والحسن بن عبد الصمد، قالا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا إسماعيل بن مسلم، عن الحسن، عن جُندُبِ الخيرِ قال: قال رسول الله ﷺ:"حَدُّ الساحرِ ضربةٌ بالسَّيف" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وإن كان الشيخان تَرَكا حديثَ إسماعيل بن مسلم، فإنه غريبٌ صحيح. وله شاهدٌ صحيح على شرطهما جميعًا في ضدِّ هذا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8073 - صحيح غريب
سیدنا جندب الخیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جادوگر کی سزا یہ ہے کہ تلوار کے ساتھ اس کی گردن اڑا دی جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسماعیل بن مسلم کی روایت چھوڑی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ غریب صحیح ہے۔ اور اس مفہوم کی متضاد مفہوم والی ایک حدیث اس کی شاہد ہے اور وہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار پر پوری بھی ہے (وہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8272]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8273
حدثنا الأستاذ أبو الوليد، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجي، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا جَرير عن الأعمش، عن ثُمَامة بن عُقبة المُحلِّمي، عن زيد بن أرقم، قال: كان رجلٌ يدخلُ على النبيِّ ﷺ، فأخذَه رجلٌ (1) فَعَقَدَ له، فَوَضَعَه وطَرَحَه في بِئر رجلٍ من الأنصار، فأتاه مَلَكانِ يَعُودانِه (2) ، فقعد أحدُهما عند رأسِه، وقعد الآخرُ عند رجليه، فقال أحدهما: أتدري ما وَجَعُه؟ قال: فلانٌ الذي كان يدخلُ عليه عَقَدَ له عُقَدًا، فألقاه في بئر فلانٍ الأنصاري، فلو أَرسل إليه رجلًا فأخذ منه العُقَدَ، فوجد الماءَ قد اصفرَّ، قال: وأخذَ العُقَدَ فحلَّها فيها، قال: فكان الرجلُ بعدُ يَدخُلُ على النبي ﷺ، فلم يذكر له شيئًا منه، ولم يُعاتِبْه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتا تھا، اس آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا، اس نے (کسی دھاگے میں) گرہیں لگا کر ایک انصاری کے کنویں میں پھینکا ہوا تھا، دو فرشتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لیے آئے، ان میں سے ایک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے کی طرف اور دوسرا قدموں کی جانب کھڑا ہو گیا۔ ان میں سے ایک نے کہا: تمہیں پتا ہے کہ ان کے درد کی وجہ کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں شخص جو اکثر ان کے پاس آتا ہے اس نے (کسی دھاگے میں) گرہیں لگا کر فلاں انصاری کے کنویں میں پھینکا ہوا ہے۔ اگر کسی آدمی کو بھیج دیا جائے اور وہ گرہیں کھول دے، وہ پانی کا رنگ بدلا ہوا پائے گا، راوی کہتے ہیں: وہ گرہیں کھول دیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جادو کا اثر ختم ہو گیا، راوی کہتے ہیں: اس کے بعد بھی وہ آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتا تھا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اس کی اس حرکت کا ذکر نہیں کیا اور نہ اس پر اس کو کوئی سزا دی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8273]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں