المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. أَحَادِيثُ رَجْمِ مَاعِزٍ الْأَسْلَمِيِّ
سیدنا ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ کے رجم سے متعلق احادیث
حدیث نمبر: 8275
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، حدثنا وهب بن جَرِير، حدثنا أبي قال: سمعت يعلى بن حَكيم يُحدِّث عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ قال لماعِزِ بن مالك:"وَيْحَكَ، لعَلَّكَ قبلت أو لَمَستَ أو غَمَزْتَ أو نَظَرتَ!" قال: لا، قال:"أفعَلْتَها؟ قال: نعم، فعند ذلك أمرَ برَجْمِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد رواه الحكم بن أبان عن عكرمة بزياداتِ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8076 - ذا في البخاري
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد رواه الحكم بن أبان عن عكرمة بزياداتِ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8076 - ذا في البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک سے فرمایا: ”تمہاری خرابی ہو! شاید تم نے محض بوسہ لیا ہو گا، یا چھوا ہو گا، یا آنکھ ماری ہو گی، یا صرف دیکھا ہو گا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے واقعی وہ (فعل) کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم (سنگسار) کرنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8275]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8275]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8275] [ترقيم الشركة 8176] [ترقيم العلميه 8076]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8276
كما حدَّثَناه بكر بن محمد بن حَمْدان المروّزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا حفص بن عمر العَدَني، حدثنا الحَكَم بن أبان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ ماعزًا جاء إلى رجل من المسلمين، فقال: إني أصبتُ فاحشةً، فما تأمرُني؟ فقال له الرجلُ: اذهَبْ إلى رسولِ الله ﷺ ليستغفِرَ لك. فلما أتى ماعزٌ رسول الله ﷺ فأخبره كَرِهَ رسول الله ﷺ كلامَه - أو قال: قولَه - ثم قال رسولُ الله ﷺ لمن كان معه:"أَبصاحبِكم مَسٌّ؟" قال ابن عباس: فنظرتُ إلى القوم لأُشيرَ عليهم، فلم يَلتفِتْ إليَّ منهم أحدٌ، فقال له رسول الله ﷺ:"لعلَّكَ قبَّلتَها؟" قال: لا، قال النبي ﷺ: فمَسِسْتها؟ قال: لا، قال:"ففَعَلتَ بها؟" ولم يَكْنِ (1) ، قال: 4/ 362 نعم، قال:"فارجُمُوه"، قال: فبَيْنا هو يُرجَمُ إِذ رَمَاه الرجلُ الذي جاءَه ماعزٌ يستشيرُه، رَمَاه بِعَظْمٍ فخَرَّ ماعزٌ، فالتفَتَ إليه، فقال له ماعزٌ: قاتَلَكَ اللهُ أَوْرَيتَني (2) ثم أنتَ الآنَ تَرجُمُني (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8077 - حفص بن عمران العدني ضعفوه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8077 - حفص بن عمران العدني ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز ایک مسلمان شخص کے پاس آئے اور کہا: مجھ سے بے حیائی کا کام سرزد ہو گیا ہے، آپ میرے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ اس شخص نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جاؤ تاکہ وہ تمہارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، جب ماعز نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات کو ناپسند کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود لوگوں سے پوچھا: ”کیا تمہارے اس ساتھی کو کوئی ذہنی خلل (جنون) ہے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں لوگوں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ انہیں اشارہ کروں (کہ خاموش رہیں) مگر ان میں سے کسی نے میری طرف توجہ نہ دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز سے فرمایا: ”شاید تم نے اس کا صرف بوسہ لیا ہو گا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے چھوا تھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے اس کے ساتھ وہ (فعل) کیا ہے؟“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کنایہ استعمال نہیں فرمایا (بلکہ صراحت سے پوچھا)، انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں رجم کر دو“، راوی کہتے ہیں کہ جب انہیں رجم کیا جا رہا تھا تو اسی شخص نے انہیں ایک ہڈی ماری جس کے پاس ماعز مشورہ لینے گئے تھے، ماعز گر پڑے اور اس کی طرف متوجہ ہو کر کہا: ”اللہ تجھے غارت کرے، تو نے ہی مجھے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے) ظاہر کیا اور اب تو ہی مجھے رجم کر رہا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8276]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا بهذا السياق، حفص بن عمر العدني متفق على ضعفه، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8276] [ترقيم الشركة 8177] [ترقيم العلميه 8077]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا بهذا السياق