🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. أَحَادِيثُ رَجْمِ مَاعِزٍ الْأَسْلَمِيِّ
سیدنا ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ کے رجم سے متعلق احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8274
أخبرَناه أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير التاجر، أخبرنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحنظلي بالرَّي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أشعَثُ بن عبد الملك، عن الحسن: أنَّ أميرًا من أمراء الكوفة دعا ساحرًا يَلعَبُ بين يدي الناس، فبلغ جُندُبًا، فأقبل بسيفه واشتَمَلَ عليه، فلما رآه ضربَه بسيفه، فتفرَّق الناسُ عنه فقال: أيها الناسُ، لن تُراعَوا، إنما أردتُ الساحرَ، فأخذه الأميرُ فحبَسَه، فبلغ ذلك سلمانَ، فقال: بئسَ ما صَنَعا، لم يكن ينبغي لهذا وهو إمامٌ يُؤتَمُّ به يدعو ساحرًا يلعب بين يديه، ولا ينبغي لهذا أن يُعاتِبَ أميرَه بالسَّيف (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8075 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حسن فرماتے ہیں: کوفہ کے امراء میں سے ایک امیر نے ایک جادوگر کو بلایا، وہ لوگوں کے سامنے (جادو کے کھیل) کھیلا کرتا تھا، اس بات کی خبر سیدنا جندب تک پہنچ گئی، آپ اپنی تلوار لے کر آئے، اور اس جادوگر کو مار دیا، لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی، آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم مت گھبراؤ، میں تو اس جادوگر کو مارنا چاہتا ہوں۔ اس امیر نے ان کو گرفتار کروا لیا، اس بات کی اطلاع سلمان تک پہنچی، آپ نے فرمایا: تم دونوں نے ہی غلطی کی ہے۔ اس امیر کے پیچھے لوگ نمازیں پڑھتے ہیں، اس کی پیروی کرتے ہیں، اس کو نہیں چاہیے تھا کہ یہ کسی جادوگر کو بلاتا اور وہ لوگوں کے سامنے کرتب کرتا۔ اور اس کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کہ اس نے اپنے امیر پر تلوار اٹھائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8274]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8275
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، حدثنا وهب بن جَرِير، حدثنا أبي قال: سمعت يعلى بن حَكيم يُحدِّث عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ قال لماعِزِ بن مالك:"وَيْحَكَ، لعَلَّكَ قبلت أو لَمَستَ أو غَمَزْتَ أو نَظَرتَ!" قال: لا، قال:"أفعَلْتَها؟ قال: نعم، فعند ذلك أمرَ برَجْمِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد رواه الحكم بن أبان عن عكرمة بزياداتِ ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8076 - ذا في البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، ہو سکتا ہے تو نے صرف بوسہ لیا ہو، یا صرف چھوا ہو، یا صرف چٹکی کاٹی ہو، یا صرف دیکھا ہو۔ انہوں نے کہا: نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے (زنا) کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کا حکم دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو حکم بن ابان نے عکرمہ سے روایت کیا ہے اور اس روایت میں الفاظ کچھ زائد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8275]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں