🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. ذِكْرُ حَدِّ الْقَذْفِ
تہمت لگانے (قذف) کی حد کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8306
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا الربيع بن سليمان، حدَّثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن بُكَير بن عبد الله بن الأشج، حدَّثه قال: بَيْنا أنا جالسٌ عند سليمان بن يسار إذ دخل عبدُ الرحمن بن جابر فحدَّث سليمانُ بن يسار، فقال: حدثني عبدُ الرحمن بن جابر، أنَّ أباه حدَّثه، أنه سمع أبا بُرْدة الأنصاريِّ يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يُجلَدُ فوقَ عَشَرَةِ أسواطٍ إِلَّا في حدٍّ من حدودِ الله تعالى" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8107 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوبردہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (تعزیر کے طور پر) دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں، کیونکہ دس سے زیادہ صرف حدود اللہ میں مارے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8306]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8307
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدَّثنا أحمد بن موسى التَّميمي، حدَّثنا مِنْجاب بن الحارث، حدَّثنا عبد الملك بن هارون بن عَنترة، عن أبيه، عن جدِّه، عن عمرو بن العاص: أنه زار عمَّةً له، فدعت له بطعام، فأبطأَتِ الجاريةُ فقالت: ألا تَستعجِلي يا زانيةُ! فقال عمرو: سبحان الله، لقد قلتِ أمرًا عظيمًا، هل اطَّلَعتِ منها على زِنًى؟ قالت: لا والله، فقال عمرو: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أيُّما عبدٍ أو امرأةٍ قال أو قالت لوليدِتها: يا زانيةُ، ولم تطَّلِعُ منها على زناءٍ، جلدَتْها وَليدتُها يومَ القيامة، لأنه لا حدَّ لهنَّ في الدنيا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما اتفقا في هذا الباب على حديث عبد الرحمن بن أبي نُعْم (2) ، عن أبي هريرة:"مَن قَذَفَ مملوكَه بالزِّنى، أُقيم عليه الحدُّ يومَ القيامة" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8108 - بل عبد الملك بن هارون متروك باتفاق حتى قيل فيه دجال
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ اپنی پھوپھی کی زیارت کے لئے گئے، انہوں نے ان کے لئے کھانا منگوایا، لونڈی نے کھانا لانے میں دیر کر دی، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی پھوپھی نے لونڈی کو کہا: اے زانیہ! تم جلدی نہیں کر سکتی؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ، تو نے بہت بڑی بات کہہ دی ہے، کیا تجھے پتا ہے کہ اس نے زنا کروایا ہے؟ پھوپھی جان نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مرد یا عورت نے اپنی لونڈی کو زانیہ کہا اور اس کو معلوم نہیں ہے کہ اس نے زنا کروایا ہے، قیامت کے دن اس کی لونڈی اس کو کوڑے مارے گی، کیونکہ دنیا میں اس جرم کی حد (متعین سزا) نہیں ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم اس موضوع پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جس نے اپنے مملوک پر زنا کی تہمت لگائی، قیامت کے دن اس پر حد لگائی جائے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8307]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8308
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا الرَّبيع بن سليمان، حدَّثنا أسَد بن موسى، حدَّثنا مسلم بن خالد، حدَّثنا أبو حازم، حدثني سهل بن سعد صاحبُ رسول الله ﷺ: أنَّ رجلًا من أسلم جاء النبيَّ ﷺ، فقال: إنه زَنَى بامرأة، سمَّاها وأنكَرَت، فحَدَّه وتركَها (4) . هذا إسناد صحيح، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8109 - صحيح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، (اس عورت سے پوچھا گیا تو) اس نے انکار کر دیا، چنانچہ اس آدمی کو حد لگا دی گئی اور عورت کو چھوڑ دیا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کی شاہد حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8308]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8309
ما حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا موسى بن هارون البُنِّي (1) ، حدَّثنا هشام بن يوسف، حدَّثنا القاسم بن فيَّاض الأَبْناوي (1) ، عن خلَّاد بن عبد الرحمن، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا من بني بكر بن ليث أتى النبيَّ ﷺ، فأقرَّ أنه زَنَى بامرأةٍ أربع مرارٍ، فَجُلِد مئةً، وكان بكرًا، ثم سأله البيِّنةَ على المرأة، فقالت المرأةُ: كذَبَ والله يا رسول الله، فجلدَه حدَّ الفِرْية ثمانين (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8110 - القاسم بن فياض ضعيف
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بنی بکر بن لیث کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، اور چار مرتبہ اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ نکاح کیا ہے، اس کو سو کوڑے مارے گئے، کیونکہ یہ شخص کنوارا تھا، پھر اس سے عورت کے خلاف گواہ مانگے گئے، (وہ گواہ پیش نہ کر سکا، پھر عورت سے پوچھا گیا تو) عورت نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کی قسم! یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔ چنانچہ اس کو کذب بیانی کی سزا کے طور پر 80 کوڑے مارے گئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8309]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں