المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. كَانَ الشَّارِبُ يُضْرَبُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ بِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ
نبی کریم ﷺ کے عہد میں شراب پینے والے کو ہاتھوں اور جوتوں سے مارا جاتا تھا
حدیث نمبر: 8330
قال الزُّهْري هذا: فحدَّثني حُمَيد بن عبد الرحمن عن وَبَرة الكَلْبي قال: أرسَلَني خالدُ بن الوليد إلى عمر، فأتيتُه وهو في المسجد معه عثمانُ بن عفان وعليٌّ وعبدُ الرحمن بن عوف وطلحةُ والزُّبيرُ متَّكئون معه في المسجد، فقلت: إنَّ خالد بن الوليد أرسَلَني إليك، وهو يقرأ عليك السلامَ، ويقول: إنَّ الناس قد انهمَكُوا (1) في الخمر، وتَحاقَرُوا العقوبة. فقال عمر: هم هؤلاء عندك فسَلْهم، فقال عليٌّ: نَراه إذا سَكِرَ هَذَى، وإذا هَذَى افترى، وعلى المفتري ثمانونَ. فقال عمرُ: أبلِغْ صاحبَك ما قال. فجَلَدَ خالدٌ ثمانينَ، وجَلَدَ عمرُ ثمانينَ، فكان عمرُ إذا أُتِيَ بالرجل القوي المُنهمِك في الشُّرْب جَلَدَه ثمانينَ، وإذا أُتِي بالرجل الضعيف الذي كانت منه الزَّلّة جَلَدَه أربعين، ثم جَلَدَ عثمانُ ثمانين وأربعينَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8131 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8131 - صحيح
وبرہ کلبی بیان کرتے ہیں: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب بھیجا، میں آپ کے پاس آیا، آپ اس وقت مسجد میں تھے اور آپ کے ہمراہ سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا علی، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے، سب مسجد میں تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ میں نے کہا: مجھے سیدنا خالد بن ولید نے آپ کی جانب بھیجا ہے، وہ آپ کو سلام کہہ رہے تھے، اور فرما رہے تھے، لوگ شراب میں بہت ڈوب چکے ہیں، اور ان لوگوں نے سزاؤں کو بہت حقیر سمجھا ہوا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ سب لوگ یہاں موجود ہیں، آپ اس بابت ان سے پوچھ لیجئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال یہ ہے کہ جب آدمی کو نشہ چڑھتا ہے، تو وہ بکواسات کرتا ہے، اور جب بکواسات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ بولنے والے کی سزا 80 کوڑے ہیں، اس لیے اس کے 80 کوڑے ہونے چاہئیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے ساتھی کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی یہ بات پہنچا دو، چنانچہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے 80 کوڑے لگوائے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی 80 کوڑے لگوائے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اگر کوئی صحتمند نشئی لایا جاتا تو آپ اس کو 80 کوڑے لگواتے اور اگر کوئی کمزور لاغر نشئی لایا جاتا تو آپ اس کو 40 کوڑے لگواتے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح 80 اور 40 کوڑوں کی سزا کو جاری رکھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8330]