المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. كَانَ الشَّارِبُ يُضْرَبُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ بِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ
نبی کریم ﷺ کے عہد میں شراب پینے والے کو ہاتھوں اور جوتوں سے مارا جاتا تھا
حدیث نمبر: 8331
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدَّثنا يحيى بن عثمان بن صالح، حدَّثنا سعيدٌ بن كثير بن عُفَير، حدَّثنا يحيى بن فُليح أبو المغيرة الخُزاعي، حدَّثنا ثَوْر بن زيد الدِّيلي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: إِنَّ الشُّرَّاب كانوا يُضرَبون على عهد رسول الله ﷺ بالأيدي والنِّعالِ والعِصيِّ حتى تُوفِّيَ رسولُ الله ﷺ، وكانوا في خلافة أبي بكر أكثرَ منهم في عهدِ رسول الله ﷺ، فقال أبو بكر: لو فَرَضْنا لهم حدًا، فتَوخَّى نحوًا ممّا كانوا يُضرَبون في عهد رسول الله ﷺ، فكان أبو بكر يَجلِدُهم أربعين حتى تُوفَّى، ثم قام من بعدِه عمرُ، فجلدَهم كذلك أربعينَ حتى أُتِيَ برجلٍ من المهاجرين الأوَّلين وقد كان شَرِبَ، فَأَمَرَ بهِ أَن يُجلَد، فقال: لِمَ تَجلِدُني؟ بيني وبينَك كتابُ الله! فقال عمر: في أيِّ كتاب الله تَجِدُ أني لا أجلِدُك؟ فقال: إِنَّ الله تعالى يقول في كتابه: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ الآية [المائدة: 93] ، فأنا من الذين آمنوا وعملوا الصالحات، ثم اتَّقَوا وآمنوا، ثم اتَّقَوا وأحسَنُوا؛ شهدتُ معَ رسول الله ﷺ بدرًا والحُديبيَةَ والخندقَ والمشاهدَ. فقال عمر: ألا تَردُّون عليه ما يقول؟ فقال ابن عباس: إِنَّ هؤلاء الآياتِ أُنزلت عُذرًا للماضِينَ، وَحُجّةً على الباقين، فعَذَرَ الماضين، فإنهم لَقُوا الله قبلَ أن تُحرَّمَ عليهم الخمرُ، وهي حُجَّةٌ على الباقين (1) لأنَّ الله ﷿ يقول: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ﴾ [المائدة: 90] ، ثم قرأ حتى أنفَدَ الآية الأخرى، ومَن كان من الذين آمنوا وعَمِلوا الصالحاتِ ثم اتَّقَوا وآمنوا ثم اتَّقَوا وأحسَنوا، فإنَّ الله ﷿ قد نَهَى أن يُشرَبَ الخمرُ، فقال عمرُ: صدقتَ، فماذا ترونَ؟ فقال عليٌّ: نَرَى أنه إذا شَرِبَ سَكِرَ، وإذا سَكِرَ هَذَى، وإذا هَذَى افترى، وعلى المُفتري ثمانونَ جلدةً، فأمَرَ عمرُ فَجُلِدَ ثمانينَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8132 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8132 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں شراب نوشی کرنے والوں کو ہاتھوں، جوتوں اور لاٹھیوں سے مارا جاتا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران ایسے لوگوں کی تعداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی نسبت بڑھ گئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کاش ہم ان کے لیے کوئی (مستقل) حد مقرر کر دیں“، چنانچہ انہوں نے اسی انداز کو اختیار کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مارا جاتا تھا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک انہیں چالیس کوڑے لگاتے رہے، پھر ان کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو وہ بھی اسی طرح چالیس کوڑے ہی لگاتے رہے، یہاں تک کہ سابقون الاولون مہاجرین میں سے ایک شخص کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ نے اسے کوڑے لگانے کا حکم دیا تو اس نے کہا: ”آپ مجھے کیوں کوڑے لگا رہے ہیں؟ میرے اور آپ کے درمیان اللہ کی کتاب ہے!“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تم اللہ کی کتاب میں کہاں یہ پاتے ہو کہ میں تمہیں کوڑے نہ لگاؤں؟“ اس نے کہا: ”بیشک اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ ”جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو انہوں نے کھائی (یا پی) ہو۔“ [سورة المائدة: 93] ، اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے، پھر تقویٰ اختیار کیا اور احسان کیا؛ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر، حدیبیہ، خندق اور دیگر مشاہد (جنگوں) میں شریک رہا ہوں۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (صحابہ سے) فرمایا: ”کیا تم اس کی بات کا جواب نہیں دو گے؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”بیشک یہ آیات گزر جانے والے لوگوں کے لیے عذر کے طور پر نازل ہوئی تھیں اور باقی رہ جانے والوں پر حجت (دلیل) ہیں، چنانچہ اللہ نے گزشتہ لوگوں کو معذور قرار دیا کیونکہ وہ شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے اللہ سے جا ملے تھے، جبکہ یہ باقیوں پر حجت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ﴾ ”اے ایمان والو! بیشک شراب، جوا، بت اور فال نکالنے کے تیر شیطان کے کاموں میں سے ناپاکی ہیں۔“ [سورة المائدة: 90] ، پھر انہوں نے اگلی آیت مکمل ہونے تک تلاوت کی (اور کہا) کہ جو لوگ ایمان لائے، نیک عمل کیے، پھر تقویٰ اختیار کیا، ایمان لائے اور احسان کیا، تو اللہ تعالیٰ نے (انہیں بھی) شراب پینے سے منع کر دیا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، اب تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہماری رائے یہ ہے کہ جب وہ شراب پیتا ہے تو اسے نشہ ہوتا ہے، جب نشہ ہوتا ہے تو وہ ہذیان بکتا ہے، اور جب ہذیان بکتا ہے تو (لوگوں پر) بہتان تراشی کرتا ہے، اور بہتان تراشی کرنے والے پر اسی کوڑے ہیں“، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اسے اسی کوڑے لگائے گئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8331]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8331]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، يحيى بن فليح مع أنه من رجال النسائي لم يترجم له المزيُّ ولا ابن حجر، وترجم له في "اللسان"، فقال: قال ابن حزم: مجهول، وقال مرة: ليس بالقوي، وحديثه في "الكبرى" للنسائي وأغفله (يعني المزي) في "التهذيب"» [ترقيم الرساله 8331] [ترقيم الشركة 8232] [ترقيم العلميه 8132]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف