المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يُوقِفْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا
بے شک رسول اللہ ﷺ نے شراب کی کوئی ایک مقدار (حد) مقرر نہیں فرمائی تھی
حدیث نمبر: 8322
أخبرني الحسين بن علي التَّميمي، حدَّثنا محمد بن إسحاق الإمامُ، حدَّثنا محمد بن موسى الحَرَشي، حدَّثنا زياد بن عبد الله، حدَّثنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن المُنكدر، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن شَرِبَ الخمرَ فاجلِدُوه، فإن عادَ فاجلِدُوه، فإن عادَ فاجلِدُوه، فإن عادَ الرابعة فاقتُلوه". قال: فضرب رسول الله ﷺ النُّعَيمانَ أربعَ مراتٍ (1) .
محمد بن المنکدر نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سابقہ فرمان جیسا فرمان بیان کیا ہے۔ اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعیمان کو چار مرتبہ کوڑے مارے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8322]
حدیث نمبر: 8323
أخبرنا محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنْطري بها، حدَّثنا أبو قِلابة، حدَّثنا أبو عاصم، حدَّثنا ابن جُرَيج، أخبرني محمد بن علي بن رُكانة، أخبرني عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ لم يَقِتْ في الخمرِ حدًّا. قال ابن عباس: شَرِبَ رجلٌ فَسَكِرَ، فلُقِي يَمِيلُ في الفجِّ، فانطلقنا به إلى النبيِّ ﷺ، فلمَّا حاذَى بدار العبّاس انفلَتَ فدخلَ على العباس فالتَزَمَه، فذُكِرَ ذلك للنبيِّ ﷺ فضَحِكَ، وقال:"أفعَلَها؟" ولم يأمُرْ فيه بشيءٍ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8124 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8124 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی حد نافذ کرنے کی کوئی کیفیت مقرر نہیں فرمائی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نے شراب پی اور اس کو نشہ چڑھ گیا، اور وہ گلیوں میں جھومتا پھر رہا تھا، ہم اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل پڑے، جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو بھاگ کر نکلا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر گھس کر آپ کے پاس بیٹھ گیا، اس بات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی گئی، یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے اور فرمایا: کیا اس نے واقعی ایسا کیا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی پر کوئی حد نافذ نہیں فرمائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8323]
حدیث نمبر: 8324
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا عبد الوهاب، حدَّثنا أيوب، عن عبد الله بن أبي مُلَيكة، عن عُقْبة بن الحارث قال: جِيءَ بالنُّعَيمان - أو بابن النُّعْيمان - شاربًا، فأَمَرَ رسولُ الله ﷺ مَن كان في البيت أن يَضرِبَه، قال: وكنتُ أنا فيمن ضربَه، فضَرَبناه بالنِّعال والجَريد (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع عبدُ الوارث بن سعيد عبدَ الوهاب الثقفي على وَصْله بذكر عُقبة بن الحارث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8125 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع عبدُ الوارث بن سعيد عبدَ الوهاب الثقفي على وَصْله بذكر عُقبة بن الحارث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8125 - صحيح
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نعیمان یا اس کے بیٹے نے شراب پی تھی، اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا، جو لوگ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے ان کو حکم دیا کہ اس کو ماریں۔ آپ فرماتے ہیں: اس کو مارنے والوں میں، میں بھی شامل تھا۔ ہم نے اس کو جوتیوں اور کھجور کی شاخوں کے ساتھ مارا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور عبدالوارث بن سعید نے، عبدالوہاب ثقفی نے سند کو متصل کرنے میں عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8324]
حدیث نمبر: 8325
حدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدَّثنا يوسف بن يعقوب القاضي، حدَّثنا محمد بن أبي بكر، حدَّثنا عبد الوارث، حدَّثنا أيوب، عن ابن أبي مُلَيكة، قال: أخبرني عُقبة بن الحارث قال: جِيء بالنُّعيمان، فأمرَ رسول الله ﷺ مَن في البيت، فَضَرَبُوه بالأيدي والنِّعال، وكنت فيمن ضَرَبَه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8126 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8126 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نعیمان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب گھر والوں کو حکم دیا کہ اس کو ماریں، تو ان لوگوں نے ہاتھوں کے ساتھ اور جوتوں کے ساتھ ان کو مارا۔ ان کو مارنے والوں میں، میں بھی شامل تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8325]
حدیث نمبر: 8326
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدَّثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدَّثنا مَكِّيُّ بن إبراهيم، حدَّثنا الجُعَيد (1) بن عبد الرحمن، عن يزيد بن خُصَيفة، عن السائب بن يزيد قال: كان يُؤتَى بالشارب في عهد رسولِ الله ﷺ وفي إمرة أبي بكر وصَدْرًا من إمرة عمر، فنقوم إليه فنضربُه بأيدينا ونعالِنا وأرديَتِنا حتى كان صَدْرًا من إمارة عمر، فجَلَدَ فيها أربعينَ، حتى إذا عاثُوا فيها وفَسَقُوا جَلَدَ فيها ثمانينَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8127 - ذا في البخاري
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8127 - ذا في البخاري
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں کسی شراب خور کو لایا جاتا تو ہم اس کو ہاتھوں، جوتوں اور چادروں کے ساتھ مارتے، حتیٰ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اوائل میں اس کی سزا چالیس کوڑے مقرر کر دی گئی۔ اور جب ان میں شراب نوشی عام ہو گئی اور فسق بڑھ گیا تو آپ نے اس کی سزا 80 کوڑے کر دی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8326]
حدیث نمبر: 8327
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدَّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عبد الرحمن بن أزهَرَ قال: أُتي النبيُّ ﷺ بشاربٍ فقال:"قوموا إليه فاضربُوه"، فقاموا إليه فخَفَقُوه بنعالِهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8128 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8128 - صحيح
سیدنا عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شراب خور کو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو مارو۔ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے جوتوں کے ساتھ اس کو مارنے لگے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8327]
حدیث نمبر: 8328
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدَّثنا وهب بن جَرير، حدَّثنا شُعْبة، عن أبي التَّيّاح، عن أبي الوَدَّاك، عن أبي سعيد الخُدْري قال: لا أشربُ نبيذَ الجرِّ بعد إذ أتي النبيُّ ﷺ بنَشْوانَ، فقال: يا رسولَ الله، ما شربتُ خمرًا، لكني شربتُ نبيذَ زبيبٍ وتمرٍ في دُبَّاء، فأُمر به فبُهِزَ بالأيدي، وخُفِقَ بالنِّعال، ونَهَى عن الزَّبيب والتمر وعن الدُّبَّاء (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8129 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8129 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نشئی کو لایا گیا، اس نے کہا: یا رسول اللہ میں نے شراب نہیں پی بلکہ میں نے دباء (شراب پینے کے لئے استعمال ہونے والا برتن) میں زبیب اور کھجور کا جوس پیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، اس کو ہاتھوں کے ساتھ مارا گیا، اس پر جوتے برسائے گئے، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیب اور کھجور کے جوس سے بھی منع کر دیا اور دباء نامی برتن کے استعمال پر بھی پابندی لگا دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8328]
حدیث نمبر: 8329
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا بكَّار بن قُتَيبة القاضي، حدَّثنا صفوان بن عيسى القاضي، أخبرنا أسامة بن زيد، عن الزُّهْري، قال: حدثني عبد الرحمن بن أزهَرَ قال: رأيتُ رسول الله ﷺ يومَ حُنين وهو يتخلَّلُ الناس، يسألُ عن منزل خالدِ بن الوليد، فأُتِيَ بسكرانَ، فأَمر رسولُ الله ﷺ مَن كان عندَه أَن يَضربوه بما كان في أيديهم. قال: وحَثَا رسولُ الله ﷺ الترابَ في وجهه. قال: ثم أُتِيَ أبو بكر بسكرانَ، قال: فتوخَّى الذين كان مِن ضربهم يومَئِذٍ، فَضَرَبَ أربعينَ، وضَرَبَ عمرُ أربعين (1) .
عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے جنگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے آپ لوگوں کے درمیان موجود تھے، اور خالد بن ولید کا ٹھکانہ پوچھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو کہ نشے میں دھت تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ اس کے آس پاس ہیں، ان کے ہاتھ میں جو بھی ہے، اس کے ساتھ اس کی پٹائی کر دیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ پر مٹی ڈال دی، راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شرابی شخص کو لایا گیا، راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے مشورہ لیا جنہوں نے اس دن شرابی کی پٹائی لگائی تھی (ان سے مشورہ کے بعد) آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو چالیس کوڑے لگوائے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی شرابی کو چالیس کوڑے لگائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8329]