🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يُوقِفْ فِي الْخَمْرِ حَدًّا
بے شک رسول اللہ ﷺ نے شراب کی کوئی ایک مقدار (حد) مقرر نہیں فرمائی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8323
أخبرنا محمد بن أحمد بن تَمِيم القَنْطري بها، حدَّثنا أبو قِلابة، حدَّثنا أبو عاصم، حدَّثنا ابن جُرَيج، أخبرني محمد بن علي بن رُكانة، أخبرني عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ لم يَقِتْ في الخمرِ حدًّا. قال ابن عباس: شَرِبَ رجلٌ فَسَكِرَ، فلُقِي يَمِيلُ في الفجِّ، فانطلقنا به إلى النبيِّ ﷺ، فلمَّا حاذَى بدار العبّاس انفلَتَ فدخلَ على العباس فالتَزَمَه، فذُكِرَ ذلك للنبيِّ ﷺ فضَحِكَ، وقال:"أفعَلَها؟" ولم يأمُرْ فيه بشيءٍ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8124 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر کوئی (مستقل) حد مقرر نہیں فرمائی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی کر نشہ کر لیا، وہ راستے میں لڑکھڑاتا ہوا پایا گیا تو ہم اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جانے لگے، جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ (ہمارے ہاتھ سے) چھوٹ کر بھاگ گیا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے لپٹ گیا، اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور فرمایا: کیا اس نے ایسا کیا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق (سزا کا) کوئی حکم نہیں دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8323]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، محمَّد بن علي بن ركانة» [ترقيم الرساله 8323] [ترقيم الشركة 8224] [ترقيم العلميه 8124]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8324
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا عبد الوهاب، حدَّثنا أيوب، عن عبد الله بن أبي مُلَيكة، عن عُقْبة بن الحارث قال: جِيءَ بالنُّعَيمان - أو بابن النُّعْيمان - شاربًا، فأَمَرَ رسولُ الله ﷺ مَن كان في البيت أن يَضرِبَه، قال: وكنتُ أنا فيمن ضربَه، فضَرَبناه بالنِّعال والجَريد (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابع عبدُ الوارث بن سعيد عبدَ الوهاب الثقفي على وَصْله بذكر عُقبة بن الحارث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8125 - صحيح
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نعیمان (یا ان کے صاحبزادے) کو شراب پیے ہوئے لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اسے ماریں، راوی کہتے ہیں کہ میں بھی اسے مارنے والوں میں شامل تھا، ہم نے اسے جوتوں اور کھجور کی ٹہنیوں سے مارا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8324]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8324] [ترقيم الشركة 8225] [ترقيم العلميه 8125]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8325
حدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدَّثنا يوسف بن يعقوب القاضي، حدَّثنا محمد بن أبي بكر، حدَّثنا عبد الوارث، حدَّثنا أيوب، عن ابن أبي مُلَيكة، قال: أخبرني عُقبة بن الحارث قال: جِيء بالنُّعيمان، فأمرَ رسول الله ﷺ مَن في البيت، فَضَرَبُوه بالأيدي والنِّعال، وكنت فيمن ضَرَبَه (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8126 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نعیمان کو لایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا، چنانچہ انہوں نے انہیں ہاتھوں اور جوتوں سے مارا، اور میں بھی انہیں مارنے والوں میں شامل تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8325]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8325] [ترقيم الشركة 8226] [ترقيم العلميه 8126]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8326
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدَّثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدَّثنا مَكِّيُّ بن إبراهيم، حدَّثنا الجُعَيد (1) بن عبد الرحمن، عن يزيد بن خُصَيفة، عن السائب بن يزيد قال: كان يُؤتَى بالشارب في عهد رسولِ الله ﷺ وفي إمرة أبي بكر وصَدْرًا من إمرة عمر، فنقوم إليه فنضربُه بأيدينا ونعالِنا وأرديَتِنا حتى كان صَدْرًا من إمارة عمر، فجَلَدَ فيها أربعينَ، حتى إذا عاثُوا فيها وفَسَقُوا جَلَدَ فيها ثمانينَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8127 - ذا في البخاري
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت میں شراب پینے والے کو لایا جاتا تو ہم اٹھ کر اسے اپنے ہاتھوں، جوتوں اور چادروں سے مارتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور کے ابتدائی حصے میں آپ نے اس پر چالیس کوڑے مقرر کیے، پھر جب لوگ اس میں حد سے بڑھ گئے اور فسق و فجور زیادہ ہوا تو آپ نے اس پر اسی کوڑے مقرر کیے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8326]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، الجعيد» [ترقيم الرساله 8326] [ترقيم الشركة 8227] [ترقيم العلميه 8127]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8327
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدَّثنا الحارث بن أبي أسامة، حدَّثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عبد الرحمن بن أزهَرَ قال: أُتي النبيُّ ﷺ بشاربٍ فقال:"قوموا إليه فاضربُوه"، فقاموا إليه فخَفَقُوه بنعالِهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8128 - صحيح
سیدنا عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شراب پینے والے کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب اٹھ کر اسے مارو۔ پس لوگ اس کی طرف بڑھے اور اسے اپنے جوتوں سے مارا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8327]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو» [ترقيم الرساله 8327] [ترقيم الشركة 8228] [ترقيم العلميه 8128]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8328
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدَّثنا وهب بن جَرير، حدَّثنا شُعْبة، عن أبي التَّيّاح، عن أبي الوَدَّاك، عن أبي سعيد الخُدْري قال: لا أشربُ نبيذَ الجرِّ بعد إذ أتي النبيُّ ﷺ بنَشْوانَ، فقال: يا رسولَ الله، ما شربتُ خمرًا، لكني شربتُ نبيذَ زبيبٍ وتمرٍ في دُبَّاء، فأُمر به فبُهِزَ بالأيدي، وخُفِقَ بالنِّعال، ونَهَى عن الزَّبيب والتمر وعن الدُّبَّاء (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8129 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مٹی کے گھڑوں کا نبیذ اس وقت سے نہیں پیتا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مدہوش شخص کو لایا گیا، اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے شراب نہیں پی بلکہ میں نے کدو کے برتن میں منقے اور کھجور کا نبیذ پیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے ہاتھوں سے کچوکے لگائے گئے اور جوتوں سے مارا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منقہ اور کھجور کو ملا کر بھگونے اور کدو کے برتن «دباء» کے استعمال سے منع فرما دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8328]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8328] [ترقيم الشركة 8229] [ترقيم العلميه 8129]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8329
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا بكَّار بن قُتَيبة القاضي، حدَّثنا صفوان بن عيسى القاضي، أخبرنا أسامة بن زيد، عن الزُّهْري، قال: حدثني عبد الرحمن بن أزهَرَ قال: رأيتُ رسول الله ﷺ يومَ حُنين وهو يتخلَّلُ الناس، يسألُ عن منزل خالدِ بن الوليد، فأُتِيَ بسكرانَ، فأَمر رسولُ الله ﷺ مَن كان عندَه أَن يَضربوه بما كان في أيديهم. قال: وحَثَا رسولُ الله ﷺ الترابَ في وجهه. قال: ثم أُتِيَ أبو بكر بسكرانَ، قال: فتوخَّى الذين كان مِن ضربهم يومَئِذٍ، فَضَرَبَ أربعينَ، وضَرَبَ عمرُ أربعين (1) .
سیدنا عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے غزوہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی منزل کے بارے میں دریافت فرما رہے تھے، اسی دوران ایک شرابی کو لایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود لوگوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھوں میں جو کچھ بھی ہے اس کے ساتھ اسے ماریں، راوی کہتے ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے چہرے پر مٹی بھی ڈالی، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو انہوں نے اس دن کی مار کو مدنظر رکھتے ہوئے چالیس کوڑے لگائے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے لگائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8329]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، فالزهري لم يسمع هذا الحديث من عبد الرحمن بن الأزهر، بينهما عبدُ الله بن عبد الرحمن بن الأزهر، وقد روى عنه غير واحد، وذكره ابن حبان في "الثقات"، فمثلُه حسن الحديث إن شاء الله، فهو تابعي ويروي الخبر عن أبيه أيضًا» [ترقيم الرساله 8329] [ترقيم الشركة 8230]

الحكم على الحديث: حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8330
قال الزُّهْري هذا: فحدَّثني حُمَيد بن عبد الرحمن عن وَبَرة الكَلْبي قال: أرسَلَني خالدُ بن الوليد إلى عمر، فأتيتُه وهو في المسجد معه عثمانُ بن عفان وعليٌّ وعبدُ الرحمن بن عوف وطلحةُ والزُّبيرُ متَّكئون معه في المسجد، فقلت: إنَّ خالد بن الوليد أرسَلَني إليك، وهو يقرأ عليك السلامَ، ويقول: إنَّ الناس قد انهمَكُوا (1) في الخمر، وتَحاقَرُوا العقوبة. فقال عمر: هم هؤلاء عندك فسَلْهم، فقال عليٌّ: نَراه إذا سَكِرَ هَذَى، وإذا هَذَى افترى، وعلى المفتري ثمانونَ. فقال عمرُ: أبلِغْ صاحبَك ما قال. فجَلَدَ خالدٌ ثمانينَ، وجَلَدَ عمرُ ثمانينَ، فكان عمرُ إذا أُتِيَ بالرجل القوي المُنهمِك في الشُّرْب جَلَدَه ثمانينَ، وإذا أُتِي بالرجل الضعيف الذي كانت منه الزَّلّة جَلَدَه أربعين، ثم جَلَدَ عثمانُ ثمانين وأربعينَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8131 - صحيح
وبرہ کلبی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، میں ان کے پاس پہنچا تو وہ مسجد میں تھے اور ان کے ساتھ سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا علی، سیدنا عبد الرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم مسجد میں تکیہ لگائے بیٹھے تھے، میں نے عرض کی: مجھے خالد بن ولید نے آپ کی طرف بھیجا ہے، وہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ لوگ شراب نوشی میں بہت زیادہ ملوث ہو گئے ہیں اور سزا کو معمولی سمجھنے لگے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ لوگ تمہارے سامنے موجود ہیں، ان سے مشورہ کر لو، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہماری رائے یہ ہے کہ جب وہ نشہ کرتا ہے تو ہذیان بکتا ہے، اور جب ہذیان بکتا ہے تو بہتان تراشی کرتا ہے، اور بہتان لگانے والے کی حد اسی کوڑے ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے صاحب (خالد) کو بتا دو جو انہوں نے کہا ہے، چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی کوڑے لگائے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا معمول یہ تھا کہ جب کوئی طاقتور شخص جو شراب کا عادی ہو لایا جاتا تو اسے اسی کوڑے لگاتے اور جب کوئی کمزور شخص لایا جاتا جس سے لغزش ہو گئی ہوتی تو اسے چالیس کوڑے لگاتے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی اور چالیس کوڑے لگائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 8330]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وَبَرة الكلبي مجهول، قال الحافظ ابن حجر في "لسان الميزان" 8/ 373 قال ابن حزم في "الإيصال": مجهول» [ترقيم الرساله 8330] [ترقيم الشركة 8231] [ترقيم العلميه 8131]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں