المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. ذكر فتنة الدجال
فتنۂ دجال کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8537
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا أبو عَوَانة، عن قَتَادة، عن نضر بن عاصم، عن سُبَيع بن خالد، قال: خرجتُ إلى الكوفة زمن فُتِحَت تُستَرُ لأَجلِبَ منها بِغالًا، فدخلتُ المسجدَ فإذا صَدعٌ من الرجال تعرفُ إذا رأيتَهم أنهم من رجال الحجاز، قال: قلت: مَن هذا؟ قال: فحَدَّقَني القومُ بأبصارهم وقالوا: ما تعرفُ هذا؟ هذا حُذيفةُ صاحب رسول الله ﷺ، قال: فقال حذيفة: إنَّ الناس كانوا يسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنت أسألُه عن الشرِّ، قال: قلت: يا رسول الله، أرأيتَ هذا الخيرَ الذي أعطانا الله، يكون بعدَه شرٌّ كما كان قبلَه؟ قال:"نعم" قلت: يا رسول الله، فما العِصْمةُ من ذلك؟ قال:"السيفُ" قلت: وهل للسيف من بقيّةٍ؟ قال:"نعم" قال: قلت: ثم ماذا؟ قال:"ثم هُدْنةٌ على دَخَنٍ" قال:"جماعةٌ على فُرْقةٍ، فإن كان الله ﷿ يومئذٍ خليفةٌ ضَرَبَ ظهرَك وأخذ مالَك، فاسمَعْ وأطِعْ، وإِلَّا فمُتْ عاضًّا بجِذْلِ شجرة" قال: قلت: ثم ماذا؟ قال:"يخرجُ الدَّجالُ ومعه نهرٌ ونار، فمن وقَع في ناره وقع [أَجرُه] (1) وحُطَّ وِزره، ومن وقع في نهره وَجَبَ وِزرُه وحُطَّ أجرُه" قلت: ثم ماذا؟ قال:"ثمَّ إِنَّما هي قيام الساعة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8332 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8332 - صحيح
سبیع بن خالد فرماتے ہیں: تستر فتح ہونے کے زمانے میں، میں کوفہ کی جانب روانہ ہوا، مقصد تھا کہ وہاں سے کچھ خچر لے کر آؤں، میں مسجد میں داخل ہوا، وہاں ہلکا پھلکا (چھریرے بدن والا) شخص موجود تھا، دیکھنے میں حجازی معلوم ہوتا تھا، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے آنکھوں کے اشاروں سے مجھ سے پوچھا کہ تم اس آدمی کو پہچانتے نہیں ہو؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازدان سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، آپ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے اس وقت ہمیں جو خیر عطا فرمائی ہے، کیا اس کے بعد کوئی شر بھی آئے گا؟ جیسا کہ اس خیر سے پہلے شر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شر سے بچاؤ کا طریقہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تلوار۔ میں نے کہا: تلوار کے بعد بھی کچھ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مصالحت ہو گی، اس کے بعد دھواں ہو گا، میں نے کہا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ ایک نہر اور ایک آگ ہو گی، جو اس کی آگ میں جائے گا، وہ اجر کا مستحق ہو گا اور اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اور جو اس کی نہر میں جائے گا، وہ گناہ کا مستحق ہو جائے گا اور اس کی نیکیاں ضائع ہو جائیں گی۔ میں نے پوچھا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد قیامت قائم ہو جائے گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8537]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8537 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) سقط من نسخنا الخطية، وأثبتناه من المطبوع ومصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: یہ ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط ہو گیا تھا، جسے ہم نے مطبوعہ نسخے اور تخریج کے مصادر سے ثابت کیا ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل سبيع بن خالد، فقد روى عنه جمع وذكره العجلي وابن حبان في الثقات. أبو الوليد الطيالسي: هو هشام بن عبد الملك، وأبو عوانة: هو وضاح بن عبد الله اليَشكُري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "سبیع بن خالد" کی وجہ سے "حسن" ہے، کیونکہ ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے اور عجلی و ابن حبان نے انہیں ثقات میں ذکر کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: "ابو الولید طیالسی" سے مراد ہشام بن عبد الملک ہیں، اور "ابو عوانہ" سے مراد وضاح بن عبد اللہ الیشکری ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23430)، وأبو داود (4244) من طرق عن أبي عوانة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (38/ 23430) اور ابوداؤد (4244) نے ابو عوانہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (23429)، وأبو داود (4245) من طريق معمر، عن قتادة، به. وسمّى سبيع بن خالد: خالدَ بن خالد اليشكري.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (23429) اور ابوداؤد (4245) نے معمر کے طریق سے، انہوں نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور انہوں نے سبیع بن خالد کا نام "خالد بن خالد الیشکری" ذکر کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (391) و (422) و (8535).
📝 نوٹ / توضیح: تفصیل کے لیے پیچھے گزری ہوئی احادیث نمبر (391)، (422) اور (8535) ملاحظہ کریں۔
والصَّدع: الرجل الخفيف اللحم المعتدل البِنية.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: "الصَّدع" سے مراد وہ آدمی ہے جس کا گوشت کم (جسم ہلکا پھلکا) اور جسامت درمیانی ہو۔
فحدَّقني القوم: أي: رَمَوني بأبصارهم.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: "فحدَّقني القوم" کا مطلب ہے: لوگوں نے مجھے گھور کر (اپنی نظروں سے) دیکھا۔
وجِذل الشجرة: أصلها.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: "جِذل الشجرۃ" کا مطلب ہے: درخت کی جڑ۔