🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا الدِّينُ إِلَّا إِدْبَارًا
معاملات میں صرف سختی اور دین میں صرف دوری (پیچھے ہٹنا) ہی بڑھتی جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8566
فأخبرناه أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا أبو داود، حدثنا عمرو بن عون، حدثنا هُشَيم، عن داود بن أبي هند، عن أبي عثمان النهدي، عن سعد مالك قال: قال بن رسول الله ﷺ:"إنها ستكون فتنة القاعدُ فيها خيرٌ من القائم، والقائم فيها خير من الماشي، والماشي خيرٌ من الساعي، والساعي خيرٌ من الراكب، والراكب خيرٌ من الموضع" (2) . وهذا الحديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه. قد صار هذا بابًا كبيرًا ولم يخرجاه، وإنما خرجه أبو داود السجستاني ﵀ في"السنن" الذي هو صحيح على شرطه، وأبو داود (3) أحد أئمة هذا العلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8362 - على شرط مسلم
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایک فتنہ ہو گا، جس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہوا، پیدل چلنے والے سے بہتر ہو گا اور پیدل چلنے والا بھاگنے والے سے بہتر ہو گا اور بھاگنے والا سوار سے بہتر ہو گا اور سوار، تیز رفتار اونٹ چلانے والے سے بہتر ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ باب بہت بڑا ہو گیا ہے، اس کو ابوداؤد جو کہ فن حدیث کے بہت بڑے امام ہیں انہوں نے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8566]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8567
حدثنا عيسى بن زيد بن عيسى بن عبد الله بن مسلم بن عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب، حدثنا يونس بن عبد الأعلى الصَّدَفي، حدثنا محمد بن إدريس الشافعي، أخبرنا محمد بن خالد الجندي، عن أبان بن صالح، عن الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يزداد الأمرُ إلَّا شِدّة، ولا الدِّينُ إلَّا إدبارًا، ولا الناسُ إِلَّا شُحًّا، ولا تقومُ الساعةُ إلَّا على شرار الناس، ولا مهدي إلَّا عيسى ابن مريم" (1) .
هذا حديث يُعَدُّ في أفراد الشافعي ﵁، وليس كذلك، فقد حدَّث به غَيرُه:
محمد بن ادریس الشافعی رضی اللہ عنہ نے محمد بن خالد الجندی سے، انہوں نے ابان بن صالح سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فتنوں کا معاملہ بہت سخت ہو جائے گا اور دین پیچھے کی طرف جائے گا، لوگوں میں بخل بڑھے گا، اور قیامت سب سے شریر ترین لوگوں پر قائم ہو گی، اور مہدی سے مراد خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں۔ صامت بن معاذ فرماتے ہیں: میں نے صنعاء سے جند تک دو دن کی مسافت کر کے ان کے محدث کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان سے یہ حدیث طلب کی ان کی روایت کردہ حدیث سند یوں تھی۔ محمد بن خالد الجندی نے، ابان بن ابن ابی عیاش سے، انہوں نے حسن سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی حدیث روایت کی ہے۔ اس حدیث کا کچھ متن عبدالعزیز بن صہیب کے واسطے سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ عبدالعزیز کی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8567]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8568
حدثني أبو أحمد عبد الرحمن بن عبد الله بن يَزْدادَ الرازي المذكِّر ببُخارى من أصل كتابه العتيق، حدثنا أبو محمد عبد الرحمن بن أحمد بن محمد بن الحجاج بن رِشْدِين بن سعد المَهْري بمصر، حدثني أبو سعيد المفضَّل بن محمد الجندي، حدثنا صامت بن معاذ، حدثنا يحيى بن السكن، حدثنا محمد بن خالد الجندي، عن أبان بن صالح، عن الحسن، عن أنس، عن النبي ﷺ قال:"لا يزدادُ الأمرُ إلَّا شدّةً، ولا الناسُ إلّا شُحًّا، ولا تقوم الساعة إلا على شرار الناس، ولا مهديَّ إلّا عيسى ابن مريم (2) " (3) . قال صامت بن معاذ: عَدَلتُ إلى الجَنَد مسيرة يومين من صنعاء، فدخلتُ على مُحدِّث لهم فطلبت هذا الحديث، فوجدتُه عنده عن محمد بن خالد الجندي، عن أبان بن أبي عياش عن الحسن، عن النبي ﷺ مثله (1) . وقد رُوِيَ بعضُ هذا المتن عن عبد العزيز بن صُهَيب، عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ. قال: أما حديث عبد العزيز عن أنس بن مالك:
8468 - سیدنا صہیب (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور روٹی رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قریب آ جاؤ اور کھاؤ"۔ میں کھجوریں کھانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (شفقتاً) فرمایا: "تم کھجور کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ آئی ہوئی ہے (آشوبِ چشم ہے)؟" میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں دوسری طرف (کی داڑھ) سے چبا رہا ہوں"۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرمانے لگے۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8568]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں