المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
35. ذِكْرُ " خَيْرِ النَّاسِ فِي الْفِتَنِ "
فتنوں کے دور میں بہترین لوگوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8584
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا شعبة، عن حصين، عن عبد الأعلى بن الحكم، رجل من بني عامر، عن خارجة بن الصَّلت البُرْجُمي قال: دخلتُ مع عبد الله يومًا المسجد، فإذا القوم ركوع، فمر رجلٌ فسلَّم عليه، فقال: صدق الله ورسوله، صدق الله ورسوله، فسألته عن ذلك فقال: إنه لا تقوم الساعة حتى تتخذ المساجد طرقًا، وحتى يُسلِّمَ الرجلُ على الرجل بالمعرفة، وحتى تَتَّجِرَ المرأة وزوجها، وحتى تغلو الخيل والنساء ثم ترخص فلا تَعْلُو إلى يوم القيامة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد. وقد أسند هذه الكلمات بشير بن سلمان في روايته، ثم صار الحديث برواية شعبة هذه صحيحًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8379 - موقوف
هذا حديث صحيح الإسناد. وقد أسند هذه الكلمات بشير بن سلمان في روايته، ثم صار الحديث برواية شعبة هذه صحيحًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8379 - موقوف
سیدنا خارجہ بن صلت برجمی بیان کرتے ہیں: ایک دن میں سیدنا عبداللہ کے ہمراہ مسجد میں داخل ہوا، اس وقت جماعت رکوع میں جا چکی تھی، ایک آدمی ان کے پاس سے گزرا، اس نے سلام کیا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے سلام کا یوں جواب دیا ” اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے “ بعد میں، میں نے ان سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: قیامت سے پہلے مسجدوں کو راستہ بنا لیا جائے گا، اور لوگ صرف جان پہچان والوں کو سلام کریں گے، میاں بیوی دونوں تجارت کریں گے، عورتیں اور گھوڑے مہنگے ہو جائیں گے۔ پھر اتنے سستے ہو جائیں گے کہ قیامت تک مہنگے نہیں ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ بشیر بن سلیمان نے اپنی روایت میں ان کلمات کو مسند کیا ہے۔ اس طرح یہ حدیث شعبہ کی روایت سے صحیح قرار پاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8584]