المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ، وَفُشُوَّ التِّجَارَةِ
قیامت کی نشانیوں میں سے صرف خاص لوگوں کو سلام کرنا اور تجارت کا پھیل جانا ہے
حدیث نمبر: 8583
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا السري بن خُزَيمة، حدثنا أبو نعيم، حدثنا بشير بن سلمان، عن سَيَّار أبي الحَكَم، عن طارق بن شهاب قال: كنا عند عبد الله بن مسعود جلوسًا، فجاء آذنه فقال: قد قامت الصلاة، فقام وقمنا معه، فدَخَلْنا المسجد فرأى الناسَ ركوعًا في مقدَّم المسجد، فكبر وركع ومشى، وفعلنا مثل ما فعل، قال: فمرَّ رجلٌ مسرِعٌ، فقال: السلام عليكم أبا عبد الرحمن، فقال: صدق الله وبَلَّغ رسوله، فلما صلينا رجع فوَلَجَ أهله وجلسنا في مكانه ننتظره حتى يخرج، فقال بعضنا البعض: أيكم يسأله؟ فقال طارق: أنا أسأله، فسأله طارقٌ فقال: سَلَّم عليك الرجلُ فردَدْتَ عليه: صدق الله وبلَّغ رسوله، فقال عبد الله: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ بين يدي الساعةِ تسليم الخاصَّةِ، وفُشُوَّ التِّجارة حتى تُعِينَ المرأة زوجها على التجارة، وحتى يخرجَ الرَّجلُ بماله إلى أطراف الأرض فيرجع فيقول: لم أربَحْ شيئًا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8378 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8378 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
طارق بن شہاب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے خادم نے آ کر بتایا: نماز کھڑی ہو گئی ہے، پس وہ اٹھے اور ہم بھی ان کے ساتھ اٹھے، جب ہم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصے میں رکوع کی حالت میں ہیں، انہوں نے تکبیر کہی، رکوع کیا اور (اسی حالت میں) آگے بڑھے، ہم نے بھی ویسا ہی کیا جیسا انہوں نے کیا تھا؛ کہتے ہیں: (نماز کے دوران) ایک شخص تیزی سے گزرا اور کہا: السلام علیکم اے ابوعبدالرحمن! انہوں نے (جواب میں) کہا: ”اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے پیغام پہنچا دیا،“ جب ہم نماز پڑھ چکے تو وہ واپس اپنے گھر تشریف لے گئے، ہم وہیں ان کے مقام پر بیٹھ کر ان کے نکلنے کا انتظار کرنے لگے، ہم میں سے بعض نے بعض سے کہا: تم میں سے کون ان سے اس بارے میں سوال کرے گا؟ طارق نے کہا: میں سوال کروں گا، پس طارق نے ان سے پوچھا: اس شخص نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب میں کہا: ”اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے پیغام پہنچا دیا،“ (اس کی کیا وجہ ہے؟) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت سے پہلے صرف خاص لوگوں کو سلام کیا جائے گا (عام سلام کا رواج ختم ہو جائے گا)، اور تجارت اس قدر پھیل جائے گی کہ عورت تجارت میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹائے گی، اور ایک آدمی اپنا مال لے کر زمین کے دور دراز کناروں تک سفر کرے گا مگر واپس آ کر کہے گا: میں نے (اتنی مشقت کے باوجود) کچھ نفع حاصل نہیں کیا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8583]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سيّار: وهو أبو حمزة لا أبو الحكم كما سلف التنبيه إليه عند مختصر هذا الحديث برقم (7220)» [ترقيم الرساله 8583] [ترقيم الشركة 8480] [ترقيم العلميه 8378]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8584
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا شعبة، عن حصين، عن عبد الأعلى بن الحكم، رجل من بني عامر، عن خارجة بن الصَّلت البُرْجُمي قال: دخلتُ مع عبد الله يومًا المسجد، فإذا القوم ركوع، فمر رجلٌ فسلَّم عليه، فقال: صدق الله ورسوله، صدق الله ورسوله، فسألته عن ذلك فقال: إنه لا تقوم الساعة حتى تتخذ المساجد طرقًا، وحتى يُسلِّمَ الرجلُ على الرجل بالمعرفة، وحتى تَتَّجِرَ المرأة وزوجها، وحتى تغلو الخيل والنساء ثم ترخص فلا تَعْلُو إلى يوم القيامة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد. وقد أسند هذه الكلمات بشير بن سلمان في روايته، ثم صار الحديث برواية شعبة هذه صحيحًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8379 - موقوف
هذا حديث صحيح الإسناد. وقد أسند هذه الكلمات بشير بن سلمان في روايته، ثم صار الحديث برواية شعبة هذه صحيحًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8379 - موقوف
خارجہ بن صلت البرجمی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک دن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ لوگ رکوع کی حالت میں ہیں، اسی دوران ایک شخص گزرا اور اس نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے کہا: ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا،“ میں نے ان سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یقیناً قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مساجد کو راستوں کے طور پر استعمال نہ کیا جانے لگے، اور جب تک آدمی صرف اپنی جان پہچان والے ہی کو سلام نہ کرنے لگے، اور جب تک عورت اپنے شوہر کے ساتھ مل کر تجارت نہ کرنے لگے، اور جب تک گھوڑے اور عورتیں بہت مہنگی نہ ہو جائیں پھر وہ ایسی سستی ہوں گی کہ قیامت تک کبھی مہنگی نہیں ہوں گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، بشیر بن سلمان نے اپنی روایت میں ان کلمات کو مسنداً بیان کیا ہے، پھر شعبہ کی اس روایت کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8584]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، بشیر بن سلمان نے اپنی روایت میں ان کلمات کو مسنداً بیان کیا ہے، پھر شعبہ کی اس روایت کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8584]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل عبد الأعلى بن الحكم، فهو معدود في التابعين الكبار إذ أثبت له البخاري في "تاريخه" 6/ 70 وغيره السماع من حذيفة وابن مسعود وأبي موسى، وقد روى عنه اثنان ثقتان وذكره ابن حبان في "الثقات"» [ترقيم الرساله 8584] [ترقيم الشركة 8481] [ترقيم العلميه 8379]
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل عبد الأعلى بن الحكم