المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تَسْلِيمَ الْخَاصَّةِ، وَفُشُوَّ التِّجَارَةِ
قیامت کی نشانیوں میں سے صرف خاص لوگوں کو سلام کرنا اور تجارت کا پھیل جانا ہے
حدیث نمبر: 8582
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورمة، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن الأعمش وابن أَبجَرَ (3) ، عن عبد الرحمن بن سعيد بن وهب، عن أبيه، عن حذيفة قال: كأني براكبٍ قد نَزَلَ بين أظهركم، حال بين اليتامى والأرامل وبين ما أفاء الله تعالى على آبائهم، فقال: المال لنا (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8377 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8377 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (میں نے خواب میں دیکھا) گویا کہ میں ایک سواری پر ہوں جو کہ تمہارے سامنے اتر چکی ہے، اور وہ یتیموں اور غریبوں کے درمیان اور جو اللہ تعالیٰ نے ان کے آباء کو غنیمتیں دی ہیں ان میں حائل ہو چکی ہے۔ پہر فرمایا: مال ہمارا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8582]
حدیث نمبر: 8583
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا السري بن خُزَيمة، حدثنا أبو نعيم، حدثنا بشير بن سلمان، عن سَيَّار أبي الحَكَم، عن طارق بن شهاب قال: كنا عند عبد الله بن مسعود جلوسًا، فجاء آذنه فقال: قد قامت الصلاة، فقام وقمنا معه، فدَخَلْنا المسجد فرأى الناسَ ركوعًا في مقدَّم المسجد، فكبر وركع ومشى، وفعلنا مثل ما فعل، قال: فمرَّ رجلٌ مسرِعٌ، فقال: السلام عليكم أبا عبد الرحمن، فقال: صدق الله وبَلَّغ رسوله، فلما صلينا رجع فوَلَجَ أهله وجلسنا في مكانه ننتظره حتى يخرج، فقال بعضنا البعض: أيكم يسأله؟ فقال طارق: أنا أسأله، فسأله طارقٌ فقال: سَلَّم عليك الرجلُ فردَدْتَ عليه: صدق الله وبلَّغ رسوله، فقال عبد الله: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ بين يدي الساعةِ تسليم الخاصَّةِ، وفُشُوَّ التِّجارة حتى تُعِينَ المرأة زوجها على التجارة، وحتى يخرجَ الرَّجلُ بماله إلى أطراف الأرض فيرجع فيقول: لم أربَحْ شيئًا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8378 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8378 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
طارق بن شہاب فرماتے ہیں: ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ کا مؤذن آیا اور کہنے لگا: جماعت کھڑی ہو چکی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، ان کے ہمراہ ہم بھی کھڑے ہو گئے، ہم لوگ مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے دیکھا کہ لوگ تو رکوع میں جا چکے ہیں، آپ نے مسجد میں داخل ہوتے ہی اللہ اکبر کہا، اور رکوع کیا اور چل پڑے، ہم نے ان کی پیروی میں اسی طرح کیا، ایک آدمی تیز چلتا ہوا، ان کے پاس سے گزرا اور اس نے آپ کا نام لے کر آپ کو سلام کیا، آپ نے کہا ” اللہ تعالیٰ نے سچ کہا اور اس کے رسول نے لوگوں تک پہنچا دیا “۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو واپس آ گئے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے گھر تشریف لے گئے، ہم اپنی جگہوں پر بیٹھ کر آپ کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگ گئے، لوگ آپس میں کہنے لگے کہ تم میں سے کون شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کرے گا؟ طارق فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں پوچھوں گا، (جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ واپس تشریف لائے تو) طارق نے ہی ان سے سوال کیا، ایک آدمی نے آپ کو سلام کیا، آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور کہا: اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسول نے پہنچا دیا ہے۔ (اس کی کیا وجہ ہے؟) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب قیامت قریب ہو گی لوگ صرف جان پہچان والوں کو سلام کیا کریں گے، تجارت عام ہو جائے گی حتی کہ تجارتی معاملات میں عورتیں اپنے شوہروں کی معاونت کریں گی، بندہ اپنا مال لے کر پوری دنیا گھومے گا، لوٹ کر واپس آئے گا تو کہے گا۔ (اس سفر میں) مجھے کوئی منافع نہیں ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8583]