🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. إِيَّاكَ وَالْفِتَنَ لَا يَشْخَصْ لَهَا أَحَدٌ
فتنوں سے بچو، ان کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8590
أخبرني محمد بن علي الصنعاني بمكة حرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أبي إسحاق، عن عُمارة بن عَبْدٍ، عن حذيفة قال: إياك والفتن، لا يَشخَص لها أحدٌ، فوالله ما شَخَصَ لها أحدٌ إِلَّا نَسَفته كما يَنسِفُ السَّيلُ الدَّمْنَ، إنها مُشبِّهَةٌ مُقبلة، حتى يقول الجاهل: هذه تُشبه (1) ، وتبين مدبرةً، فإذا رأيتموها فاحتموا في بيوتكم، واكسروا سيوفكم، وقَطِّعوا أَوتاركم، وغَطُّوا وجوهكم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8385 - صحيح
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: فتنوں سے بچو! کوئی بھی ان کے سامنے سینہ تان کر نہ کھڑا ہو، کیونکہ اللہ کی قسم، جو بھی ان کے سامنے کھڑا ہوگا یہ اسے ایسے بہا لے جائیں گے جیسے سیلاب گوبر (یا کوڑے کے ڈھیر) کو بہا لے جاتا ہے، یہ فتنے آتے وقت مشتبہ ہوتے ہیں یہاں تک کہ جاہل پکار اٹھتا ہے: یہ تو (حق سے) مشابہ ہے، اور جاتے وقت حقیقت واضح کر دیتے ہیں، پس جب تم انہیں دیکھو تو اپنے گھروں میں دبک جاؤ، اپنی تلواریں توڑ ڈالو، اپنی کمانوں کے تانت کاٹ دو اور اپنے چہرے ڈھانپ لو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8590]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، عمارة بن عبدٍ لم يرو عنه غير أبي إسحاق» [ترقيم الرساله 8590] [ترقيم الشركة 8487] [ترقيم العلميه 8385]

الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8591
وأخبرني أبو عبد الله الصَّنعاني، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب قال: ثارت الفتنة الأولى فلم يبقَ ممَّن شَهِدَ بدرًا أَحدٌ، ثم كانت الفتنةُ الثانية فلم يبق ممَّن شهد الحديبية أحدٌ، وأظنُّ لو كانت فتنة ثالثةٌ لم ترتفع وفي الناس طَبَاخٌ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8386 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: پہلا فتنہ (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت) برپا ہوا تو اس نے بدر میں شریک ہونے والوں میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا، پھر دوسرا فتنہ (واقعہ حرہ) پیش آیا تو اس نے حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں سے کسی کو (زندہ) نہ چھوڑا، اور میرا گمان یہ ہے کہ اگر تیسرا فتنہ برپا ہوا تو وہ اس حال میں ختم ہوگا کہ لوگوں میں کوئی طاقت اور سمجھ بوجھ باقی نہیں رہے گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8591]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8591] [ترقيم الشركة 8488] [ترقيم العلميه 8386]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8592
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وَهْب، حدثني أبو شُريح، عن عَمِيرة (1) بن عبد الله المَعافِري، عن أبيه، عن عمرو بن الحَمِق، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"ستكون فتنةٌ أسلم الناس فيها - أو قال: خيرُ الناس فيها - الجُنْدُ الغَربي"؛ فلذلك قَدِمتُ مصر (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8387 - صحيح
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ برپا ہوگا جس میں سب سے زیادہ سلامت رہنے والے لوگ - یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہتر لوگ - اہل مغرب کا لشکر ہوگا؛ (راوی کہتے ہیں) اسی وجہ سے میں مصر آ گیا ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8592]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة عميرة بن عبد الله ووالده» [ترقيم الرساله 8592] [ترقيم الشركة 8489] [ترقيم العلميه 8387]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں