المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
48. ذِكْرُ عَلَامَاتِ خُرُوجِ الدَّجَّالِ
دجال کے خروج کی علامات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8625
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا عثمان بن عمر: وأخبرنا ابن جُرَيج، عن ابن أبي مُلَيكة قال: غَدَوتُ على ابن عباس ذات يوم، فقال: ما نمتُ البارحة حتى أصبحتُ، قلت: لِمَ؟ قال: قالوا: طَلَعَ الكوكبُ ذو الذَّنَب، فخَشِيتُ أن يكون الدُّخَانُ قد طَرَقَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، غير أنه على خلاف عبد الله بن مسعود: أنَّ آية الدُّخَان قد مَضَى (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8419 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، غير أنه على خلاف عبد الله بن مسعود: أنَّ آية الدُّخَان قد مَضَى (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8419 - على شرط البخاري ومسلم
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں: میں ایک دن صبح سویرے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ میں گزشتہ تمام رات جاگتا رہا، میں نے وجہ پوچھی، آپ نے فرمایا: دمدار ستارہ طلوع ہو چکا ہے، مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں دجال نازل نہ ہو جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8625]
حدیث نمبر: 8626
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا الليث بن سعد، عن أبي قبيل، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: للدَّجّال آياتٌ معلومات: إذا غارتِ العُيون، ونَزَفَت الأنهار، واصفرَّ الرَّيحان، وانتقَلَت مَدْحِجُ وهَمْدانُ من العراق فنزلت قنَّسرين، فانتظروا الدَّجال غاديًا أو رائحًا (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8420 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8420 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: دجال کی کچھ مشہور نشانیاں ہیں، جب چشمے برباد ہو جائیں، دریا خشک ہو جائیں، پھول مرجھا جائیں، مذحج اور ہمدان عراق سے نکل جائیں، اور قنسرین میں چلے جائیں، تو تم دجال کا انتظار کرو، وہ کسی بھی صبح یا شام میں ظاہر ہو جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8626]
حدیث نمبر: 8627
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن شَريك البزّار، حدثنا أبو الجُماهر، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادة، عن عُقبة بن عمرو بن أوس السَّدُوسي قال: أَتينا عبد الله بن عمرو بن العاص وعليه بُرْدانِ قِطْريَّانِ وعليه عمامةٌ، وليس عليه سِرْبال - يعني القميص - فقلنا له: إنك قد رَوَيتَ عن رسول الله ﷺ ورَوَيتَ الكتب، فقال: ممَّن أنتم؟ قال: فقلنا: من أهل العراق، فقال: إنكم يا أهل العراق تكذبون وتُكذِّبون وتَسخَرون، قال: فقلت: لا والله لا نُكذِّبُك ولا نكذبُ عليك ولا نسخرُ منك، قال: فإنَّ بني قنطُوراء وكركرى (1) لا يخرجون حتى يربطوا خيولهم بنخل الأُبُلّة، كم بينها وبين البصرة؟ قال: فقلنا: أربعةُ فراسخ، قال: فيبعثون أن خلُّوا بيننا وبينها، قال: فيَلحَقُ ثلثٌ بهم، وثلثٌ بالكوفة، وثلثٌ بالأعراب، ثم يبعثون إلى أهل الكوفة: أن خلُّوا بيننا وبينها، فيلحقُ بهم ثلثٌ، وثلثٌ بالأعراب، وثلثٌ بالشام، قال: فقلنا: ما أَمَارَةُ ذلك؟ قال: إِذا طَبَّقَتِ الأرضَ إمارةُ الصِّبيان (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8421 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8421 - صحيح
عمرو بن اوس سدوسی بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، انہوں نے دو قطری چادریں زیب تن کی ہوئی تھیں، سر پر عمامہ سجایا ہوا تھا، قمیص نہیں پہنی ہوئی تھی، ہم نے ان سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کی احادیث روایت کرتے ہیں اور آپ دیگر کتابیں بھی روایت کرتے ہیں۔ آپ نے کہا: تم کون ہو؟ عمرو بن اوس سدوسی کہتے ہیں: ہم نے بتایا کہ ہم عراق سے آئے ہیں، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عراقیو! تم لوگ جھوٹ بولتے ہو، اور دوسروں کو جھٹلاتے بھی ہو، اور تم ہنسی مذاق کرتے ہو، میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، نہ ہم نے آپ کے سامنے کوئی جھوٹ بولا اور نہ ہم آپ کو جھٹلاتے ہیں اور نہ ہم آپ سے مذاق کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: بنی قنطوراء اور کرکی اس وقت تک نہیں نکلیں گے جب تک ان کے گھوڑے ایلہ کے درختوں کے ساتھ نہیں باندھے جائیں گے، ایلہ اور بصرہ کے درمیان کتنی مسافت ہے؟ ہم نے کہا: 4 فرسخ، آپ نے فرمایا: ان کو پیغام بھیج دو کہ وہ وہاں تک ہمارا راستہ خالی کر دیں، آپ نے فرمایا: ان کی ایک تہائی قوم ان سے مل جائے گی، ایک تہائی کوفہ میں چلے جائیں گے اور ایک تہائی دیہاتوں میں چلے جائیں گے۔ پھر اہل کوفہ کی جانب پیغام بھیجیں گے، تو وہاں کے ایک تہائی لوگ ان سے مل جائیں گے، ایک تہائی دیہاتوں میں چلے جائیں گے اور ایک تہائی شام میں چلے جائیں گے۔ ہم نے کہا: اس کی نشانی کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جب زمین پر بچوں کی حکومتیں آ جائیں گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8627]