المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
48. ذِكْرُ عَلَامَاتِ خُرُوجِ الدَّجَّالِ
دجال کے خروج کی علامات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8626
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا الليث بن سعد، عن أبي قبيل، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: للدَّجّال آياتٌ معلومات: إذا غارتِ العُيون، ونَزَفَت الأنهار، واصفرَّ الرَّيحان، وانتقَلَت مَدْحِجُ وهَمْدانُ من العراق فنزلت قنَّسرين، فانتظروا الدَّجال غاديًا أو رائحًا (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8420 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8420 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دجال کی کچھ معلوم نشانیاں ہیں: ”جب چشمے خشک ہو جائیں، نہریں خالی ہو جائیں، خوشبودار پودے زرد پڑ جائیں، اور قبائلِ مذحج و ہمدان عراق سے کوچ کر کے قنسرین میں آ بسیں، تو اس وقت صبح و شام دجال کے خروج کا انتظار کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8626]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8626]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه، فعبد الله بن صالح سيئ الحفظ، وقد خالفه رشدين بن سعد وهو مثله سيئ الحفظ، فرواه عند نعيم بن حماد في "الفتن" (1473) عن عبد الله بن لهيعة، عن أبي قبيل» [ترقيم الرساله 8626] [ترقيم الشركة 8522] [ترقيم العلميه 8420]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 8627
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عُبيد بن شَريك البزّار، حدثنا أبو الجُماهر، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادة، عن عُقبة بن عمرو بن أوس السَّدُوسي قال: أَتينا عبد الله بن عمرو بن العاص وعليه بُرْدانِ قِطْريَّانِ وعليه عمامةٌ، وليس عليه سِرْبال - يعني القميص - فقلنا له: إنك قد رَوَيتَ عن رسول الله ﷺ ورَوَيتَ الكتب، فقال: ممَّن أنتم؟ قال: فقلنا: من أهل العراق، فقال: إنكم يا أهل العراق تكذبون وتُكذِّبون وتَسخَرون، قال: فقلت: لا والله لا نُكذِّبُك ولا نكذبُ عليك ولا نسخرُ منك، قال: فإنَّ بني قنطُوراء وكركرى (1) لا يخرجون حتى يربطوا خيولهم بنخل الأُبُلّة، كم بينها وبين البصرة؟ قال: فقلنا: أربعةُ فراسخ، قال: فيبعثون أن خلُّوا بيننا وبينها، قال: فيَلحَقُ ثلثٌ بهم، وثلثٌ بالكوفة، وثلثٌ بالأعراب، ثم يبعثون إلى أهل الكوفة: أن خلُّوا بيننا وبينها، فيلحقُ بهم ثلثٌ، وثلثٌ بالأعراب، وثلثٌ بالشام، قال: فقلنا: ما أَمَارَةُ ذلك؟ قال: إِذا طَبَّقَتِ الأرضَ إمارةُ الصِّبيان (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8421 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8421 - صحيح
عقبہ بن عمرو بن اوس سدوسی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، وہ دو دھاری دار چادریں اوڑھے ہوئے تھے اور ان کے سر پر عمامہ تھا لیکن انہوں نے قمیص نہیں پہنی تھی، ہم نے ان سے عرض کیا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کی ہیں اور سابقہ کتابوں کا علم بھی رکھتے ہیں، انہوں نے پوچھا: ”تم کہاں سے ہو؟“ ہم نے کہا: اہل عراق سے، انہوں نے فرمایا: ”اے اہل عراق! تم جھوٹ بولتے ہو، جھٹلاتے ہو اور تمسخر کرتے ہو،“ میں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ہم نہ آپ کو جھٹلاتے ہیں، نہ آپ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور نہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”یقیناً بنو قنطوراء اور کرکری اس وقت تک خروج نہیں کریں گے جب تک وہ اپنے گھوڑے مقامِ ابلہ کے کھجور کے درختوں سے نہ باندھ دیں،“ پھر پوچھا: ”ابلہ اور بصرہ کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟“ ہم نے کہا: چار فرسخ، انہوں نے فرمایا: ”پھر وہ دشمن مطالبہ کریں گے کہ ہمارے اور بصرہ کے درمیان سے ہٹ جاؤ، تو ایک تہائی لوگ ان سے جا ملیں گے، ایک تہائی کوفہ چلے جائیں گے اور ایک تہائی دیہاتیوں سے جا ملیں گے، پھر وہ دشمن اہل کوفہ کو پیغام بھیجیں گے کہ ہمارے اور کوفہ کے درمیان سے ہٹ جاؤ، تو ایک تہائی ان سے جا ملیں گے، ایک تہائی دیہاتیوں سے جا ملیں گے اور ایک تہائی شام چلے جائیں گے،“ ہم نے پوچھا: اس کی علامت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”جب روئے زمین پر بچوں کی حکمرانی چھا جائے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8627]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8627]
تخریج الحدیث: «صحيح عن عبد الله بن عمرو بن العاص، وهذا إسناد ضعيف لضعف سعيد بن بشير، وقد خولف فيه عن قتادة، حيث جعله من روايته عن عقبة بن عمرو بن أوس، وكذا وقع مسمّى هنا في رواية أبي الجماهر» [ترقيم الرساله 8627] [ترقيم الشركة 8523] [ترقيم العلميه 8421]
الحكم على الحديث: صحيح عن عبد الله بن عمرو بن العاص
حدیث نمبر: 8628
أخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حرسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهري، عن أبي إدريس الخَولاني، قال: أدركتُ أبا الدرداء ووَعَيتُ عنه، وأدركتُ عُبادة بن الصامت ووَعَيتُ عنه، وفاتني معاذُ بن جبل، فأخبرني يزيدُ بن عَمِيرة: أنه كان يقول في كل مجلس يجلسُه: اللهُ حَكَمٌ قِسط تبارك اسمُه، هَلَكَ المُرتابون، إنَّ من ورائكم فتنًا يَكثُر فيها المال، ويُفتح فيها القرآنُ حتى يأخذه الرجلُ والمرأة، والحرُّ والعبد، والصغيرُ والكبير، فيوشكُ الرجل أن يقرأ القرآن [فيقول: قد قرأتُ القرآن، فما للناس لا يتَّبعوني وقد قرأتُ القرآن؟!] (1) ثم يقول: ما هم مُتَّبِعيَّ حتى أبتدع لهم غيره، فإياكم وما ابتدعتُم، فإنَّ ما ابتدعَ ضلالةٌ. اتقوا زَلَّةَ الحكيم، فإنَّ الشيطان يُلقي على فمِ الحَكيم الضلالةَ، ويُلقي للمنافق كلمةَ الحق، قال: قلنا: وما يدريك - يرحمُك الله - أنَّ المنافق يُلقَّى كلمة الحق، وأنَّ الشيطان يُلقي على فم الحكيم كلمة الضلالة؟ قال: اجتنبوا من كلام الحكيم كلَّ متشابهٍ، الذي إذا سمعته قلت: ما هذا؟ ولا يُثنيك [ذلك] عنه، فإنه لعله أن يراجع ويُلقَّى الحقَّ، فاسمعه فإنه على الحق نورٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8422 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8422 - على شرط البخاري ومسلم
ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو پایا اور ان سے علمی فیض حاصل کیا، اور میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو بھی پایا اور ان سے احادیث یاد کیں، البتہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات نہ ہو سکی، چنانچہ یزید بن عمیرہ نے مجھے بتایا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جس مجلس میں بھی بیٹھتے تھے تو یہ ضرور کہتے تھے: «اللَّهُ حَكَمٌ قِسْطٌ، تَبَارَكَ اسْمُهُ، هَلَكَ الْمُرْتَابُونَ» ”اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والا عادل حاکم ہے، اس کا نام بڑی برکت والا ہے، اور شک کرنے والے ہلاک ہو گئے“، (وہ مزید کہتے کہ) بے شک تمہارے بعد ایسے فتنے آنے والے ہیں جن میں مال کی کثرت ہوگی، اور قرآن کو (پڑھنا اتنا عام اور) کھول دیا جائے گا کہ اسے مرد، عورت، آزاد، غلام، چھوٹا اور بڑا سبھی حاصل کر لیں گے، تو عنقریب ایک آدمی قرآن پڑھے گا تو وہ (اپنے جی میں) کہے گا: ”میں نے قرآن پڑھ لیا ہے، مگر کیا بات ہے کہ لوگ میری پیروی نہیں کر رہے حالانکہ میں قرآن پڑھ چکا ہوں؟!“ پھر وہ کہے گا: ”لوگ اس وقت تک میری پیروی نہیں کریں گے جب تک میں ان کے لیے قرآن کے علاوہ کوئی نئی چیز (بدعت) ایجاد نہ کر لوں“، پس تم اپنے خود ساختہ نئے کاموں (بدعات) سے بچو، کیونکہ ہر ایجاد کردہ نئی بات گمراہی ہے۔ اور دانا (حکیم) کی لغزش سے بچو، کیونکہ شیطان دانا شخص کی زبان پر گمراہی کی بات ڈال دیتا ہے، جبکہ کبھی منافق کی زبان پر حق کی بات جاری کر دیتا ہے، (یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ) ہم نے عرض کیا: (اے معاذ!) اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ کو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ منافق حق بات کہہ رہا ہے اور شیطان نے دانا شخص کی زبان پر گمراہی کی بات ڈال دی ہے؟ انہوں نے فرمایا: دانا شخص کی کلام میں سے ہر اس مشتبہ (الجھن والی) بات سے بچو جسے سن کر تم پکار اٹھو کہ ”یہ کیسی بات ہے؟“ لیکن (صرف اس لغزش کی وجہ سے) تم اس دانا شخص سے بالکل منہ نہ موڑو، کیونکہ بہت ممکن ہے کہ وہ اپنی اس بات سے رجوع کر لے اور اسے دوبارہ حق کی توفیق مل جائے، پس تم حق بات کو سنو کیونکہ حق پر ایک نور ہوتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8628]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8628]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8628] [ترقيم الشركة 8524] [ترقيم العلميه 8422]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح