🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. ذِكْرُ خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
سیدنا مہدی علیہ السلام کے ظہور کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8639
أخبرنا أبو حفص أحمد بن أحيد (1) الفقيه ببُخارى، أخبرنا أبو هارون سهل بن شاذان، حدثنا يحيى بن جعفر، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"خيرُ الناس في الفتن رجلٌ آخذٌ بعِنَان - أو قال: برَسَن - فرسِه خلف أعداء الله، يُخيفُهم ويُخيفونَه، أو رجلٌ معتزل في باديته يؤدِّي حق الله عليه" (2) .
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8433 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فتنوں کے زمانے میں سب سے اچھا وہ شخص ہو گا جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ کر اللہ کے دشمنوں کے پیچھے ہو گا، وہ ان کو ڈرا رہا ہو گا اور وہ اس کو ڈرا رہے ہوں گے، یا وہ شخص جو جنگل میں الگ تھلگ ہو کر اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے حقوق پورا کرنے میں مصروف ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8639]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8640
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد عثمان بن سعيد القرشي، حدثنا يزيد بن محمد الثَّقفي، حدثنا حنان بن سَدِير، عن عمرو بن قيس، عن الحَكَم، عن إبراهيم، عن علقمة بن قيس وعبيدة السَّلماني، عن عبد الله بن مسعود قال: أتينا رسول الله ﷺ فخرج إلينا مستبشرًا يُعرَفُ السُّرورُ في وجهه، فما سألناه عن شيء إلَّا أخبرنا به، ولا سَكتنا إلَّا ابتدأَنا، حتى مرَّت فتيةٌ من بني هاشم فيهم الحسن والحسين، فلما رآهم خَثَرَ لمَمَرَّهم وانهملَت عيناه، فقلنا: يا رسول الله، ما نزال نرى في وجهك شيئًا نَكرَهُه، فقال:"إِنَّا أهلُ بيتٍ اختار الله لنا الآخرة على الدنيا، وإنه سيَلقَى أهلُ بيتي من بعدي تطريدًا وتشريدًا في البلاد، حتى تُرفَعَ رايات سودٌ من المشرق، فيسألون الحقَّ فلا يُعطونه، ثم يسألونه فلا يُعطونه، فيُقاتلون فيُنصرون، فمن أدركه منكم أو من أعقابكم فليأتِ إمامَ أهل بيتي ولو حَبوًا على الثَّلج، فإنها راياتُ هدى يدفعونها إلى رجل من أهل بيتي يواطئُ اسمُه اسمي، واسمُ أبيه اسمَ أبي، فيَملِكُ الأرضَ فيملؤُها قسطًا وعَدْلًا كما مُلِئَت جَوْرًا وظُلمًا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8434 - هذا موضوع
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاشانہ اقدس پر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش خوش ہماری طرف تشریف لائے، آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار بالکل نمایاں تھے، ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بھی نہیں پوچھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہم سے بات کرنا شروع فرما دی، اسی اثناء میں بنی ہاشم کے کچھ نوجوان وہاں سے گزرے، ان میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما بھی تھے، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو ان کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور آپ کی آنکھیں نم ہو گئیں، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اہل بیت کے لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی ہے، میرے بعد میرے اہل بیت کو شہروں سے جلاوطنی اور تفریق، کا سامنا ہو گا، حتی کہ مشرق کی جانب سے کالے جھنڈوں والی جماعت نمودار ہو گی، وہ حق مانگیں گے لیکن ان کو حق نہیں دیا جائے گا، وہ پھر اپنا حق مانگیں گے، لیکن پھر بھی نہیں دیا جائے گا، وہ پھر مانگیں گے، لیکن پھر بھی نہیں دیا جائے گا، پھر وہ جہاد شروع کر دیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو فتح سے ہمکنار کرے گا، تم میں سے جو بھی ان کو پائے، یا تمہاری نسلوں میں کوئی ان کو پائے تو اس کو چاہئے کہ وہ میرے اہل بیت کے سامنے آئے، اگرچہ اس کو برف پر چوتڑوں کے بل گھسٹ کر ہی آنا پڑے، کیونکہ وہ ہدایت کے جھنڈے ہوں گے، وہ سب میرے اہل بیت کے ایک آدمی کو دیئے جائیں گے جس کا نام (وہی ہو گا جو) میرا نام ہے، جس کے والد کا نام (بھی وہی ہو گا) جو میرے والد کا نام ہے۔ وہ زمین کا مالک ہو گا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جس طرح کہ اس کے آنے سے پہلے زمین ظلم و ستم سے بھری ہو گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8640]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8641
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورمة، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن زيد بن وَهْب، عن حُذيفة قال: أتتكم الفتنةُ تَرمي بالرَّضْف (2) ، أتتكم الفتنةُ السوداءُ المُظلمة، إنَّ للفتنة وَقَفَاتٍ وبَعَثاتٍ، فمن استطاع منكم أن يموتَ في وَقَفاتها فليفعل (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8435 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تمہارے پاس ایک فتنہ آئے گا، جس میں سنگ باری ہو گی، پھر تمہارے پاس ایک کالا سیاہ فتنہ آئے گا، فتنوں میں اتار چڑھاؤ ہوتے رہیں گے، ان کے وقفوں میں جو مر سکتا ہو، وہ مر جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8641]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8642
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا عمرو بن عثمان الكلابي، حدثنا عبيد الله (1) بن عمرو، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهري، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"تكون فتنةٌ يقتتلون عليها على دعوى جاهليةٍ، قتلاها في النار" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8436 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسا فتنہ ہو گا، لوگ اس میں زمانہ جاہلیت کے دعوں کی طرح دعوی پر قتال کریں گے، اس کے مقتولین سب دوزخی ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8642]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں