المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
63. ذِكْرُ فَتْحِ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ
فتحِ قسطنطنیہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8678
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، عن ثَور بن زَيْد (1) ، عن أبي الغَيْث، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"هل سمعتُم بمدينةٍ جانبٌ منها في البَرِّ وجانبٌ منها في البحر؟" فقالوا: نعم يا رسول الله، قال:"لا تقومُ الساعةُ حتى يَغزُوَها سبعون ألفًا من بني إسحاق، حتى إذا جاؤوها نَزَلوا، فلم يُقاتِلوا بسلاحٍ ولم يَرمُوا بسَهُم" قال:"فيقولون: لا إلهَ إلَّا الله والله أكبر، فيَسقُط أحدُ جانبيها - قال ثَوْر: ولا أعلمه إلَّا قال: جانبُها الذي يَلي البرَّ - ثم يقولون الثانيةَ: لا إله إلَّا الله والله أكبر، فيَسقُط جانبُها الآخرُ، ثم يقولون الثالثة: لا إله إلَّا الله والله أكبر، فيُفرَجُ لهم، فيدخلونها فيغنَمُون، فبينما هم يقتسمون الغنائمَ إذْ جاءهم الصَّريخ: أَنَّ الدَّجّال قد خَرَجَ، فيتركون كلَّ شيء ويَرجِعون" (1) . فقال (2) : إنَّ هذه المدينة هي القُسطنطينيَّة، وقد صحَّت الروايةُ أنَّ فتحها مع قيام الساعة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8469 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8469 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے ایسے شہر کے بارے میں سنا ہے جس کا ایک حصہ خشکی پر اور دوسرا حصہ سمندر میں ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بنو اسحاق کے ستر ہزار افراد اس پر چڑھائی نہ کر دیں، جب وہ وہاں پہنچیں گے تو پڑاؤ ڈالیں گے، وہ نہ تو ہتھیاروں سے قتال کریں گے اور نہ ہی تیر چلائیں گے، بلکہ وہ (بلند آواز سے) کہیں گے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے)، تو اس کا ایک حصہ گر جائے گا — راوی ثور کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خشکی کی جانب والا حصہ مراد لیا تھا — پھر وہ دوسری مرتبہ کہیں گے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ»، تو اس کا دوسرا حصہ گر جائے گا، پھر وہ تیسری مرتبہ کہیں گے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ»، تو ان کے لیے راستہ کھول دیا جائے گا، وہ اس میں داخل ہو کر مالِ غنیمت حاصل کریں گے، ابھی وہ غنیمتیں تقسیم کر ہی رہے ہوں گے کہ اچانک ایک پکارنے والا چیخ کر کہے گا کہ دجال نکل آیا ہے، تو وہ سب کچھ چھوڑ کر واپس لوٹ جائیں گے۔“
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ شہر قسطنطنیہ ہے، اور یہ روایت صحیح ثابت ہے کہ اس کی فتح قیامت کے قائم ہونے کے قریب ہی ہوگی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8678]
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ شہر قسطنطنیہ ہے، اور یہ روایت صحیح ثابت ہے کہ اس کی فتح قیامت کے قائم ہونے کے قریب ہی ہوگی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8678]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، لكن قوله فيه: "من بني إسحاق" غلط كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8678] [ترقيم الشركة 8571] [ترقيم العلميه 8469]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح