🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

62. إِخْبَارُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بِإِنْقَاضِ يَزِيدَ الْبَيْتَ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی یزید کے ہاتھوں بیت اللہ کی بے حرمتی کی خبر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8668
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد الحفيد، حدثنا جدِّي، حدثنا أبو كُريب، أخبرنا أبو معاوية، عن أبي مالك الأشجعي، عن ربعي، عن حُذيفة قال: قال رسول الله ﷺ:"يَدرُسُ الإسلامُ كما يَدرُسُ وَشْيُ الثوب، حتى لا يُدرَى ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك، ويُسرَى على كتاب الله في ليلةٍ فلا يبقى في الأرض منه آيةٌ، ويبقى طوائفُ من الناس؛ الشيخُ الكبير والعجوزُ الكبيرة يقولون: أدركنا آباءنا على هذه الكلمة، فنحن نقولها". قال صِلَةُ بن زُفَر لحذيفة: فما تُغني عنهم لا إلهَ إِلَّا الله وهم لا يدرون ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك؟ فأعرضَ عنه حذيفةُ، فردَّدها عليه ثلاثًا، كلَّ ذلك يُعرِضُ عنه حذيفةُ، ثم أقبل عليه في الثالثة فقال: يا صِلةُ، تُنجيهم من النار، تُنجيهم من النار، تُنجيهم من النار (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8460 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کے نشانات مٹتے رہیں گے جیسے کسی کپڑے کے نقش و نگار مٹ جاتے ہیں، حتی کہ پتا نہیں چلے گا کہ روزہ کیا ہے، زکوۃ کیا ہے اور قربانی کیا ہے؟ ایک ہی رات میں کتاب اللہ کی تمام آیات مٹا دی جائیں گی، پوری روئے زمین پر ایک آیت تک نہ بچے گی، کچھ بوڑھے مرد اور کچھ بوڑھی عورتیں ہوں گی وہ بتایا کریں گی کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھتے ہوئے سنا ہے، ہم بھی یہی کلمہ پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا صلہ بن زفر نے سیدنا حذیفہ سے کہا: ان لوگوں کو کلمہ کیا فائدہ دے گا جب کہ ان کو روزہ، صدقہ اور قربانی کا تو کچھ پتا نہیں ہو گا؟ سیدنا حذیفہ نے ان سے اس بات سے اعراض کر لیا، صلہ بن زفر نے تین مرتبہ یہی بات کہی اور سیدنا حذیفہ نے تینوں بار اعراض کیا، پھر تیسری مرتبہ ان کی جانب متوجہ ہو کر بولے: اے صلہ! وہ کلمہ ان لوگوں کو دوزخ سے نجات دلائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8668]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8669
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا ابن عَوْن، عن خالد بن الحُوَيرِث، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ قال:"الآيات خَرَزاتٌ منظوماتٌ في سِلْكٍ، يُقطَعُ السَّلكُ فيَتبَعُ بعضُها بعضًا". قال خالد بن الحويرث: كنا نادِينَ بالصَّبَاح، وهناك عبدُ الله بن عمرو، وهناك امرأةٌ من بني المغيرة يقال لها: فاطمة، فسمعَتْ عبد الله بن عمرو يقول: ذاك يزيدُ ابن معاوية، فقالت: أكذاكَ يا عبد الله بن عمرو تجده مكتوبًا في الكتاب؟ قال: لا أجدُه باسمه، ولكن أجدُ رجلًا من شجرة معاوية يسفكُ الدماء ويستحلُّ الأموال، ويَنقُضُ هذا البيتَ حَجرًا حَجرًا، فإن كان ذاكِ وأنا حيٌّ وإلَّا فاذكُريني. قال: وكان منزلُها على أبي قبيس، فلما كان زمنُ الحجّاج وابنِ الزُّبير ورأت البيتَ يُنقَضُ، قالت: رَحِمَ اللهُ عبد الله بن عمرو، قد كان حدَّثنا بهذا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8461 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آیات ایک دھاگے میں پروئے ہوئے نگینے ہیں، ان میں سے ایک ٹوٹ جائے تو سب ایک دوسرے کے پیچھے چلے آتے ہیں۔ سیدنا خالد بن حویرث فرماتے ہیں: ہم صبح کے وقت ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بھی تھے، وہاں پر بنی مغیرہ کی ایک عورت بھی تھی، اس کو فاطمہ کہا جاتا تھا، میں نے عبداللہ بن عمرو کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ یزید بن معاویہ ہے۔ اس عورت نے کہا: اے عبداللہ بن عمرو! کیا تم کتاب اللہ میں اسی طرح لکھا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں کتاب اللہ میں اس کو اس نام کے ساتھ تو نہیں پاتا ہوں، تاہم معاویہ کی نسل میں ایک ایسا آدمی پاتا ہوں، جو قتل و غارت گری کرے گا، جو لوگوں کے مال حلال سمجھے گا، اس گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گا، اگر اس کی حکومت کے وقت تک میں زندہ رہا تو فبہا، ورنہ تو مجھے یاد کر لینا، آپ فرماتے ہیں: ان کی رہائش، ابوقبیس پر تھی، جب حجاج اور ابن زبیر کا زمانہ آیا اور اس عورت نے دیکھا کہ بیت اللہ کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے تو بولی: اللہ تعالیٰ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ پر رحمت فرمائے، اس نے یہ حالات ہمیں پہلے ہی بتا دیئے تھے۔ٓ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8669]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8670
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم الأصفهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن أبي إسحاق، عن زيد بن يُثَيع، عن حُذيفة قال: كيف بكم إذا سُئِلتُم الحقَّ فأعطيتُموه، وسألتم حقَّكم فمُنِعتُموه؟ قال: نَصبِرُ، قال: دَخَلتموها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8462 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم اس وقت کیا کرو گے، جب تم سے حق مانگا جائے گا اور تم دے دو گے، لیکن جب تم اپنا حق مانگو گے تو تمہیں نہیں ملے گا؟ لوگوں نے کہا: ہم صبر کریں گے، آپ نے فرمایا: رب کعبہ کی قسم ہے تب تم جنت میں جاؤ گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8670]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8671
أخبرنا أبو النَّضر محمد بن محمد الفقيه وأبو الحسن أحمد بن محمد العنزي قالا: حدثنا معاذ بن نَجْدَة القُرشي [حدثنا خلاد بن يحيى] (2) حدثنا بشير بن المهاجر، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال:"يجيءُ قومٌ صغارُ العيون، عِراضُ الوجوه، كأنَّ وجوههم الحَجَفٌ، فيُلحقون أهل الإسلام بمنابت الشِّيح، كأني أنظرُ إليهم وقد ربطوا خيولهم بسَوارِي المسجد"، فقيل لرسول الله ﷺ: يا رسول الله، من هم؟ قال:"التُّركُ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وقد اتَّفق الشيخانِ (1) ﵄ على حديث أبي الزِّناد عن الأعرج عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال:"لا تقومُ الساعةُ حتى تقاتلوا التُّرك، عِراضَ الوجوه صغار العيون ذُلْفَ الأُنوف (2) ، كأنَّ وجوهَهم المَجَانُّ المُطرَقة".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8463 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک قوم پیدا ہو گی، جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی، چہرے چوڑے ہوں گے، ان کے چہرے چڑے کی بنی ہوئی ڈھال کی مانند ہوں گے اور اہل اسلام کو شیح (نامی گھاس) اگنے کے مقام (یعنی عرب) سے ملیں گے، گویا کہ میں ان کو دیکھ رہا ہوں، انہوں نے اپنے گھوڑے، مسجد کے ستونوں کے ساتھ باندھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ترکی لوگ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم شیخین نے ابوالزناد کے ذریعے، اعرج کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت سے پہلے تم ترکیوں سے جہاد کرو گے، ان کے چہرے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی، ان کے ناک چپٹے ہوں گے۔ ان کے چہرے ڈھال کی مانند ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8671]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8672
سمعتُ الفقيه الأديب الأوحد أبا بكر محمد بن علي القَفَّال غير مرة يقول: سمعت أبا بكر محمد بن يحيى الصُّولِيَّ النَّحْوي يقول: أولُ من مَدَحَ التُّركَ من شعراء العرب عليُّ بن العباس الرُّومي حيث يقول: إذا ثَبَتوا فسَدٌّ من حديدٍ … تَخالُ عيوننا فيهِ تَحارُ وإن بَرَزُوا فنيرانٌ تلظَّى … على الأعداء يضرِمُها (3) استِعارُ ملوكُ الأرض أعينُهم صغارٌ … إذا بَرَزُوا وأنفُسُهم كبارُ
محمد بن یحیی الصولی النحوی کہتے ہیں: عرب کے شعراء میں سب سے پہلا شخص جس نے ترک کی تعریف کی ہے، وہ علی بن عباس روی ہے اس نے کہا: ٭ جب وہ ثابت ہوتے ہیں تو لوہے کی دیوار کی طرح ہوتے ہیں، ان کی آنکھوں کی سیاہی اور سفیدی بہت گہری معلوم ہوتی ہیں۔ ٭ اور اگر وہ ظاہر ہوں تو دشمنوں پر شعلے بھڑکاتی ہوئی آگ کی طرح ہیں، جس کا دفاع ادھار لیا جاتا ہے۔ ٭ وہ زمین کے بادشاہ ہیں، جب وہ ظاہر ہوتے ہیں، ان کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہیں، اور وہ خود بڑے بڑے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8672]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8673
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله، أخبرنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن ابن سيرين، أنَّ ابن مسعود قال: كأني بالتُّرك قد أتتكم على بَراذِينَ مُخَذَّمةِ الآذان، حتى تربطها بشطِّ الفُرات (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8465 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّئِلِيُّ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: «يُوشِكُ أَنْ لَا يَبْقَى فِي أَرْضِ الْعَجَمِ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا قَتِيلٌ، أَوْ أَسِيرٌ يَحْكُمُ فِي دَمِهِ» . فَقَالَ زُرْعَةُ بْنُ ضَمْرَةَ: أَتَظْهَرُ الْمُشْرِكُونَ عَلَى الْإِسْلَامِ؟ قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَدَافَعَ مَنَاكِبُ نِسَاءِ بَنِي عَامِرٍ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ» ، قَالَ: فَذَكَرَ قَوْلَهُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَمُسْلِمٍ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گویا کہ میں ترکوں میں ہوں، وہ تمہارے پاس کئے ہوئے کانوں والے ترکی گھوڑوں پر آئیں گے، وہ ان کو دریائے فرات کے کنارے باندھیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قریب ہے کہ عجم کی سرزمین میں عرب کا صرف ایک مقتول یا قیدی بچے، اس کے بھی خون کا فیصلہ ہو جائے گا۔ سیدنا زرعہ بن ضمرہ نے کہا: کیا مشرکین، اسلام پر غالب آ جائیں گے؟ انہوں نے پوچھا: تم کس قبیلے سے ہو؟ انہوں نے کہا: بنی عامر بن صعصعہ سے۔ انہوں نے کہا: قیامت سے پہلے بنی عامر کی عورتوں کے کندھے ذی الخلصہ میں ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے۔ انہوں نے ان کی یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بتائی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عبداللہ جو کچھ کہہ رہا ہے، اس بارے میں وہ بہتر جانتا ہے، یہ بات آپ نے تین مرتبہ کہی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8673]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8674
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن عبد الله بن السَّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدثنا مُعاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قتادة، عن أبي الأسود الدِّيلِي، قال: انطلقتُ أنا وزُرْعةُ بن ضَمْرة مع أبي موسى الأشعري إلى عمر بن الخطّاب، فأتينا عبد الله بنَ عَمْرو (1) ، فجلستُ عن يمينه، وجلس زُرْعةُ عن يساره، فقال عبد الله بن عمرو: يوشكُ أن لا يبقى في أرض العجم من العرب إلّا قتيلٌ أو أسيرٌ يُحكَمُ في دمه، فقال زرعةُ بن ضَمْرة: أَيَظْهَرُ المشركون على أهل الإسلام؟ قال: ممَّن أنت؟ قال: من بني عامر بن صَعصَعة، قال: لا تقومُ الساعةُ حتى تَدافَعَ مَناكِبُ نساء بني عامر على ذي الخَلَصة. قال: فذَكَرْنا لعمر بن الخطّاب قول عبد الله بن عمرو، فقال عمر: عبدُ الله بن عَمْرو أعلمُ بما يقول؛ ثلاث مرات (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
8674 - ابو الاسود الدیلی بیان کرتے ہیں کہ: میں اور زرعہ بن ضمرہ، حضرت ابو موسیٰ اشعری (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) کی طرف روانہ ہوئے۔ (وہاں) ہم عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہما) کے پاس آئے؛ میں ان کے دائیں جانب بیٹھ گیا اور زرعہ ان کے بائیں جانب۔ عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: "قریب ہے کہ عجم کی زمین پر کوئی عرب باقی نہ رہے سوائے اس کے جو قتل کر دیا جائے یا وہ قیدی جس کے خون کا فیصلہ (دشمن کے ہاتھ میں) ہو"۔ زرعہ بن ضمرہ نے پوچھا: "کیا مشرکین اہلِ اسلام پر غالب آ جائیں گے؟" انہوں نے پوچھا: "تم کس قبیلے سے ہو؟" اس نے کہا: "بنو عامر بن صعصعہ سے"۔ انہوں نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بنو عامر کی عورتوں کے کندھے (طواف کرتے ہوئے) 'ذو الخلصہ' (بت) پر ایک دوسرے سے نہ ٹکرانے لگیں"۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہم نے حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) سے عبداللہ بن عمرو کے اس قول کا ذکر کیا، تو حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے تین مرتبہ فرمایا: "عبداللہ بن عمرو جو کہہ رہے ہیں، اسے وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں"۔ یہ حدیث شیخین (امام بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8674]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8675
أخبرنا أبو عمرو بن السَّمّاك، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن محمد بن سِيرِين، عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن عبد الله بن عمرو بن عمرو قال: يوشك بنو قَنطُورَ بن كركر أن يُخرِجوا أهل العراق من أرضهم، قلت: ثم يعودون (3) ؟ قال: إنك تشتهي ذلك؟ قال: ويكون لهم سَلْوةٌ من عَيش (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8466 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ قریب ہے کہ بنی قنطوراء بن کركر اہل عراق کو ان کی زمینوں سے نکال دیں گے، میں نے کہا، کیا وہ دوبارہ اپنے وطن واپس آ سکیں گے؟ انہوں نے کہا: کیا تم اس کی خواہش رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ ان کی آسودہ حالی بو گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8675]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8676
أخبرناه أبو عبد الله الصنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن ابن سيرين، عن عبد الرحمن بن أبي بَكْرة قال: قال عبد الله بن عمرو بن العاص: أوشك بنو قَنطورَ [أن] يُخرِجوكم من أرض العراق، قال قلت ثم نعودُ؟ قال: وذاك أحبُّ إليك؟ ثم تعودون ويكون لكم بها سَلوةٌ من عَيش (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وبنو قَنطُوراء: هم التُّرك.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قریب ہے کہ بنی قنطوراء تمہیں سرزمین عراق سے نکال دیں۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: کیا وہ دوبارہ کبھی واپس اپنے وطن آئیں گے؟ انہوں نے فرمایا: یہ بات تمہیں بہت پسند ہے؟ پھر وہ لوٹ کر بھی آئیں گے اور وہاں ان کی زندگی بہت اچھی گزرے گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور بنو قنطوراء ترکوں کو کہا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8676]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں