المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
68. إِذَا بَلَغَتْ بَنُو أُمَيَّةَ أَرْبَعِينَ، اتَّخَذُوا عِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا
جب بنو امیہ کی تعداد چالیس تک پہنچ جائے گی تو وہ اللہ کے بندوں کو اپنا غلام بنا لیں گے
حدیث نمبر: 8683
وقد حَدَّثَناه مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إبراهيم بن إسحاق وإسحاق بن الحسن الحَرْبيّان؛ قالوا: أخبرنا عفَّانُ بن مُسلِم، حدثنا حماد بن زيد، عن علي بن زيد بن جدعان، عن أبي نَضْرة قال: أَمَّنَا عثمانُ بن أبي العاص؛ ثم ذكر الحديث مثله سواء، ولم يَذكُر (4) أيوب، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8474 - هذا محفوظ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8474 - هذا محفوظ
اس اسناد کے ہمراہ بھی مذکورہ حدیث منقول ہے، اس میں ابونضرہ کا یہ بیان ہے کہ سیدنا عثمان ابن ابی العاص نے ہمیں نماز پڑھائی، اس کے بعد سابقہ حدیث کی مثل حدیث بیان کی۔ اس کی اسناد میں ایوب کا ذکر نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8683]
حدیث نمبر: 8684
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتبة أحمد بن الفَرَج الحِجازي بحِمْص، حدثنا بقيَّةُ بن الوليد، عن أبي بكر بن أبي مريم، عن راشد بن سعد، عن أبي ذرٍّ قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إذا بَلَغَت بنو أُميَّة أربعين، اتَّخَذوا عبادَ الله خَوَلًا، ومالَ اللهِ نُحْلًا، وكتابَ الله دَغَلًا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8475 - منقطع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8475 - منقطع
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب بنو امیہ (کے بادشاہوں) کی تعداد 40 تک پہنچ جائے تو یہ لوگ اللہ کے بندوں کو ” غلام “ اور اللہ کے مال کو ” عطیہ “ سمجھیں گے اور کتاب اللہ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8684]
حدیث نمبر: 8685
حدثنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا بقيَّة بن الوليد وعبد القُدُّوس بن الحَجّاج: قالا: حدثنا أبو بكر بن أبي مريم، عن راشد بن سعد، عن أبي ذرّ قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إذا بَلَغَت بنو أُميَّة أربعين، اتَّخَذوا عبادَ الله خَوَلًا، ومالَ الله نُحْلًا، وكتابَ الله دَغَلًا" (2) .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب بنو امیہ (کے بادشاہوں) کی تعداد 40 تک پہنچ جائے تو یہ لوگ اللہ کے بندوں کو ” غلام “ اور اللہ کے مال کو ” عطیہ “ سمجھیں گے اور کتاب اللہ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیں گے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس امت کی تباہی قریش کے ایک بچے کے ہاتھوں ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کے کئی شواہد اور کئی متابعات موجود ہیں، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، صحابہ کرام سے، تابعین ائمہ سے مروی ہیں، جن کو یہاں ذکر کرنا چاہئے تھا، میں نے ان میں سے کچھ بیان کر دی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8685]
حدیث نمبر: 8686
قال أبو بكر بن أبي مريم: وحدثني عمّارُ بن أبي عمّار، أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"هلاك هذه الأُمَّة على يَدَي أُغيلمةٍ من قُريش" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. لهذا الحديث توابعُ وشواهدُ عن رسول الله ﷺ، وصحابته الطاهرين والأئمَّة من التابعين لم يَسعنى إلَّا ذِكرُها، فذكرتُ بعض ما حَضَرني منها. فمنها:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. لهذا الحديث توابعُ وشواهدُ عن رسول الله ﷺ، وصحابته الطاهرين والأئمَّة من التابعين لم يَسعنى إلَّا ذِكرُها، فذكرتُ بعض ما حَضَرني منها. فمنها:
8686 - عمار بن ابی عمار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "اس امت کی ہلاکت قریش کے چند چھوکروں (نا تجربہ کار نوجوانوں) کے ہاتھوں ہوگی"۔ یہ حدیث شیخین (امام بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کے دیگر متابعات اور شواہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے پاکباز صحابہ اور ائمہ تابعین سے مروی ہیں جن کا ذکر کرنا میرے لیے ضروری تھا، چنانچہ ان میں سے جو مجھے اس وقت یاد آئے وہ میں نے ذکر کر دیے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8686]
حدیث نمبر: 8687
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق. وحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنظَلي ومحمد بن رافع القُشَيري وسَلَمة بن شبيب المُستَمْلي قالوا: حدثنا عبد الرزاق بن همام الإمامُ الهُمَام (1) قال: حدثني أبي، عن مِيناء مولى عبد الرحمن بن عوف، عن عبد الرحمن بن عوف قال: كان لا يولدُ لأحدٍ مولودٌ إِلَّا أتي به النبي ﷺ فدعا له، فأُدخل عليه مروانُ بن الحَكَم فقال:"هو الوَزَغُ ابن الوَزَغ، الملعونُ ابن الملعون" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومنها:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومنها:
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس کسی کے ہاں بھی بچہ پیدا ہوتا، وہ اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لاتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے دعا فرماتے، اسی طرح مروان بن حکم کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا، آپ نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ وزغ بن وزغ (بزدل باپ کا بزدل بیٹا) ہے، ملعون ابن ملعون (لعنتی باپ کا لعنتی بیٹا) ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8687]
حدیث نمبر: 8688
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكُوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري القاضي، حدثنا جعفر بن محمدٍ ابن ابنةِ إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثني إسحاق بن يوسف، حدثنا شريك بن عبد الله، عن الأعمش، عن شقيق بن سَلَمة، عن حَلام بن جِذل (3) الغِفَاري قال: سمعت أبا ذرٍّ جُندُب بن جُنادة الغفاري يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إذا بَلَغَ بنو أبي العاص ثلاثين رجلًا، اتَّخَذوا مالَ الله دُولًا، وعباد الله خَوَلًا، ودينَ الله دَغَلًا". قال حَلّام: فأُنكِرَ ذلك على أبي ذرّ، فشَهِدَ عليُّ بن أبي طالب: إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ما أظلَّت الخضراءُ، ولا أقلَّت الغَبْراءُ على ذي لَهْجةٍ أصدقَ من أبي ذرٍّ"، وأشهد أن رسول الله ﷺ قاله (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي سعيد الخُدري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8478 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي سعيد الخُدري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8478 - على شرط مسلم
جند بن جنادہ غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب ابوالعاص کی نسل میں 30 آدمی ہو جائیں گے تو یہ اللہ کے مال کو ” عطیہ “ اللہ کے بندوں کو ” غلام “ اور اللہ کے دین کو ” دھوکے “ کا ذریعہ بنا لیں گے۔ حلام کہتے ہیں: سیدنا ابوذر کے اس بیان کا کئی لوگوں نے انکار کیا، تو سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے گواہی دیتے ہوئے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابوذر سے زیادہ سچے لہجے والا چشم فلک نے بھی کوئی انسان نہیں دیکھا۔ اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8688]
حدیث نمبر: 8689
حدَّثَناهُ أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا موسى بن هارون بن عبد الله الإمام، حدثنا زكريا بن يحيى زَحَمَوَيهِ، حدثنا صالح بن عمر، حدثنا مُطرِّف ابن طَريف، عن عطيَّة، عن أبي سعيد الخُدري قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا بَلَغَ بنو العاص ثلاثين رجلًا، اتَّخَذوا دينَ الله دَغَلًا، وعبادَ الله خَوَلًا، ومال الله دُوَلًا" (1) . وهكذا رواه الأعمش عن عطيَّة:
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب ابوالعاص کے بیٹے 30 تک پہنچیں گے تو وہ اللہ کے دین کو دھوکے کا ذریعہ، اللہ کے بندوں کو ” غلام “ اور اللہ کے مال کو ” عطیہ “ سمجھیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8689]
حدیث نمبر: 8690
حدَّثَناهُ أبو بكر بن بالويه حدثنا موسى بن هارون، حدثنا محمد بن حُمَيد، حدثنا جرير، عن الأعمش، عن عطيَّة، عن أبي سعيد قال: قال رسول الله ﷺ"إذا بَلَغَ بنو أبي العاص ثلاثين رجلًا، اتَّخَذوا مالَ الله دُوَلًا، ودينَ الله دَغَلًا، وعباد الله خَوَلًا" (2) . ومنها:
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب ابوالعاص کے بیٹے 30 تک پہنچیں گے تو وہ اللہ کے دین کو ” دھوکے “ کا ذریہ، اللہ کے بندوں کو ” غلام “ اور اللہ کے مال کو ” عطیہ “ سمجھیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8690]