🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

70. ذِكْرُ الدَّجَّالِ بِيَدِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں دجال کے قتل کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8695
حدَّثَناه جعفر بن نُصَير الخُلْدي ﵀، حدثنا أحمد بن محمد بن الحجَّاج بن رِشْدِين المَهْري بمِصْر، حدثنا إبراهيم بن منصور الخُراساني، حدثنا عبد الرحمن بن محمد المُحاربي، عن محمد بن سُوقة، عن الشَّعْبي، عن عبد الله بن الزُّبير: أنَّ رسول الله ﷺ لَعَنَ الحكم وولده (2) . هذا الحديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قال الحاكم ﵀: ليعلم طالب العلم، أن هذا بابٌ لم أذكر فيه ثُلث ما رُوِيَ، وأنَّ أول الفتن في هذه الأُمة فِتنتُهم، ولم يَسَعني فيما بيني وبين الله تعالى أن أُخلِيَ الكتابَ من ذِكرِهم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8485 - الرشديني ضعفه ابن عدي
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم اور اس کے بچے پر لعنت فرمائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام حاکم کہتے ہیں: طالب علم کو جان لینا چاہئے کہ اس باب میں جتنی احادیث مروی ہیں، میں نے ان میں سے ایک تہائی بھی بیان نہیں کیں، اور اس امت کے فتنوں میں سب سے پہلا فتنہ انہیں لوگوں کا ہو گا، اس لئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ میرا جو تعلق ہے وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میں اپنی کتاب کو ان کے ذکر سے خالی رکھوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8695]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8696
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثني أخي، عن سليمان بن بلال، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، أن النبي ﷺ قال:"لا تقومُ الساعةُ حتى يَنزِلَ الرُّومُ بالأعماق، فيخرج إليهم جلبٌ من المدينة من خيار أهل الأرض يومئذٍ، فإذا تصافُّوا قالت الرُّوم: خلُّوا بيننا وبين الذين سَبَوْا منا نُقاتِلُهم، فيقول المسلمون: لا والله لا نُخلِّي بينكم وبين إخواننا، فيقاتلونهم فينهزم ثُلثٌ لا يتوبُ الله عليهم أبدًا، ويُقتل ثلثٌ هم أفضلُ الشهداء عند الله ﷿، ويصبحُ ثلثٌ لا يُفتنون أبدًا، فيبلُغون القُسطنطينيَّة فيَفتَتِحون، فبينما هم يَقسِمون غنائمهم وقد علَّقوا سلاحهم بالزَّيتون، إذ صاحَ الشيطان إنَّ المسيح قد خَلَفَكم في أهلِيكُم، وذلك باطلٌ، فإذا جاؤوا الشامَ خَرَجَ، فبينما هم يعتدُّون للقتال ويُسَوُّون الصفوف، إذ أُقِيمت الصلاةُ صلاةُ الصبح، فينزلُ عيسى ابن مريم صلوات الله عليه، فأَمَّهم، فإذا رآه عدوُّ الله ذابَ كما يذوبُ المِلحُ، فلو تَرَكَه لانذابَ حتى يَهْلِكَ، ولكن يقتلُه الله بيده، فيُريهم دمه في حربتِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8486 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت سے پہلے رومی لوگ اعماق پر چڑھائی کریں گے، ان کی جانب مدینہ سے ایک جماعت نکلے گی، یہ جماعت اس وقت کے تمام انسانوں سے بہتر ہو گی، جب یہ لوگ جنگ کے لئے صف بندی کر چکیں گے تو رومی کہیں گے: تم ہمارے اور ہمارے قیدیوں کے درمیان راستہ چھوڑ دو، ہم ان سے لڑیں گے، مسلمان کہیں گے: نہیں، اللہ کی قسم! ہم تمہیں ان تک راستہ نہیں دیں گے، ان کے درمیان جنگ ہو گی، ان میں سے ایک تہائی لشکر بھاگ جائے گا، اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں کرے گا، ایک تہائی لشکر شہید ہو جائے گا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمام شہداء سے افضل ہوں گے، اور تیسرا تہائی حصہ کبھی فتنہ میں مبتلا نہیں ہو گا، پھر یہ لوگ قسطنطنیہ میں پہنچیں گے، اس کو بھی فتح کر لیں گے، یہ لوگ وہاں کی غنیمتیں تقسیم کر رہے ہوں گے اور اپنی تلواروں پر زیتون مل چکے ہوں گے، کہ شیطان چیخ کر کہے گا: دجال نے تمہارے گھر والوں پر حملہ کر دیا ہے، (یہ بات جھوٹ ہو گی) جب یہ لوگ شام میں آئیں گے، تب وہ ظاہر ہو گا، ابھی اس کے ساتھ جہاد کے لئے صف بندی ہو رہی ہو گی کہ نماز فجر کی اقامت ہو جائے گی، اس وقت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، اور لوگوں کی امامت کرائیں گے، جب اللہ کا دشمن دجال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا تو نمک کی طرح پگھلنا شروع ہو جائے گا، اگر وہ اس کو اسی طرح چھوڑ دیں گے تب بھی وہ پگھل پگھل کر ختم ہو جائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اس کو قتل کروائے گا، اور اس کا خون ان کے نیزے پر دکھائی دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8696]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں