🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

69. ذِكْرُ أَبْغَضِ الْأَحْيَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ
رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ناپسندیدہ ترین قبیلوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8691
ما حدَّثَناه أبو أحمد علي بن محمد الأزرقي بمَرُو، حدثنا أبو جعفر محمد بن إسماعيل بن سالم الصائغ بمكّة، حدثنا أحمد بن محمد بن الوليد الأزرقي، مؤذِّنُ المسجد الحرام، حدثنا مسلم بن خالد الزَّنْجي، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إني أُرِيتُ في منامي كأَنَّ بني الحَكَم بن أبي العاص يَنزُون على مِنبري كما تَنْزُو القِرَدةُ". قال: فما رئي النبي ﷺ مستجمعًا ضاحكًا حتى تُوفِّي (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8481 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے خواب میں دکھایا گیا ہے جیسے حکم بن ابی العاص کی اولادیں، میرے منبر پر بندروں کی طرح پھدک رہی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: وفات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8691]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8692
ما حدَّثَناهُ أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا حجَّاج بن محمد، حدثنا شُعبة، عن أبي حمزة قال: سمعت حُميد بن هلال يحدِّث عن عبد الله بن مُطرِّف، عن أبي بَرْزَةَ الأسلمي قال: كان أبغض الأحياء إلى رسول الله ﷺ بنو أُميّة وبنو حَنيفةً وثَقيفٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8482 - على شرط البخاري ومسلم
ابوبرزہ اسلمی فرماتے ہیں: زندہ لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ بنو امیہ، بنو حنیفہ اور ثقیف پر ناراض تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8692]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8693
حدثنا علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني، حدثنا أحمد بن محمد بن إبراهيم المروزي الحافظ، حدثنا علي بن الحسين الدِّرهمي، حدثنا أُميَّة بن خالد، عن شُعبة، عن محمد بن زياد قال: لما بايع معاويةُ لابنه يزيد، قال مروانُ: سُنَّةُ أبي بكر وعمر، فقال عبد الرحمن بن أبي بكر: سنَّةُ هِرقل وقَيصَر، قال مروان: هو الذي أنزل الله فيه: ﴿وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا﴾ الآية [الأحقاف: 17] ، قال: فبَلَغَ عائشةَ، فقالت: كَذَبَ والله، ما هو به، ولكن رسول الله ﷺ لَعَنَ أبا مروانُ في صلبه، فمروانُ فَضَضٌ من لعنة الله ﷿ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8483 - فيه انقطاع
محمد بن زیاد کا بیان ہے کہ جب معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کے لئے بیعت لی، تو مروان نے کہا: یہ ابوبکر اور عمر کا طریقہ ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ ہرقل اور قیصر کا طریقہ ہے، اور فرمایا: یہ آیت تیرے بارے میں ہی نازل ہوئی ہے وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِنْ قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ [الأحقاف: 17] اور وہ جس نے اپنے ماں باپ سے کہا اف تم سے دل پک گیا، کیا مجھے یہ وعدہ دیتے ہو کہ پھر زندہ کیا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے سنگتیں گزر چکیں اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہیں تیری خرابی ہو ایمان لا بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو کہتا ہے یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں اس بات کی خبر ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی آپ نے فرمایا: اس نے جھوٹ کہا۔ واللہ! ایسا نہیں ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروان کے باپ پر اس وقت لعنت فرمائی جب مروان ابھی اپنے باپ کی پشت میں تھا۔ چنانچہ مروان، اللہ تعالیٰ کی لعنت کا ایک حصہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8693]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8694
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا مُسلم بن إبراهيم، حدثنا جعفر بن سليمان الضُّبَعي، حدثنا علي بن الحكم البُناني، عن أبي الحسن الجَزَري، عن عمرو بن مُرَّة الجُهَني - وكانت له صحبة -: أنَّ الحَكَم بن أبي العاص استأذن على النبي ﷺ، فعَرَفَ النبي ﷺ صوته وكلامه، فقال:"ائذَنُوا له، حيّةٌ" (2) ، عليه لعنةُ الله وعلى من يخرُج من صُلْبِهِ، إِلَّا المؤمنَ منهم، وقليلٌ ما هم، يَشرُفُون في الدنيا ويُوضَعون (3) في الآخرة، ذَوُو مَكْرٍ وخَديعةٍ، يُعطَوْن في الدنيا وما لهم في الآخرة من خَلاق" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث عبد الله بن الزُّبير الذي:
عمرو بن مرہ صحابی رسول ہیں، آپ بیان کرتے ہیں کہ حکم بن ابی العاص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آنے کی اجازت مانگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کلام اور اس کی آواز کو پہچان لیا، آپ نے فرمایا: اس کو اجازت دے دو، اس پر اللہ کی لعنت اور جو اس کی پشت سے نکلے گا، اس پر بھی اللہ کی لعنت، سوائے مومنوں کے اور اس کی پشت میں مومن کم ہی ہوں گے، وہ دنیا کو ترجیح دیں گے اور آخرت کو ہلکا جانیں گے۔ یہ مکار اور دھوکے باز ہوں گے، ان کو دنیا کی بہت دولت دی جائے گی، لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث، سابقہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8694]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں