🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

71. مُقَاتَلَةُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ بَنِي الْأَصْفَرِ
مسلمانوں کی "بنو اصفر" (رومیوں) کے ساتھ جنگ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8697
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن أُوزمة الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن أبي قيس الأَوْدي، عن هُزَيل بن شُرَحبِيل، عن عبد الله بن مسعود أنه قال: إنكم في زمان كثيرٌ علماؤُه، قليل خطباؤُه، كثيرٌ مُعطُوه، الصلاةُ فيها قصيرة، والخُطبةُ فيها طويلة، فاقصُرُوا الخطبة وأَطيلوا الصلاة، وإنَّ من البَيان لسحرًا، ومن أراد الآخرة أضرَّ بالدنيا، ومن أراد الدنيا أضرَّ بالآخرة، يا قومِ فَأَضِرُّوا بالفانية للباقية (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8487 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم ایسا زمانہ بھی دیکھو گے کہ علماء بہت زیادہ ہوں گے، لیکن خطیب کم ہوں گے، ان کی خدمت کرنے والے بہت ہوں گے، اس زمانے میں نماز چھوٹی اور خطبہ لمبا ہو گا، خطبہ چھوٹا کرنا اور نماز لمبی کرنا، اور بیان میں بھی جادوئی کشش ہوتی ہے، اور جو آخرت چاہتا ہے، اس کی دنیا کم ہوتی ہے اور جو دنیا چاہتا ہے اس کی آخرت کم ہوتی ہے۔ اے لوگو! باقی رہنے والی چیز کے لئے فانی چیز کا نقصان برداشت کر لو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8697]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8698
أخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر المزكِّي بمرو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة، حدثنا كَثير بن عبد الله بن عمرو بن عَوف المُزَنِي (1) . وحدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق - وله اللفظ - أخبرنا الحَسَن (1) بن علي بن زياد، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا كَثير بن عبد الله، عن أبيه، عن جدِّه أنه قال: سمعت رسول الله ﷺ وهو يقول:"لا تذهبُ الدُّنيا. يا عليَّ بن أبي طالب" قال علي: لبَّيكَ يا رسول الله، قال:"اعلم أنكم ستقاتلون بني الأصفر ويقاتلُهم من بعدَكم من المؤمنين، وتخرجُ إليهم رُوقَةُ المؤمنين أهلُ الحِجاز، الذين يجاهدون في سبيل الله، لا تأخذُهم في الله لومةُ لائمٍ حتى يفتحَ اللهُ ﷿ عليهم قُسطَنطينيّة ورُومِيَّةَ بالتسبيح والتكبير، فينهدِمُ حِصنُها، فيصيبون نَيْلًا عظيمًا لم يُصيبوا مثله قطُّ، حتى إنهم يقتسمون بالتُّرْس، ثم يَصرُخُ صارخٌ: يا أهل الإسلام، قد خرج المسيحُ الدَّجَالُ في بلادكم وذَرارِيِّكم، فيَنفَضُّ الناسُ عن المال، فمنهم الآخِذُ ومنهم التاركُ، فالآخذُ نادمٌ والتاركُ نادمٌ، يقولون: مَن هذا الصائحُ؟ فلا يعلمون من هو، فيقولون: ابعَثُوا طَليعةً إلى لُدٍّ، فإن يكن المسيحُ قد خرج فيأتونكم بعِلمِه، فيأتون فينظرون فلا يَرَونَ شيئًا، ويَرَونَ الناسَ ساكتين فيقولون: ما صَرَخَ الصارخُ إِلَّا لنبأٍ، فاعْتَزِموا ثم ارشُدُوا، فيعتزمون أن نخرج بأجمعنا إلى لُدٍّ، فإن يكن بها المسيحُ الدَّجّالُ نُقاتِله حتى يَحكُمَ الله بيننا وبينه، وهو خيرُ الحاكمين، وإن تكن الأخرى فإنَّها بلادُكم وعشائرُكم وعساكرُكم رَجَعَتُم إليها" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8488 - كثير واه
کثیر بن عبداللہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے علی بن ابی طالب! دنیا مت لے جانا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ نے فرمایا: جان لو، عنقریب تم بنی الاصفر سے جنگ کرو گے، یا تمہارے بعد کوئی مومن جماعت ان سے جنگ کرے گی، اور ان کی مدد کے لئے اہل حجاز کے مجاہدین کی ایک جماعت نکلے گی، اللہ کے دین کے معاملے میں ان کو کسی ملامت گر کی ملات کی کوئی پرواہ نہیں ہو گی، انہی کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ قسطنطنیہ اور سلطنت رومی فتح کرے گا، یہ لوگ صرف سبحان اللہ اور اللہ اکبر کی صدائیں لگائیں گے، اور ان کا قلعہ ٹوٹ جائے گا، بہت بڑا مال غنیمت ان کے ہاتھ لگے گا، اس جیسا مال کبھی بھی ان کو نہیں ملا ہو گا۔ یہ لوگ وہ مال اپنی ڈھالیں بھر بھر کے تقسیم کر رہے ہوں گے، پھر ایک چیخنے والا چیخ کر کہے گا: اے مسلمانو! مسیح دجال تمہارے شہر اور تمہاری اولادوں میں ظاہر ہو چکا ہے، لوگ اس مال سے بے نیاز ہو جائیں گے، کچھ لوگوں نے مال رکھا اور کچھ نے وہیں چھوڑ دیا، لیکن مال رکھنے والا بعد میں بہت پچھتائے گا، اور مال چھوڑنے والا بھی پچھتائے گا۔ لوگ کہیں گے: یہ چیخ کر آواز دینے والا کون ہے؟ لیکن کسی کو پتا نہیں چلے گا کہ آواز کس نے دی ہے، لوگ کہیں گے: ایک جماعت کو معلومات لینے کے لئے (مقام) لد کی جانب بھیج دو، اگر واقعی دجال ظاہر ہو چکا ہو گا تو وہ آ کر ہمیں بتا دیں گے، یہ جماعت وہاں پر آئے گی، ان کو دجال کے بارے کوئی اطلاع نہ ملے گی، اور وہ لوگوں کو بھی شک و شبہ میں مبتلا دیکھیں گے۔ وہ مشورہ کریں گے کہ آواز دینے والے نے ہمیں ایک خبر ہی دی ہے، ہمیں اپنے علاقے کی طرف کوچ کرنا چاہئے، پھر ہمیں اصل حقیقت حال کا علم ہو گا۔ ہم سب کو (مقام) لد کی جانب جانا چاہئے، اگر وہاں مسیح دجال ہوا، تو ہم اس کے ساتھ اس وقت تک لڑیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، اور اگر دجال کے ظاہر ہونے کی بات جھوٹی نکلی، تب بھی کوئی بات نہیں، وہ ہمارا علاقہ ہے، ہمارے خاندان وہیں آباد ہیں، اور ہماری فوجیں وہاں ہیں، ہم ان کی طرف ہی لوٹ کر گئے ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8698]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں