المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
72. يَكُونُ لِلدَّابَّةِ ثَلَاثُ خَرْجَاتٍ
دابۃ الارض (زمین سے نکلنے والے جانور) کے تین بار ظاہر ہونے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8699
أخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن إسماعيل بن أُميَّة، عن سعيد، عن أبي هريرة، يَروِيه قال:"ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقتَرَب، على رأس السِّتين تصيرُ الأمانةُ غَنيمةً، والصدقةُ غَرامةً، والشهادةُ بالمعرِفة، والحُكْمُ بالهَوَى" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزِّيادات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8489 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزِّيادات.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8489 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہلاکت ہے عرب کے لئے اس شر سے جو بہت قریب آ چکا ہے، جو 60 سال تک رونما ہو جائے گا، جب امانت کو غنیمت سمجھا جائے گا، زکوۃ کو چٹی سمجھا جائے گا، گواہی صرف جان پہچان کی بناء پر دی جائے گی اور فیصلہ نفسانی خواہشات کے مطابق ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8699]
حدیث نمبر: 8700
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا عمرو بن محمد العَنقَزي، حدثنا طلحة بن عمرو الحَضْرمي، عن عبد الله بن عُبيد بن عُمير اللَّيثي، عن أبي الطُّفيل، عن أبي سَرِيحة الأنصاري، عن النبي ﷺ قال:"يكون للدابَّةِ ثلاثُ خَرَجاتٍ من الدَّهر، تخرج أوّلَ خَرْجةٍ بأقصى اليمن، فيَفشُو ذِكرُها بالبادية، ولا يدخلُ ذِكرُها القرية - يعني مكة - ثم بَيْنا الناسُ في أعظمِ المساجد حُرْمةً وأحبِّها إلى الله وأكرمِها على الله تعالى؛ المسجدِ الحرامِ، لم يَرُعْهم إلَّا وهي في ناحية المسجد تَدنُو - أو تَربُو - بينَ الرُّكنِ الأسود وبين باب بني مخزومٍ عن يمين الخارج في وَسَطٍ من ذلك، فيَرفَضُّ الناسُ عنها شتَّى ومعًا، ويَثبُت لها عِصابةٌ من المسلمين عَرَفوا أنهم لم يُعجِزوا الله، فَخَرَجَت عليهم تَنفُضُ عن رأسها الترابَ، فبدت بهم فجَلَت عن وجوههم حتى تَرَكَتها كأنها الكواكبُ الدُّرِّيّة، ثم وَلَّت في الأرض لا يُدرِكُها طالبٌ ولا يُعجِزُها هارب، حتى إِنَّ الرجل ليتعوَّذُ منها بالصلاة، فتأتيهِ من خلفِه فتقول: أي فلانُ، الآنَ تصلِّي؟! فيَلتفِتُ إليها فتَسِمُه في وجهه ثم تذهب، فيتجاوَرُ الناسُ في ديارهم، ويَصطَحِبون في أسفارهم، ويَشتَركون في الأموال، يعرفُ المؤمنُ الكافرَ، حتى إنَّ الكافر يقول: يا مؤمنُ، اقضِني حقِّي، ويقول المؤمن: يا كافرُ، اقضني حقِّي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو أبيَنُ حديثٍ في ذكر دابّة الأرض، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8490 - طلحة بن عمرو الحضرمي ضعفوه وتركه أحمد
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو أبيَنُ حديثٍ في ذكر دابّة الأرض، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8490 - طلحة بن عمرو الحضرمي ضعفوه وتركه أحمد
سیدنا سریحہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دابہ تین زمانوں میں نکلے گا، پہلی مرتبہ وہ یمن کے دور کے علاقے سے نکلے گا، اس کا تذکرہ صرف دیہاتوں میں رہے گا، مکہ مکرمہ میں اس کی خبر نہیں پہنچے گی، اس کے بعد ایک طویل زمانہ گزرے گا، پھر یہ مکہ کے قریب ایک جگہ سے نکلے گا، اس کا تذکرہ دیہاتوں میں بھی پھیلے گا اور مکہ مکرمہ میں بھی، پھر ایک طویل زمانہ گزرے گا، پھر لوگ مسجد حرام (لوگ سب سے زیادہ جس کی عزت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ اسی مسجد سے محبت ہے اور اس کی بارگاہ میں اس کی عزت سب مسجدوں سے زیادہ ہے) میں موجود ہوں گے، وہ لوگوں کو ڈرائے گا نہیں، وہ مسجد کے ایک کونے میں ہو گا، وہ رکن اسود اور باب بنی مخزوم کے درمیان آ جائے گا، باہر کے ہاتھ کی طرف اس کے درمیان میں۔ لوگ وہاں سے گروہ در گروہ اور اکیلے اکیلے بھاگ پڑیں گے، لیکن ایک مسلمان جماعت وہاں ثابت قدم رہے گی، ان کو یقین ہو گا کہ وہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ تب وہ اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے ان کی جانب نکلے گا، وہ لوگوں میں ظاہر ہو گا، پھر وہ آسمانوں کی جانب چڑھے گا اور لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہو جائے گا حتی کہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح محسوس ہو گا۔ پھر وہ زمین کی جانب واپس آئے گا، اس کو پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے بھاگنے والا اس کو پکڑ نہیں سکے گا، اور اس سے بھاگنے والا اس سے بھاگ نہیں سکے گا حتی کہ ایک آدمی نماز میں اس سے پناہ مانگ رہا ہو گا تو وہ اس آدمی کے پیچھے سے آ کر کہے گا: اے آدمی تو اب نماز پڑھ رہا ہے؟ وہ آدمی اس کی طرف دیکھے گا تو وہ اس کے چہرے پر زخم کر دے گا۔ پھر چلا جائے گا، لوگ اس کو اپنے ساتھ اپنے شہروں میں رکھیں گے، اپنے سفروں میں اپنے ساتھ رکھیں گے، اپنے مالوں میں اس کو شریک کریں گے۔ مومن اس کو کافر سمجھے گا اور کافر اسے مومن جانے گا، حتی کہ کافر کہے گا: اے مومن تو میرا حق ادا کر۔ اور مومن کہے گا: اے کافر تو میرا حق ادا کر۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے دابۃ الارض کے متعلق یہ حدیث بہت واضح ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8700]
حدیث نمبر: 8701
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، عن هشام بن حسَّان، عن قيس بن سعد، عن أبي الطُّفيل، قال: كنا جلوسًا عند حُذيفة، فذُكِرَت الدابةُ، فقال حذيفة: إنها تخرجُ خَرَجاتٍ في بعض البوادي ثم تتكمَّن (1) ، ثم تخرجُ في بعض القُرى حتى يُذعَروا (2) حتى تُهريقَ فيها الأمراءُ الدماءَ، ثم تتكمَّن، قال: فبَيْنا الناسُ عند أعظمِ المساجدِ وأفضلِها وأشرفِها - حتى قلنا المسجد الحرام، وما سمَّاه - إذ ارتفَعَت الأرضُ، فترتفع الأرضُ ويهربُ الناس ويبقى عَامّةٌ من المسلمين تقول: إنه ليس يُنجينا من أمر الله شيءٌ، فَتَخرُجُ فتَجلُو وجوهَهم حتى تجعلَها كالكواكب الدُّرِّيّة، وتتَّبِع الناسَ (3) ، جيرانٌ في الرِّباع، شركاءُ في الأموال، وأصحابٌ في الأسفار (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8491 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8491 - على شرط البخاري ومسلم
ابوالطفیل بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں دابہ کا ذکر چل نکلا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تین مرتبہ نکلے گا، ایک دفعہ وہ کسی دیہاتی علاقے میں نکلے گا، پھر چھپ جائے گا، پھر وہ کسی شہری علاقے میں ظاہر ہو گا، لوگ اس سے خوف زدہ ہو جائیں گے، اس میں حکمران بہت خون بہائیں گے۔ پھر یہ چھپ جائے گا، پھر ایک موقع پر لوگ سب سے اعلی، اسب سے افضل، سب سے اشرف (مسجد حرام) میں ہوں گے، زمین اونچی ہونا شروع ہو جائے گی، لوگ یہ دیکھ کر بھاگ جائیں گے، اور کچھ مسلمان وہاں ثابت قدم رہیں گے، کہیں گے: ہمیں اللہ کے فیصلے سے کوئی عمل نکال نہیں سکتا۔ دابہ باہر نکلے گا، وہ لوگوں کے چہروں کو ستاروں کی مانند چمکا دے گا، وہ لوگوں کے ساتھ رہے گا، لوگ محلے میں اس کے پڑوسی ہوں گے، لوگ اپنے مال میں اس کو شریک کریں گے، اور اسلام میں اس کے ساتھی بنیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8701]
حدیث نمبر: 8702
حدثنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا محمد بن فُضَيل، حدثنا الوليد بن جُمَيع، عن عبد الملك بن المغيرة، عن عبد الرحمن بن البَيلَماني، عن ابن عُمر قال: يَبِيتُ الناس يَسْرُون إلى جَمْع، وتَبِيتُ دابَّةُ الأرض تَسْري إليهم، فيُصبِحون وقد جعلتهم بين رأسِها وذنبِها، فما من مؤمنٍ إلَّا تَمسَحُه، ولا منافقٍ ولا كافرٍ إِلَّا تَخطِمُه، وإنَّ التوبةَ لمفتوحةٌ، ثم يخرج الدُّخَانُ فيأخذُ المؤمنَ منه كهيئة الزَّكْمة، ويدخلُ في مَسامع الكافر والمنافق حتى يكونَ كالشيءِ الحَنِيذ، وإن التوبةَ لمفتوحة، ثم تَطلُعُ الشمسُ من مغربها (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8492 - ابن البيلماني ضعيف وكذا الوليد
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8492 - ابن البيلماني ضعيف وكذا الوليد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگ مزدلفہ کی جانب چل رہے ہوں گے، اور دابہ بھی لوگوں کے ہمراہ چلے گا، مزدلفہ میں جائے گا۔ جب صبح ہو گی تو (وہ اتنا بڑا ہو چکا ہو گا کہ) سب لوگ اس کے سر اور دم کے درمیان ہوں گے، ہر مومن سے وہ مصافحہ کرے گا اور منافق اور کافر کے ناک پر مارے گا۔ لیکن توبہ کا دروازہ اس وقت بھی کھلا ہو گا، حتی کہ دجال ظاہر ہو گا، وہ مومن کر ایک اکھٹر آدمی کی طرح پکڑے گا اور وہ کافر اور منافق کے کانوں میں داخل ہو جائے گا حتی کہ ایسا ہو جائے گا جیسے بھنا ہوا گوشت ہوتا ہے، اس وقت تک بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہو گا، پھر سورج مغرب کی جانب سے طلوع ہو گا۔ (تب توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8702]