🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

87. ذِكْرُ ثَلَاثِ خِلَالٍ لَا بُدَّ مِنْهَا لِأُمَرَاءِ قُرَيْشٍ
قریش کے حکمرانوں کے لیے ضروری تین خصلتوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8737
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن زيد بن وهب، عن حُذَيفة قال: إنَّ للفتنة بَعَثاتٍ ووَقَفاتٍ، فإن استطعتَ أن تموت في وَقَفاتها فافعَلْ. قال عبد الرحمن: وحدثنا سفيان، عن الحارث بن حَصِيرةَ، عن زيد بن وهب قال: سُئِلَ حذيفةُ: ما وَقَفاتُها؟ قال: إذا غُمِدَ السيف، قال: ما بَعَثَاتُها؟ قال: إذا سُلَّ السيف (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8527 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فتنے میں وقفے آئیں گے، اور تو ان وقفوں میں مر سکے تو مر جانا۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: ہمیں سفیان نے حارث بن حصیرہ کے واسطے سے زید بن وہب سے روایت کر کے بتایا ہے کہ سیدنا حذیفہ سے ان وقفوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: جب تلواریں ڈھانپ لی جائیں، انہوں نے پوچھا: اس کے تعبات کیا ہوں گے؟ فرمایا: جب تلواریں سونت لی جائیں گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8737]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8738
أخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن زُهير بن حَرْب، حدثنا موسى بن إسماعيل التَّبُوذَكي، حدثنا الصَّعْق بن حَزْن، حدثنا علي بن الحكم البُناني، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"الأمراءُ من قُريش، الأمراءُ من قُريش، ما عَمِلوا فيكم بثلاثٍ: ما رَحِموا إذا استُرحِموا، وقَسَطُوا (2) إذا قَسَمُوا، وعَدَلُوا إذا حَكَموا" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8528 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امراء قریش میں سے ہوں گے، جب تک ان میں تین اعمال قائم رہیں گے۔ ٭ جب ان سے رحم مانگا جائے تو یہ رحم کریں۔ ٭ جب تقسیم کریں تو انصاف کریں۔ ٭ جب فیصلہ کریں تو عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ کریں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8738]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8739
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا عفَّان، حدثنا حمّاد بن زيد، عن مُجالِد بن سعيد، عن الشَّعْبي (4) ، عن مسروق قال: كنا جلوسًا ليلةً عند عبد الله يُقرِئُنا القرآنَ، فسأله رجل فقال: يا أبا عبد الرحمن، هل سألتُم رسول الله ﷺ كم يَملِكُ هذه الأُمةَ من خليفة؟ فقال عبد الله: ما سألَني عن هذا أحدٌ منذ قَدِمتُ العراقَ قبلَك، قال: سألناه فقال:"اثنا عشرَ، عِدَّةُ نُقباءِ بني إسرائيل" (1) . لا يُستَغنى (2) في هذا الكتاب عن الرواية عن مجالدٍ وأقرانِه ﵏.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8529 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مسروق بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ ہمیں قرآن کریم پڑھا رہے تھے، ایک آدمی نے ان سے پوچھا: اے ابوعبدالرحمن! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھی تھی کہ اس امت میں کتنے خلیفے ہوں گے؟ سیدنا عبداللہ نے فرمایا: میں جب سے عراق آیا ہوں تب سے یہ سوال تمہارے علاوہ کسی نے مجھ سے نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں، ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کے نقباء کی تعداد کے مطابق 12 خلفاء ہوں گے۔ ٭٭ اس کتاب میں مجالد اور ان کے معاصرین سے روایت درج کرنے میں مجھ سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوئی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8739]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں