🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

92. إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَجْمَعَ جَمَاعَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ
بے شک اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی امت (کی جماعت) کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8756
حدثنا أبو محمد المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا واصل بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا أبو مالك الأشجعي، عن أبي الشَّعثاء قال: خَرَجْنا مع أبي مسعود الأنصاري، فقلنا له: اعهَدْ إلينا، فقال: عليكم بتقوى الله ولزومِ جماعةِ محمدٍ ﷺ، فإنَّ الله تعالى لن يجمعَ جماعةَ محمدٍ على ضلالة، وإنَّ دينَ الله واحدٌ، وإياكم والتلوُّنَ في دينِ الله، وعليكم بتقوى الله، واصبِروا حتى يستريحَ بَرٌّ أو يُستراحَ من فاجر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد كتبناه مسنَدًا من وجهٍ لا يصح على شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8545 - على شرط مسلم
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ابو الشعثاء کہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ نکلے تو ہم نے ان سے عرض کیا: ہمیں کوئی وصیت کیجیے، تو انہوں نے فرمایا: تم پر اللہ کا تقویٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کے ساتھ وابستگی لازم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جماعت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور بے شک اللہ کا دین ایک ہی ہے، اور دینِ الہی میں رنگ بدلنے (تلوّن مزاجی) سے بچو، اور تقویٰ اختیار کرو، اور اس وقت تک صبر کرو جب تک کہ کوئی نیک آدمی (موت کے ذریعے) راحت نہ پا لے یا کسی بدکار سے (اس کی ہلاکت کے ذریعے) راحت نہ مل جائے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8756]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8756] [ترقيم الشركة 8648] [ترقيم العلميه 8545]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8757
حدثنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد المذكِّر، حدثنا الحسين بن داود بن معاذ، حدثنا مَكّيُّ بن إبراهيم، حدثنا أيمن بن نابِلٍ، عن قُدَامة بن عبد الله بن عمّار الكِلَابي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"عليكم باتَّقاء اللهِ والجماعةِ، فإنَّ الله لا يجمعُ هذه الأُمةَ على الضَّلالة، وعليكم بالصبر حتى يَستريحَ بَرٌّ أو يُستراحَ من فاجر" (1) .
هذا حديث لم نَكتُبْه بهذا الإسناد إلَّا عن هذا الشيخ، والحملُ فيه على الحسين بن داود، فإنه لم يصحَّ عندنا (2) بهذا الإسناد إلّا حديث واحدٌ:
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم پر اللہ کا تقویٰ اور جماعت کی وابستگی لازم ہے، کیونکہ اللہ اس امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور تم صبر سے کام لو یہاں تک کہ کوئی نیک بندہ (دنیا سے رخصت ہو کر) راحت پا لے یا کسی بدکار سے (اس کے شر کے خاتمے سے) راحت مل جائے۔
اس حدیث کو ہم نے اسی سند کے ساتھ صرف اسی شیخ سے لکھا ہے، اور اس کا بوجھ حسین بن داؤد پر ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک اس سند کے ساتھ صرف ایک ہی حدیث صحیح ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8757]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، الحسين بن داود بن معاذ أحد المتروكين كما قال الذهبي في ترجمته من "تاريخ الإسلام" 6/ 740، وشيخ المصنف ليس بذاك القوي، وإنما يعتبر به في المتابعات والشواهد» [ترقيم الرساله 8757] [ترقيم الشركة 8649]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8758
حدَّثَناه أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدانَ المروَزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا أيمن بن نابِلٍ، عن قُدَامة بن عبد الله بن عمَّار الكِلابي: قال رأيت رسولَ الله ﷺ يرمي الجَمْرةَ يومَ النَّحْر، لا ضربَ، ولا طَرْدَ، ولا إليكَ إليكَ (3) .
هذا حديث له طُرقٌ عن أيمن بن نابل، وقد احتَجَّ الإمام محمد بن إسماعيل البخاريُّ بأيمنَ بن نابلٍ في"الجامع الصحيح".
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر (عید الاضحیٰ کے دن) جمرہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا، وہاں نہ کسی کو مارا پیٹا جا رہا تھا، نہ کسی کو دھکا دے کر ہٹایا جا رہا تھا اور نہ ہی راستے سے ہٹ جاؤ، ہٹ جاؤ کا شور تھا۔
اس حدیث کے ایمن بن نابل سے کئی طرق منقول ہیں، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی الجامع الصحیح میں ایمن بن نابل سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8758]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أيمن بن نابل» [ترقيم الرساله 8758] [ترقيم الشركة 8650]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں