🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

93. لَنْ تَنْفَكُّوا بِخَيْرٍ مَا اسْتَغْنَى أَهْلُ بَدْوِكُمْ عَنْ أَهْلِ حَضَرِكُمْ .
تم اس وقت تک خیر پر رہو گے جب تک تمہارے دیہاتی تمہارے شہریوں سے بے نیاز رہیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8758
حدَّثَناه أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدانَ المروَزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا أيمن بن نابِلٍ، عن قُدَامة بن عبد الله بن عمَّار الكِلابي: قال رأيت رسولَ الله ﷺ يرمي الجَمْرةَ يومَ النَّحْر، لا ضربَ، ولا طَرْدَ، ولا إليكَ إليكَ (3) .
هذا حديث له طُرقٌ عن أيمن بن نابل، وقد احتَجَّ الإمام محمد بن إسماعيل البخاريُّ بأيمنَ بن نابلٍ في"الجامع الصحيح".
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار الكلابی رضی اللہ عنہ بیان كرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو قربانی کے دن رمی جمار كرتے ہوئے دیكھا ہے، كسی كو مارا نہ جائے، جھڑكا نہ جائے، اور نہ ایک دوسرے كو آوازیں دی جائیں۔ ٭٭ اس حدیث کے طرق ایمن بن نابل سے بھی ہیں۔ اور امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی جامع صحیح میں ایمن بن نابل کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8758]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8759
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا أبو المَهْدي سعيد بن سِنان، عن أبي الزاهريَّة، عن أبي شَجَرة كَثير بن مُرَّة، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ أنه كان يقول:"لن تَنفَكُّوا (4) بخيرٍ ما استَغنَى أهلُ بَدْوِكم عن أهل حَضَرِكم" قال:"ولَتَسُوقنَّهم السِّنينُ والسِّناتُ حتى يكونوا معكم في الدِّيار، ولا تُمنَعوا منهم لكثرة من يسيرُ (1) عليكم منهم" قال:"يقولون: طالما جُعْنا وشبعتُم، وطالما شَقِينا وتنعَّمتُم، فواسُونا اليومَ. ولتَستصعِبَنَّ بكم الأرضُ حتى يَعْبِطَ أهلُ حضرِكم [أهلَ بدوِكم] (2) من استصعاب الأرض". قال:"ولتَمِيلَنَّ بكم الأرضُ مَيلةً يَهْلِكُ منها مَن هلك، ويبقى من بقي، حتى تُعتَقَ الرِّقابُ، ثم تَهدأُ بكم الأرضُ بعد ذلك حتى يَندَمَ المُعتِقون" قال:"ثم تميلُ بكم الأرضُ من بعد ذلك مَيلةً أخرى، فيَهلِكُ فيها مَن هلك، ويبقى من بقي يقولون: ربَّنا نُعتِقُ، ربَّنا نُعتِقُ، فيكذِّبُهم اللهُ: كَذَبتُم كَذَبتُم، أنا أُعتِق. وليُبتلَيَنَّ أُخرَياتُ هذه الأُمَّة بالرَّجْف فإن تابوا تابَ الله عليهم" قال:"وإن عادوا أعادَ الله عليهم بالرَّجْف والقَذْف والخَسْف والمَسْخ والصواعق، فإذا قيل: هَلَكَ الناسُ هَلَكَ الناسُ، هَلَكَ الناسُ، فقد هَلَكوا، ولن يعذِّبَ اللهُ تعالى أمّةً حتى تَعْدِرَ" قالوا: وما غَدْرُها؟ قال:"يعترفون بالذُّنوب ولا يتوبون. ولَتطمئِنَّ القلوبُ بما فيها من بِرِّها وفجورِها كما تطمئنُّ الشجرةُ بما فيها، حتى لا يستطيعَ محسنٌ أن يزدادَ إحسانًا، ولا يستطيعَ مسيءٌ استِعتابًا، وذلك بأنَّ الله ﷿ قال: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [المطففين: 14] " (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8548 - سعيد متهم ساقط
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں كہ نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا كرتے تھے: تم بھلائی سے دور نہیں ہو گے جب تک تمہارے دیہاتی لوگ تمہارے شہریوں کے محتاج نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چند سال گزرنے كی بات ہے وہ لوگ تمہارے ساتھ شہروں میں آباد ہوں گے، اور تم ان كو منع نہ كرنا، وہ كہیں گے: ایک عرصہ گزر گیا ہے كہ ہم بھوكے اور تم لوگ سیر ہو کر کھاتے ہو، ایک عرصے سے ہم پریشان ہیں اور تم لوگ نعمتوں میں ہو، آج تم ہماری مدد کرو اور ہم تم پر زمین میں رہنا مشکل کر دیں گے۔ حتی کہ زمین کی تنگی کی وجہ سے شہری لوگ دیہاتیوں پر رشک کریں گے اور تم سے زمین بھر جائے گی، ہلاک ہونے والے ہلاک ہو جائیں گے اور بچنے والے بچ جائیں گے، حتی کہ غلام آزاد کئے جائیں گے، پھر تم پر زمین کشادہ کر دی جائے گی، حتی کہ غلاموں کو آزاد کرنے والے نادم ہو جائیں گے، آپ فرماتے ہیں: پھر دوسری مرتبہ زلزلہ آئے گا، اس میں بھی کئی لوگ ہلاک ہو جائیں گے اور کئی لوگ بچ جائیں گے، پھر غلام آزاد کئے جائیں گے، پھر زمین کشادہ ہو جائے گی، وہ لوگ کہیں گے: اے ہمارے رب ہم نے غلام آزاد کئے ہیں، اے ہمارے رب ہم نے غلام آزاد کئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلائے گا اور فرمائے گا: تم جھوٹ بول رہے ہو، تم جھوٹ بول رہے ہو، میں نے آزاد کیا ہے، آپ فرماتے ہیں: اس امت کے آخری زمانے کے لوگوں کو زلزلے سے آزمایا جائے گا، اگر یہ لوگ توبہ کر لیں گے تو اللہ ان کی توبہ کو قبول فرمائے گا، لیکن اگر یہ دوبارہ اسی گناہ میں مبتلا ہوں گے تو اللہ تعالیٰ دوبارہ ان پر زلزلہ بھیجے گا، ان پر پتھر برسیں گے، زمین پھٹے گی، زمین میں لوگ دھنسیں گے اور چہرے بدلیں گے اور کڑک نازل فرمائے گا، جب یہ آوازیں آنے لگ جائیں کہ لوگ ہلاک ہو گئے، لوگ ہلاک ہو گئے، تو جان لو کہ وہ واقعی ہلاک ہو گئے، اور اللہ اس امت کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک یہ غداری نہیں کریں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ان کی غداری کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اپنے گناہوں کا اعتراف تو کریں گے لیکن ان سے توبہ نہیں کریں گے، اور ان کے دلوں میں جو نیکی یا برائی ہو گی، اس پر وہ مطمئن ہوں گے، جیسا کہ درخت اپنے پھلوں پر مطمئن ہوتا ہے، حتی کہ احسان کرنے والے میں مزید احسان کرنے کی ہمت نہیں ہو گی اور گناہ کرنے والا گناہوں سے نہیں تھکے گا، اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ [المطففين: 14] کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8759]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8760
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم بن عَبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن أسامة بن زيد قال: أشرَفَ رسولُ الله ﷺ على أُطْمٍ من آطام المدينة فقال:"هل تَرَونَ ما أَرى؟" قالوا: لا، قال:"فإني لأَرى الفتنَ تقعُ خِلالَ بيوتِكم كمَواقِعِ القَطْر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8549 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک ٹیلہ پر چڑھے اور فرمایا: کیا تم وہ سب دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں، لوگوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے گھروں کے اندر فتنے دیکھ رہا ہوں جیسے بارش برستی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8760]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8761
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن أبي قَبِيل، سمع عبدَ الله بن عمرو يقول: كنا عند رسول الله ﷺ، فسُئِلَ: أيُّ المدينتين تُفتَحُ أولًا؟ يعني القُسطنطِينيّةَ، والرُّومِيةَ، فقال النبي ﷺ:"مدينةُ هِرَقلَ تُفتَحُ أولًا"؛ يعني القُسطَنطِينيّة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8550 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا شہر سب سے پہلے فتح ہو گا؟ قسطنطنیہ یا روم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے ہرقل کا شہر فتح ہو گا، یعنی قسطنطنیہ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8761]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8762
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن هشام بن عامر الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ رأس الدَّجَّال من ورائِه حُبُكٌ حُبُكٌ، وإنه سيقول: أنا ربُّكم، فمن قال: أنت ربِّي افتُتِنَ، ومن قال: كذبتَ، ربِّيَ اللهُ وعليه توكَّلتُ وإليه أُنيب، فلا يَضرُّه" أو قال:"فلا فتنةَ عليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8551 - على شرط البخاري ومسلم
ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دجال کے سر میں پچھلی جانب بالوں کی لٹیں ہوں گی، وہ دعوی کرے گا کہ میں رب ہوں، جو اس کی ربوبیت کا اقرار کرے گا وہ فتنے میں مبتلا ہو جائے گا، اور جو اس کو جھٹلائے گا اور کہے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، میرا رب تو اللہ ہے، میں اسی پر توکل کرتا ہوں، اور اسی سے میری امید ہے۔ اس کو کچھ نہیں ہو گا، یا شاید یہ فرمایا: وہ فتنے میں مبتلا نہیں ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8762]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8763
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار ويحيى بن سعيد ومَعمَر، عن ابن شِهاب، عن هند بنت الحارث، عن أم سَلَمة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ماذا نَزَلَ الليلةَ من الفتن؟! وماذا فُتِحَ من الخزائن؟! أَيقِظوا صواحباتِ الحُجُرات"؛ نساءَه (2) (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8552 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات کتنے ہی فتنے نازل ہوئے اور کتنے ہی خزانے کھلے، اے گھروں میں سونے والو! (خود بھی بیدار ہو جاؤ اور) اپنے گھر والوں کو بھی اٹھاؤ، بہت ساری خواتین جو دنیا میں کپڑے پہنتی ہیں، وہ قیامت کے دن ننگی ہوں گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8763]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں