المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
91. ذِكْرُ طَبَقَاتٍ شَتَّى لِبَنِي آدَمَ
بنی آدم کے مختلف طبقات اور درجات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8754
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا علي بن عثمان اللاحِقي وموسى بن إسماعيل قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا علي بن زيد، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد قال: صلَّى بنا رسولُ الله ﷺ صلاةَ العصر ثم قام خطيبًا بعد العصر إلى مَغرِبان الشمس، حَفِظَها من حفظها، ونَسِيَها من نسيها، وأَخبر فيها بما هو كائنٌ إلى يوم القيامة، فحَمِدَ الله تعالى وأثنى عليه، ثم قال:"أمَّا بعدُ، فإنَّ الدنيا حُلْوةٌ خَضِرةٌ، وإنَّ الله تعالى مُستخلِفُكم فيها فناظرٌ كيف تعملون، ألا فاتَّقُوا الدنيا واتَّقوا النساء. ألا إنَّ بني آدم خُلِقوا على طَبَقاتٍ شتَّى، فمنهم من يولدُ مؤمنًا ويحيا مؤمنًا ويموت مؤمنًا، ومنهم من يولدُ كافرًا ويحيا كافرًا ويموت كافرًا، ومنهم من يولدُ مؤمنًا ويحيا مؤمنًا ويموت كافرًا، ومنهم من يولدُ كافرًا ويحيا كافرًا ويموت مؤمنًا. ألا إنَّ الغضب جَمْرَةٌ تُوقَدُ في جوفِ ابن آدم، ألم تَرَوْا إلى حُمْرة عينيهِ وانتفاخِ أوداجِه، فإذا وَجَدَ أحدُكم من ذلك شيئًا فليَلزَقْ بالأرض. ألا إنَّ خيرَ الرِّجال من كان بطيءَ الغضب سريعَ الفَيْء، وشرَّ الرِّجال سريع من كان سريعَ الغضب بطيءَ الفَيْء، فإذا كان الرجلُ سريعَ الغضب سريعَ الفَيْء، فإنها بها (1) ، وإذا كان الرجلُ بطيءَ الغضب بطيءَ الفَيْء، فإنَّها بها. ألا إنَّ خيرَ التُّجار من كان حسنَ القضاءِ حسنَ الطَّلَب، وشرَّ التجار من كان سيِّيء القضاء سيِّئ الطلب، فإذا كان الرجل سيِّيء القضاء سيِّيء الطلب، فإنَّها بها، وإذا كان الرجل سيِّيء القضاءِ حسنَ الطَّلَب، فإنها بها. ألا لا يَمنعنَّ رجلًا مَهابةُ الناس أن يقول بالحقِّ إذا عَلِمَه. ألا إنَّ لكلِّ غادرٍ لواءً يوم القيامة بقَدْر غَدْرتِه، ألا وإنَّ أكبرَ الغَدْر غدرُ إمامِ عامّةٍ، إلا وإنَّ الغادرَ لواؤُه عند اسْتِه. ألا وإنَّ أفضلَ الجهاد كلمةُ حقٍّ عند سلطانٍ جائر". فلما كان عند مَغرِبان الشمس قال:"إنَّ مثلَ ما بقيَ من الدنيا فيما مضى منها، كمثلِ ما بقيَ من يومِكم هذا فيما مَضَى" (1) .
هذا حديث تفرَّد بهذه السِّياقة عليُّ بن زيد بن جُدْعان القرشي عن أبي نَضْرة، والشيخان ﵄ لم يحتجَّا بعليِّ بن زيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8543 - ابن جدعان صالح الحديث
هذا حديث تفرَّد بهذه السِّياقة عليُّ بن زيد بن جُدْعان القرشي عن أبي نَضْرة، والشيخان ﵄ لم يحتجَّا بعليِّ بن زيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8543 - ابن جدعان صالح الحديث
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد سے سورج غروب ہونے تک خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خطبے میں قیامت تک ہونے والے حالات کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا: ”اما بعد! یقیناً یہ دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں اپنا جانشین بنا کر دیکھنے والا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو، خبردار! دنیا اور عورتوں (کے فتنوں) سے بچو۔ سن لو! اولادِ آدم مختلف طبقات پر پیدا کی گئی ہے، ان میں سے کوئی مومن پیدا ہوتا ہے، مومن جیتا ہے اور مومن ہی مرتا ہے، کوئی کافر پیدا ہوتا ہے، کافر جیتا ہے اور کافر ہی مرتا ہے، کوئی مومن پیدا ہو کر مومن جیتا ہے مگر اس کی موت کفر پر ہوتی ہے، اور کوئی کافر پیدا ہو کر کافر جیتا ہے مگر اس کی موت ایمان پر ہوتی ہے۔ سن لو! غصہ ابنِ آدم کے جوف (سینے) میں دہکتا ہوا ایک انگارہ ہے، کیا تم نے غصہ کرنے والے کی آنکھوں کی سرخی اور اس کی رگوں کا پھولنا نہیں دیکھا؟ پس جب تم میں سے کوئی ایسی کیفیت محسوس کرے تو اسے چاہیے کہ زمین سے چمٹ جائے۔ سن لو! بہترین مرد وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے اور جلدی راضی ہو جائے، اور بدترین مرد وہ ہے جسے جلدی غصہ آئے اور دیر سے راضی ہو، پس اگر کوئی شخص جلدی غصہ کرنے والا اور جلدی راضی ہونے والا ہو تو یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کا بدلہ ہیں، اسی طرح اگر کوئی دیر سے غصہ کرے اور دیر سے راضی ہو تو یہ بھی برابر سرابر ہے۔ سن لو! بہترین تاجر وہ ہے جو ادائیگی میں بھی اچھا ہو اور مطالبہ کرنے میں بھی نرم ہو، اور بدترین تاجر وہ ہے جو ادائیگی میں بھی برا ہو اور مطالبہ کرنے میں بھی سخت ہو، پس اگر کوئی ادائیگی میں برا اور مطالبے میں برا ہو تو یہ برابر ہے، اور اگر ادائیگی میں برا اور مطالبے میں اچھا ہو تو یہ بھی ایک دوسرے کا بدل ہے۔ سن لو! لوگوں کی ہیبت کسی شخص کو حق بات کہنے سے نہ روکے جب وہ اسے جانتا ہو۔ سن لو! قیامت کے دن ہر عہد شکن (غدار) کے لیے اس کی غداری کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا، اور جان لو کہ سب سے بڑی غداری عامۃ الناس کے امام (حکمران) کی غداری ہے، اور غدار کا جھنڈا اس کی پیٹھ کے نچلے حصے کے پاس نصب ہوگا۔ سن لو! بہترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے۔“ پھر جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گزشتہ زمانے کے مقابلے میں دنیا کی اتنی ہی عمر باقی رہ گئی ہے جتنا تمہارا یہ دن گزرنے کے بعد باقی بچا ہے۔“
اس حدیث کی اس سیاق کے ساتھ روایت میں علی بن زید بن جدعان قرشی، ابونضرہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، اور شیخین نے علی بن زید سے احتجاج نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8754]
اس حدیث کی اس سیاق کے ساتھ روایت میں علی بن زید بن جدعان قرشی، ابونضرہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، اور شیخین نے علی بن زید سے احتجاج نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8754]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد» [ترقيم الرساله 8754] [ترقيم الشركة 8646] [ترقيم العلميه 8543]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8755
حدثنا علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا مسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا أبو مالك الأشجَعي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة قال: يُسرَى على كتاب الله فيُرفَعُ إلى السماء، فلا يصبحُ في الأرض آيةٌ من القرآن ولا من التوراة والإنجيل ولا الزَّبور، ويُنتزَعُ من قلوب الرِّجال فيصبحون ولا يَدرُون ما هو (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8544 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8544 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر ایک ایسی رات آئے گی کہ اسے (زمین سے) آسمان کی طرف اٹھا لیا جائے گا، پس صبح کے وقت زمین پر نہ قرآن کی کوئی آیت باقی رہے گی اور نہ ہی تورات، انجیل یا زبور کی کوئی آیت بچے گی، اور اسے لوگوں کے سینوں سے بھی کھینچ لیا جائے گا، تو وہ اس حال میں صبح کریں گے کہ وہ کچھ نہیں جانتے ہوں گے کہ یہ (قرآن) کیا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8755]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8755]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح. أبو مالك الأشجعي: هو سعد بن طارق، وأبو حازم: هو سلمان الأشجعي. وروي نحوه مرفوعًا من طريق علي بن مسهر عن سعد بن طارق» [ترقيم الرساله 8755] [ترقيم الشركة 8647] [ترقيم العلميه 8544]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح. أبو مالك الأشجعي: هو سعد بن طارق