المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
91. ذِكْرُ طَبَقَاتٍ شَتَّى لِبَنِي آدَمَ
بنی آدم کے مختلف طبقات اور درجات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8753
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا واصل بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا أبو مالك الأشجَعي، عن رِبْعيّ بن حِرَاش، عن حُذيفة قال: يَندرِسُ الإسلامُ كما يندرسُ الثوبُ الخَلَقُ حتى يصيرَ الناسُ ما يدرون ما صلاةٌ ولا صيامٌ ولا نُسُك، غير أنَّ الرجل والعجوز يقولون: قد أدرَكْنا الناسَ وهم يقولون: لا إله إلَّا الله، فنحن نقول: لا إله إلّا الله، فقال له صِلَةُ بن زُفَر: وما يُغْني عنهم لا إله إلَّا الله يا حذيفةُ، وهم لا يدرون صلاةً ولا صيامًا ولا نُسكًا؟ قال حذيفة يا صِلةٌ، ما تُغني عنهم لا إله إلّا الله؟! يَنجُون بلا إله إلَّا الله من النار (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام کی تعلیمات مٹتی رہیں گی جیسا کہ پرانا کپڑا بوسیدہ ہو جاتا ہے، حتی کہ لوگوں کی حالت یہ ہو گی کہ کسی کو نماز، روزے اور قربانی کا کچھ پتہ نہیں ہو گا، کوئی بوڑھا مرد یا کوئی بوڑھی عورت ان کو بتایا کرے گی کہ ہم نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو لا الہ الا اللہ پڑھا کرتے تھے، سیدنا صلہ بن زفر نے فرمایا: اے حذیفہ! جب ان کو نماز، روزہ اور قربانی تک کا کچھ پتا نہیں ہو گا تو ” لا الہ الا اللہ “ ان کو کیا فائدہ دے گا؟ سیدنا حذیفہ نے فرمایا: اے صلہ وہ لوگ ” لا الہ الا اللہ “ کی بناء پر دوزخ سے نجات پائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8753]
حدیث نمبر: 8754
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، حدثنا علي بن عثمان اللاحِقي وموسى بن إسماعيل قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا علي بن زيد، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد قال: صلَّى بنا رسولُ الله ﷺ صلاةَ العصر ثم قام خطيبًا بعد العصر إلى مَغرِبان الشمس، حَفِظَها من حفظها، ونَسِيَها من نسيها، وأَخبر فيها بما هو كائنٌ إلى يوم القيامة، فحَمِدَ الله تعالى وأثنى عليه، ثم قال:"أمَّا بعدُ، فإنَّ الدنيا حُلْوةٌ خَضِرةٌ، وإنَّ الله تعالى مُستخلِفُكم فيها فناظرٌ كيف تعملون، ألا فاتَّقُوا الدنيا واتَّقوا النساء. ألا إنَّ بني آدم خُلِقوا على طَبَقاتٍ شتَّى، فمنهم من يولدُ مؤمنًا ويحيا مؤمنًا ويموت مؤمنًا، ومنهم من يولدُ كافرًا ويحيا كافرًا ويموت كافرًا، ومنهم من يولدُ مؤمنًا ويحيا مؤمنًا ويموت كافرًا، ومنهم من يولدُ كافرًا ويحيا كافرًا ويموت مؤمنًا. ألا إنَّ الغضب جَمْرَةٌ تُوقَدُ في جوفِ ابن آدم، ألم تَرَوْا إلى حُمْرة عينيهِ وانتفاخِ أوداجِه، فإذا وَجَدَ أحدُكم من ذلك شيئًا فليَلزَقْ بالأرض. ألا إنَّ خيرَ الرِّجال من كان بطيءَ الغضب سريعَ الفَيْء، وشرَّ الرِّجال سريع من كان سريعَ الغضب بطيءَ الفَيْء، فإذا كان الرجلُ سريعَ الغضب سريعَ الفَيْء، فإنها بها (1) ، وإذا كان الرجلُ بطيءَ الغضب بطيءَ الفَيْء، فإنَّها بها. ألا إنَّ خيرَ التُّجار من كان حسنَ القضاءِ حسنَ الطَّلَب، وشرَّ التجار من كان سيِّيء القضاء سيِّئ الطلب، فإذا كان الرجل سيِّيء القضاء سيِّيء الطلب، فإنَّها بها، وإذا كان الرجل سيِّيء القضاءِ حسنَ الطَّلَب، فإنها بها. ألا لا يَمنعنَّ رجلًا مَهابةُ الناس أن يقول بالحقِّ إذا عَلِمَه. ألا إنَّ لكلِّ غادرٍ لواءً يوم القيامة بقَدْر غَدْرتِه، ألا وإنَّ أكبرَ الغَدْر غدرُ إمامِ عامّةٍ، إلا وإنَّ الغادرَ لواؤُه عند اسْتِه. ألا وإنَّ أفضلَ الجهاد كلمةُ حقٍّ عند سلطانٍ جائر". فلما كان عند مَغرِبان الشمس قال:"إنَّ مثلَ ما بقيَ من الدنيا فيما مضى منها، كمثلِ ما بقيَ من يومِكم هذا فيما مَضَى" (1) .
هذا حديث تفرَّد بهذه السِّياقة عليُّ بن زيد بن جُدْعان القرشي عن أبي نَضْرة، والشيخان ﵄ لم يحتجَّا بعليِّ بن زيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8543 - ابن جدعان صالح الحديث
هذا حديث تفرَّد بهذه السِّياقة عليُّ بن زيد بن جُدْعان القرشي عن أبي نَضْرة، والشيخان ﵄ لم يحتجَّا بعليِّ بن زيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8543 - ابن جدعان صالح الحديث
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی پھر عصر سے مغرب تک آپ نے ہمیں خطبہ دیا، کئی لوگوں نے اس کو یاد رکھا اور کئی لوگ بھول گئے، اس خطبے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک ہونے والے واقعات بیان کر دیے، (خطبے کے آغاز میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء فرمائی، پھر فرمایا: دنیا سرسبز اور میٹھی ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا میں کچھ عرصہ رکھے گا، وہ دیکھے گا کہ تم کیا عمل کرتے ہو، خبردار! دنیا سے بچتے رہنا، اور عورتوں سے بچتے رہنا، خبردار! بنی آدم کو مختلف طبقات میں پیدا کیا گیا ہے، * کچھ لوگ مومن پیدا ہوتے ہیں، مومن زندگی گزارتے ہیں اور حالت ایمان میں ہی وفات پاتے ہیں۔ * کچھ کافر پیدا ہوتے ہیں، کفر میں ہی زندگی گزارتے ہیں اور کفر پر ہی مرتے ہیں۔ * کچھ ایسے ہوتے ہیں جو مومن پیدا ہوتے ہیں، ایمان پر زندگی گزارتے ہیں لیکن کافر ہو کر مرتے ہیں۔ * کچھ ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں، کفر میں ہی زندگی گزارتے ہیں اور ان کا خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے۔ خبردار! غصہ ایک انگارہ ہے جو ابن آدم کے پیٹ میں پیدا ہوتا ہے، کیا تم اس کی آنکھوں کی سرخی کو نہیں دیکھتے؟ اور اس کے نتھنے پھولتے ہوئے نہیں دیکھتے؟ جب کسی پر یہ کیفیت طاری ہو، اس کو چاہئے کہ وہ زمین کے ساتھ چپک جائے۔ خبردار! مردوں میں سب سے بہتر وہ ہے جس کو بہت دیر سے غصہ آئے، اور وہ معاف بہت جلدی کر دے۔ اور سب سے برا شخص وہ ہے جس کو بہت جلدی غصہ آ جائے اور بہت دیر سے ختم ہو، اگر آدمی کو غصہ جلدی آتا ہو اور وہ معاف بھی جلدی کرتا ہو تب تو ٹھیک ہے، جس کو غصہ لیٹ آتا ہے اور ختم بھی دیر سے ہوتا ہے، یہ بھی ٹھیک ہے، خبردار! بہترین تاجر وہ ہے جو ادائیگی بھی اچھے انداز میں کرے اور تقاضا بھی اچھے انداز میں کرے، اور سب سے برا تاجر وہ ہے جو بداخلاقی سے تقاضا کرے اور برے انداز سے ادائیگی کرے۔ جس کی ادائیگی درست اور تقاضا برا ہو گا، یہ ٹھیک ہے اور جس کی ادائیگی درست اور تقاضا برا ہو گا وہ بھی ٹھیک ہے۔ خبردار! جس کو حق معلوم ہو لوگوں کی ہیبت اس کو حق بولنے سے روک نہ پائے، خبردار! ہر غدار کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا، اس کی مقدار اس کی غداری کے مطابق ہو گی، خبردار! سب سے بڑی غداری حکمران سے غداری ہے۔ خبردار! غدار کا جھنڈا اس کی سرین پر ہو گا، خبردار! بہترین جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا ہے۔ پھر جب سورج کے غروب ہونے کے بالکل قریب تھا تو فرمایا: اب دنیا جتنی باقی بچی ہے وہ اتنی ہی ہے جتنا آج کے دن کا وقت باقی بچا ہے۔ ٭٭ علی بن زید بن جدعان قرشی یہ حدیث اس اسناد کے ہمراہ، ابونضرہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے علی بن زید کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8754]