🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

103. وَصِيَّتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ
سیدنا خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے لیے نبی کریم ﷺ کی وصیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8791
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا موسى ابن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن أبي عثمان، عن خالد بن عُرفُطةَ قال: قال لي رسول الله ﷺ:"يا خالدُ، إنه سيكون بعدي أحداثٌ وفتنٌ واختلافٌ، فإن استطعتَ أن تكون عبدَ الله المقتولَ لا القاتلَ، فافعَلْ" (1) . تفرَّد به عليُّ بن زيد القُرَشي عن أبي عثمان النَّهْدي، ولم يَحتجَّا بعليٍّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8578 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے خالد! یقیناً میرے بعد (نت نئے) حادثات، فتنے اور اختلافات پیدا ہوں گے، پس اگر تم اس بات کی استطاعت رکھو کہ تم اللہ کے وہ بندے بنو جو قتل کر دیا گیا ہو نہ کہ وہ جو قتل کرنے والا ہو، تو ایسا ہی کرنا۔
اس حدیث کو نقل کرنے میں علی بن زید قرشی، ابو عثمان نہدی سے منفرد ہیں اور شیخین نے علی بن زید سے استدلال نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8791]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد: وهو ابن جُدْعان» [ترقيم الرساله 8791] [ترقيم الشركة 8681] [ترقيم العلميه 8578]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8792
أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الحافظ الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق بن أحمد بن مِهران، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي قال: سمعت مالكَ بن أنس يُحدِّث عن عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عَتِيك أنه قال: جاءنا عبدُ الله بن عمرو (2) في بني معاويةَ - وهي قريةٌ من قُرى الأنصار - فقال: هل تدري أين صلَّى رسول الله ﷺ في مسجدِكم هذا؟ قال: قلت: نعم؛ وأشَرتُ له إلى ناحيةٍ منه، فقال: هل تدري ما الثلاثُ التي دعا بهنَّ فيه؟ قلت: نعم، فقال: أخبِرْني بهنَّ، فقلت: دعا بأن لا يُظهر عليهم عدوًّا من غيرهم، ولا يُهلِكَهم بالسِّنين، فأُعطِيَهما، ودعا بأن لا يَجعلَ بأْسَهم بينهم، فمُنِعَها (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8579 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن عبداللہ بن جابر بن عتیک سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بنو معاویہ (جو کہ انصار کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے) میں تشریف لائے اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری اس مسجد میں کس جگہ نماز پڑھی تھی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں؛ اور میں نے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا، پھر انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ تین دعائیں کون سی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں مانگی تھیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا: مجھے ان کے بارے میں بتاؤ، میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی کہ ان پر ان کے علاوہ (غیر قوم) میں سے کوئی دشمن غالب نہ آئے اور انہیں قحط سالی سے ہلاک نہ کیا جائے، پس یہ دونوں دعائیں قبول کر لی گئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی کہ ان کی آپس کی لڑائی (خانہ جنگی) نہ ہو، تو اس سے منع فرما دیا گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8792]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وهو في "موطأ مالك" برواية يحيى الليثي 1/ 216» [ترقيم الرساله 8792] [ترقيم الشركة 8682] [ترقيم العلميه 8579]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8793
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا ابن وهب، عن مَسلَمة (1) بن علي، عن قَتادة، عن ابن المسيّب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"تكون هَدَّةٌ في شهر رمضان تُوقِظُ النائمَ، وتُفزِعُ اليقظانَ، ثم تظهرُ عِصابةٌ في شوَّال، ثم مَعمَعةٌ (2) في ذي الحِجّة، ثم تُنتَهكُ المحارمُ في المحرَّم، ثم يكون موتٌ في صَفَر، ثم تتنازع القبائلُ في ربيعٍ، ثم العَجَبُ كلُّ العجب، بين جُمادى ورَجَب، ثم ناقةٌ مُقتَبَة خيرٌ من دَسْكَرةٍ تُغِلُّ (3) مئةَ ألف (4) . قد احتَجَّ الشيخان ﵄ برُوَاة هذا الحديث عن آخرهم غير مَسلَمة بن علي الخُشَني، وهو حديث غريبُ المَتْن، ومَسلَمةُ أيضًا ممَّن لا تقوم الحُجَّةُ به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8580 - ذا موضوع
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے مہینے میں ایک زوردار دھماکہ ہوگا جو سونے والے کو بیدار کر دے گا اور جاگنے والے کو خوفزدہ کر دے گا، پھر شوال میں ایک گروہ نمودار ہوگا، پھر ذوالحجہ میں قتل و غارت اور افراتفری ہوگی، پھر محرم میں حرمتیں پامال کی جائیں گی، پھر صفر میں اموات ہوں گی، پھر ربیع الاول و الآخر میں قبائل آپس میں جھگڑیں گے، پھر جمادی اور رجب کے درمیان بہت ہی حیران کن واقعات ہوں گے، پھر اس وقت (ایسے معاشی حالات ہوں گے کہ) ایک کجاوہ لدی ہوئی اونٹنی ایک لاکھ (درہم یا دینار) منافع دینے والے قلعے یا بستی سے بہتر ہوگی۔
شیخین نے اس حدیث کے تمام راویوں سے استدلال کیا ہے سوائے مسلمہ بن علی خشنی کے، اور یہ حدیث متن کے اعتبار سے غریب ہے، نیز مسلمہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی روایت سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8793]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، وقال الذهبي في "تلخيصه": ذا موضوع، ومسلمة ساقط متروك» [ترقيم الرساله 8793] [ترقيم الشركة 8683] [ترقيم العلميه 8580]

الحكم على الحديث: إسناده تالف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں