🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

102. إِذَا اسْتَحَلُّوا الزِّنَى وَشَرِبُوا الْخَمْرَ غَارَ اللَّهُ فِي سَمَائِهِ
جب لوگ زنا کو حلال سمجھ لیں گے اور شراب پییں گے تو اللہ اپنی شان کے مطابق غیرت فرمائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8787
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتَيبة القاضي بمصر، حدثنا أبو داود الطَّيالِسي، حدثنا عمران القَطّان، عن قَتَادة، عن عبد الله بن رَبَاح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"بادِروا بالأعمال سِتًّا: قبلَ طلوع الشمس من مَغرِبها، والدُّخان، والدَّجّال، ودابَّةِ الأرض، وخُوَيصَّةِ أحدكم، وأمرِ العامَّة" (2) . قد احتجَّ مسلم بعبد الله بن رَبَاح.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8574 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 6 اعمال میں جلدی کرو * مغرب کی جانب سے سورج طلوع ہونے سے پہلے * دھواں نمودار ہونے سے پہلے۔ * دجال کے خروج سے پہلے۔ * دابۃ الارض کے ظہور سے پہلے۔ * اور کسی کے امر خصوصی سے پہلے۔ * اور امر عامہ سے پہلے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ بن رباح کی روایت نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8787]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8788
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعَيم بن حمّاد، حدثنا بَقِيَّة بن الوليد، عن يزيد بن عبد الله الجُهَني، عن أنس بن مالك قال: دخلتُ على عائشةَ ورجلٌ معها، فقال الرجل: يا أمَّ المؤمنين، حدِّثينا عن الزَّلزلة، فأعرَضَت عنه بوجهِها، قال أنس: فقلت لها: حدِّثينا يا أمَّ المؤمنين عن الزَّلزلة، فقالت: يا أنسُ، إن حدَّثتُكَ عنها عشتَ حزينًا، وبُعِثْتَ حين تُبعَثُ وذلك الحُزْنُ في قلبك، فقلت: يا أُمَّاه، حدَّثينا، فقالت: إنَّ المرأةَ إذا خَلَعَت ثيابَها في غير بيتِ زوجِها، هَتَكَت ما بينَها وبينَ الله ﷿ من حِجابٍ، وإنْ تطيَّبَت لغير زوجِها كان عليها نارًا وشَنَارًا، فإذا استَحلُّوا الزِّنى وشربوا الخمور بعدَ هذا، وضربوا المعازفَ، غارَ اللهُ في سمائِه فقال: تَزلزَلي بهم، فإن تابوا ونَزَعُوا وإلَّا هَدَمَها عليهم، فقال أنس: عقوبةً لهم؟ قالت: رحمةً وبركةً وموعظةً للمؤمنين، ونَكالًا وسَخْطةً وعذابًا للكافرين، قال أنس: فما سمعتُ بعدَ رسول الله ﷺ حديثًا أنا أشدُّ به فرحًا مني بهذا الحديث، بل أعيشُ فَرِحًا، وأُبعَثُ حين أُبعَثُ وذلك الفرحُ في قلبي. أو قال: في نَفْسي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8575 - بل أحسبه موضوعا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک آدمی کے ہمراہ، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، اس آدمی نے کہا: اے ام المومنین! آپ ہمیں زلزلہ کے بارے میں کوئی حدیث سنائیں، ام المومنین نے ان سے منہ پھیر لیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر میں نے کہا: اے ام المومنین! آپ ہمیں زلزلے کے بارے میں کوئی حدیث سنائیں، آپ نے فرمایا: اے انس! اگر میں تجھے وہ حدیث سنا دوں تو تم ساری زندگی پریشانی کے عالم میں گزارو گے، اور جب تم قیامت کے دن اٹھو گے، وہ پریشانی اس وقت بھی تمہارے دل میں موجود ہو گی۔ میں نے پھر کہا: اے میری ماں، آپ ہمیں وہ حدیث سنا دیجئے، آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بے شک جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے باہر اپنے کپڑے اتارتی ہے تو وہ اپنے اور اللہ کے درمیان حجاب کو پھاڑ دیتی ہے، اور اگر عورت غیر مرد کے لئے خوشبو لگائے تو وہ اس کے لئے آگ اور شرم کا باعث ہو گی، اور اس کے بعد جب لوگ زنا کو اپنا حق سمجھ لیں، شراب نوشی میں مبتلا ہو جائیں، گانے باجے میں لگ جائیں تو اللہ تعالیٰ آسمانوں سے ان کے لئے عذاب نازل فرمائے گا، اللہ تعالیٰ زمین سے فرمائے گا: ان پر زلزلے لا، اگر وہ توبہ کر کے گناہوں سے باز آ جائیں گے تو ٹھیک ہے، ورنہ ان کو تباہ کر دیا جائے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ زلزلہ ان کے لئے سزا ہو گا، ام المومنین نے فرمایا: مومنوں کے لئے رحمت، برکت اور نصیحت اور کافروں کے لئے سزا اور عذاب ہو گا۔ سیدنا انس فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس حدیث کو سن کر جتنی خوشی ہوئی، اس سے زیادہ کسی چیز پر خوشی نہیں ہوئی۔ آپ نے فرمایا: بلکہ میں ساری زندگی خوشی خوشی گزاروں گا، اور جب میں قیامت میں اٹھوں گا تب بھی یہ خوشی میرے دل میں موجود ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8788]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8789
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، عن كَثير بن زيد قال: حدثني الوليد بن رَبَاح مولى [ابن] أبي ذُبَاب، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"سألتُ ربِّي ثلاثًا، فأعطاني ثِنتَين ومَنَعني واحدةً: سألتُه أن لا يُهلِكَ أُمَّتي بالسِّنين، فأعطاني، وسألتُه أن لا يُسلِّطَ عليهم عدوًّا من غيرِهم، فأعطاني، وسألتُه أن لا يُلبِسَهم شِيَعًا ويُذيقَ بعضَهم بأسَ بعضٍ، فمَنَعَني" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں، اس نے مجھے دو چیزیں عطا فرمادیں، اور ایک سے منع فرما دیا، میں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہیں فرمائے گا، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول فرما لی، میں نے دعا مانگی کہ ان کے اغیار میں سے کوئی دشمن ان پر غالب نہ آئے، اللہ تعالیٰ نے یہ بھی قبول فرما لی۔ میں نے دعا مانگی کہ یہ آپس میں نہ لڑیں، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے منع فرما دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8789]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں