🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

102. إِذَا اسْتَحَلُّوا الزِّنَى وَشَرِبُوا الْخَمْرَ غَارَ اللَّهُ فِي سَمَائِهِ
جب لوگ زنا کو حلال سمجھ لیں گے اور شراب پییں گے تو اللہ اپنی شان کے مطابق غیرت فرمائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8788
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعَيم بن حمّاد، حدثنا بَقِيَّة بن الوليد، عن يزيد بن عبد الله الجُهَني، عن أنس بن مالك قال: دخلتُ على عائشةَ ورجلٌ معها، فقال الرجل: يا أمَّ المؤمنين، حدِّثينا عن الزَّلزلة، فأعرَضَت عنه بوجهِها، قال أنس: فقلت لها: حدِّثينا يا أمَّ المؤمنين عن الزَّلزلة، فقالت: يا أنسُ، إن حدَّثتُكَ عنها عشتَ حزينًا، وبُعِثْتَ حين تُبعَثُ وذلك الحُزْنُ في قلبك، فقلت: يا أُمَّاه، حدَّثينا، فقالت: إنَّ المرأةَ إذا خَلَعَت ثيابَها في غير بيتِ زوجِها، هَتَكَت ما بينَها وبينَ الله ﷿ من حِجابٍ، وإنْ تطيَّبَت لغير زوجِها كان عليها نارًا وشَنَارًا، فإذا استَحلُّوا الزِّنى وشربوا الخمور بعدَ هذا، وضربوا المعازفَ، غارَ اللهُ في سمائِه فقال: تَزلزَلي بهم، فإن تابوا ونَزَعُوا وإلَّا هَدَمَها عليهم، فقال أنس: عقوبةً لهم؟ قالت: رحمةً وبركةً وموعظةً للمؤمنين، ونَكالًا وسَخْطةً وعذابًا للكافرين، قال أنس: فما سمعتُ بعدَ رسول الله ﷺ حديثًا أنا أشدُّ به فرحًا مني بهذا الحديث، بل أعيشُ فَرِحًا، وأُبعَثُ حين أُبعَثُ وذلك الفرحُ في قلبي. أو قال: في نَفْسي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8575 - بل أحسبه موضوعا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایک شخص بھی ان کے ہمراہ تھا، اس شخص نے عرض کیا: اے ام المومنین! ہمیں زلزلے کے متعلق کچھ بتائیے، تو انہوں نے اس سے اپنا رخ موڑ لیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے ام المومنین! ہمیں زلزلے کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے فرمایا: اے انس! اگر میں نے تمہیں اس بارے میں بتا دیا تو تم (ساری زندگی) غمگین رہو گے اور جب (قیامت کے دن) اٹھائے جاؤ گے تو وہی غم تمہارے دل میں ہوگا، میں نے عرض کیا: اے میری ماں! ہمیں بتا دیجیے، تو انہوں نے فرمایا: بلاشبہ عورت جب اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کہیں اور اپنے کپڑے اتارتی ہے تو وہ اپنے اور اللہ عزوجل کے درمیان موجود پردے کو چاک کر دیتی ہے، اور اگر وہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لیے خوشبو لگائے تو وہ اس کے لیے آگ اور شرمندگی کا باعث ہے، پس جب لوگ اس (بداخلاقی) کے بعد زنا کو حلال سمجھ لیں گے، شرابیں پییں گے اور موسیقی کے آلات بجائیں گے، تو اللہ تعالیٰ اپنے آسمان میں غیرت فرمائے گا اور (زمین کو) حکم دے گا کہ ان پر لرزہ طاری کر دے، پس اگر وہ توبہ کر لیں اور (ان گناہوں سے) باز آ جائیں تو ٹھیک ورنہ زمین ان پر منہدم کر دی جائے گی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا یہ ان کے لیے سزا ہوگی؟ انہوں نے فرمایا: (نہیں بلکہ) یہ مومنین کے لیے رحمت، برکت اور نصیحت ہے، جبکہ کافروں کے لیے عبرت ناک سزا، غضب اور عذاب ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے کوئی ایسی حدیث نہیں سنی جس سے مجھے اس حدیث سے زیادہ خوشی ہوئی ہو، بلکہ میں (اب) خوشی کی حالت میں جیتا ہوں اور جب اٹھایا جاؤں گا تو وہ خوشی میرے دل — یا فرمایا میری جان — میں ہوگی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8788]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، وقال الذهبي في "تلخيصه": بل أحسبه موضوعًا على أنس، ونعيم منكر الحديث إلى الغابية مع أنَّ البخاري روى عنه» [ترقيم الرساله 8788] [ترقيم الشركة 8678] [ترقيم العلميه 8575]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8789
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، عن كَثير بن زيد قال: حدثني الوليد بن رَبَاح مولى [ابن] أبي ذُبَاب، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"سألتُ ربِّي ثلاثًا، فأعطاني ثِنتَين ومَنَعني واحدةً: سألتُه أن لا يُهلِكَ أُمَّتي بالسِّنين، فأعطاني، وسألتُه أن لا يُسلِّطَ عليهم عدوًّا من غيرِهم، فأعطاني، وسألتُه أن لا يُلبِسَهم شِيَعًا ويُذيقَ بعضَهم بأسَ بعضٍ، فمَنَعَني" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین چیزوں کا سوال کیا، پس اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے منع فرما دیا: میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرے، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی، اور میں نے سوال کیا کہ ان پر ان کے علاوہ (غیر قوم) میں سے کوئی دشمن مسلط نہ کرے (جو انہیں جڑ سے ختم کر دے)، تو اس نے مجھے یہ بھی عطا کر دی، اور میں نے سوال کیا کہ وہ انہیں گروہوں میں تقسیم نہ کرے اور نہ ہی انہیں ایک دوسرے کی لڑائی کا ذائقہ چکھائے، تو اس نے مجھے اس سے منع فرما دیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8789]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل كثير بن زيد الأسلمي والوليد بن رباح» [ترقيم الرساله 8789] [ترقيم الشركة 8679]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8790
أخبرني أحمد بن محمد بن بالَوَيهِ العَفْصي (1) ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثنا هُدْبة بن خالد، حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العَمِّي، حدثنا يزيد بن المِقْدام، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة قال: قد رأَيْنا من كلِّ شيءٍ قاله لنا رسولُ الله ﷺ، غيرَ أنه قال:"يقال لرجالٍ يومَ القيامة: اطرَحُوا سِياطَكم وادخلوا جهنَّمَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8577 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے ہر وہ چیز دیکھ لی ہے جس کی خبر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: قیامت کے دن کچھ مردوں سے کہا جائے گا: اپنے کوڑے پھینک دو اور جہنم میں داخل ہو جاؤ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8790]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، وقد وقع فيه عند المصنف وهمٌ حيث سمَّى فيه الراوي عن سعيد بن المسيب يزيدَ بنَ المقدام، وليس في هذه الطبقة من يسمى كذلك، وروى هذا الحديث البزار في "مسنده" (7850) عن محمد بن الأسود العمِّي عن عبد العزيز بن عبد الصمد عن أبي المقدام عن سعيد ...» [ترقيم الرساله 8790] [ترقيم الشركة 8680] [ترقيم العلميه 8577]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں