🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

117. عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَي حِمَارِ الدَّجَّالِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا
دجال کے گدھے کے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8827
حدثنا محمد بن محمد بن عبد الله الرَّمْجاريُّ، حدثنا أحمد بن معاذ السُّلَمي ومَحمِش (3) بن عِصام قالا: حدثنا حفص بن عبد الله السَّلَمي، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان عن أبي الزُّبير عن جابر، عن النبي ﷺ قال:"يخرج الدَّجالُ في خِفَّةٍ من الدِّين وإدبارٍ من العلم، وله أربعون يومًا يَسِيحُها، اليومُ منها كالسَّنة، واليومُ كالشهر، واليوم كالجُمعة، ثم سائرُ أيامه مثلُ أيامكم، وله حمار يَركَبُه، عَرْضُ ما بين أُذُنيه أربعون ذراعًا، يأتي الناسَ فيقول: أنا ربُّكم! وإنَّ ربَّكم ليس بأعورَ، مكتوبٌ بين عينيه: ك ف ر، يقرؤه كلُّ مؤمنٍ كاتبٍ وغيرِ كاتب، يمرُّ بكل ماءٍ ومَنهَل إِلَّا المدينةَ ومكةَ، حرَّمهما اللهُ عليه وقامت الملائكةُ بأبوابها". (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8613 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال اس وقت نکلے گا جب دین میں کمزوری ہوگی اور علم پیٹھ پھیر چکا ہوگا، اسے زمین کی سیر کے لیے چالیس دن ملیں گے، ان میں سے ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی ایام تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے، اس کا ایک گدھا ہوگا جس پر وہ سواری کرے گا، اس کے دونوں کانوں کے درمیان کی چوڑائی چالیس ہاتھ ہوگی، وہ لوگوں کے پاس آ کر کہے گا: میں تمہارا رب ہوں! حالانکہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ وہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، وہ ہر پانی اور گھاٹ پر گزرے گا سوائے مدینہ اور مکہ کے، اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں شہر اس پر حرام کر دیے ہیں اور فرشتے ان کے دروازوں پر پہرہ دے رہے ہوں گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8827]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي من أجل أبي الزبير: وهو محمد بن مسلم بن تَدرُس المكي» [ترقيم الرساله 8827] [ترقيم الشركة 8716] [ترقيم العلميه 8613]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8828
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن جدِّه: أن رسول الله ﷺ ذكر الدَّجال فقال:"إنْ يَخرج وأنا فيكم، فأنا حَجيجُكم، وإن يَخرجْ ولست فيكم، فكلُّ امْرِيءٍ حَجِيجُ نفسِه، واللهُ خليفتي على كلِّ مسلم، ألا وإنه مطموسُ العين كأنها عينُ عبدِ العُزَّى بن قَطَن الخُزاعي، ألا فإنه مكتوبٌ بين عينيه: كافر، يقرؤُه كلُّ مسلم، فمن لَقِيَه منكم فليَقرأْ بفاتحة الكهف، يخرجُ من بين الشام والعراق، فعاثَ يمينًا وعاثَ شِمالًا، يا عبادَ الله اثْبُتوا" ثلاثًا، فقيل: يا رسول الله، فما مُكْثُه في الأرض؟ قال:"أربعون يومًا: يومٌ كالسَّنة، ويومٌ كالشهر، ويومٌ كالجُمعة، وسائرُها كأيامِكم" قالوا يا رسول الله، فكيف نصنعُ بالصلاة يومئذٍ، صلاةُ يومٍ أو نَقدُرُ؟ قال:"بل تَقدُرون (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8614 - صحيح
سیدنا جبیر بن نفیر اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا: اگر وہ (دجال) میری موجودگی میں نکلا تو میں تمہاری طرف سے اس کا مقابلہ کرنے والا ہوں، اور اگر وہ میرے بعد نکلا تو ہر شخص خود اپنا دفاع کرنے والا ہوگا، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (نگہبان) ہے، خبردار! وہ کانی آنکھ والا ہے گویا کہ اس کی آنکھ عبد العزیٰ بن قطن خزاعی کی آنکھ کی طرح ہے، آگاہ رہو! اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا، پس تم میں سے جو اسے پائے اسے چاہیے کہ سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ شام اور عراق کے درمیانی راستے سے نکلے گا اور دائیں بائیں خوب فساد مچائے گا، اے اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ زمین میں کتنا عرصہ قیام کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن: ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس (طویل) دن میں ہم نماز کیسے پڑھیں گے، کیا ایک ہی دن کی نمازیں کافی ہوں گی یا ہم وقت کا اندازہ کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (وقت کا) اندازہ لگانا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8828]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، لكن من حديث جبير بن نفير عن النواس بن سِمعان عن النبي ﷺ، فقد خولف فيه معاوية بن صالح كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8828] [ترقيم الشركة 8717] [ترقيم العلميه 8614]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں