المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
117. عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَي حِمَارِ الدَّجَّالِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا
دجال کے گدھے کے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ چالیس ہاتھ ہوگا
حدیث نمبر: 8826
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ﵀، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادة، عن أبي الطُّفَيل، عن حُذيفة بن أَسِيد؛ قال (1) : كنت بالكوفة فقيل: خرج الدَّجّالُ، قال: فأتَينا على حذيفة بن أَسيد وهو يحدِّث، فقلت: هذا الدجالُ قد خرج، فقال: اجلِسْ، فجلستُ، فأَتى علينا العَريفُ (2) فقال: هذا الدجالُ قد خرج وأهل الكوفة يُطاعِنونَه، قال: اجلِسْ، فجلس، فنودِيَ: إنها كَذْبةُ صَبَّاغ (3) . قال: فقلنا: يا أبا سَريحةَ، ما أجلستَنا إلَّا لأمرٍ، فحدِّثنا، قال: إنَّ الدجال لو خرج في زمانِكم، لرَمَتْه الصِّبيانُ بالخَزَف (4) ، ولكن الدجال يخرج في نقص من الناس وخِفَّة من الدِّين وسوءِ ذاتِ بَينٍ، فيَرِدُ كلَّ مَنْهَلٍ، فتُطَوى له الأرضُ طيَّ فَرْوةِ الكَبْش، حتى يأتيَ المدينة، فيغلبُ على خارجِها ويمنع داخلَها، ثم جبلَ إيلِياءَ (5) فيحاصرُ عِصابةً من المسلمين، فيقول لهم الذين عليهم: ما تنتظرون بهذا الطاغيةِ أن تقاتلوه حتى تَلحَقوا بالله أو يُفتَحَ لكم؟! فيأتمِرون أن يقاتلوه إذا أصبحوا، فيُصبِحون ومعهم عيسى ابن مريمَ، فيَقتُل الدَّجالَ ويَهزِمُ أصحابَه، حتى إنَّ الشجر والحجر والمَدَر يقول: يا مؤمنُ، هذا يهوديٌّ عندي فاقتُلْه، قال: وفيه ثلاثُ علامات: هو أعورُ، وربُّكم ليس بأعورَ، ومكتوبٌ بين عينيه: كافر، يقرؤُه كلُّ مؤمنٍ أُمِّيٍّ وكاتب، ولا تُسخَّرُ له المَطايا إِلَّا الحمارُ، فهو رِجسٌ على رجس. ثم قال: أنا لغيرِ الدجال أخوفُ عليَّ وعليكم، قال: فقلنا: ما هو يا أبا سَرِيحة؟ قال: فتنٌ كأنها قِطَعُ الليل المظلِم، قال: فقلنا: أيُّ الناس فيها شرٌّ؟ قال: كلُّ خطيبٍ مِصقَع، وكلُّ راكبٍ مُوضِع (1) ، قال: فقلنا: أيُّ الناس خيرٌ؟ قال: كلُّ غنيٍّ خفيّ، قال: فقلت: ما أنا بالغنيِّ ولا بالخفيِّ، قال: فكن كابنِ اللَّبُون، لا ظهر فيُركَبَ، ولا ضَرْعَ فيُحلَبَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8612 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8612 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوالطفیل فرماتے ہیں: میں کوفہ میں تھا، یہ شور ہوا کہ دجال ظاہر ہو گیا ہے، ہم سیدنا حذیفہ بن اسید کے پاس آئے، اس وقت وہ حدیثیں بیان کر رہے تھے، میں نے کہا: دجال تو ظاہر ہو گیا ہے، انہوں نے کہا: بیٹھ جاؤ، میں بیٹھ گیا، ایک نجومی میرے پاس آیا اور کہنے لگا: دجال ظاہر ہو گیا ہے اور کوفہ والوں نے اس کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے۔ انہوں نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں پھر بیٹھ گیا، پھر ندا دی گئی کہ وہ جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ فرماتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابوسریحہ آپ نے ہمیں جس کام سے بٹھایا ہوا ہے، آپ ہمیں اس بارے میں حدیث سنائیں۔ انہوں نے فرمایا: اگر تمہارے زمانے میں دجال ظاہر ہو جائے تو اس کو بچے ہی مار ڈالیں گے، دجال اس وقت نکلے گا جب لوگوں کا آپس میں بغض ہو گا اور دین کے معاملات بہت ہلکے سمجھے جائیں گے، آپس کے تعلقات درست نہیں ہوں گے، وہ ہر گھاٹ پر آئے گا، اس کے لئے زمین سمیٹ دی جائے گی، جیسا کہ مینڈھے کی کھال (اتار کر) تہہ کر لی جاتی ہے۔ حتی کہ وہ مدینہ میں آئے گا، وہ مدینہ کے باہر کے لوگوں پر غالب آ جائے گا اور اس کے اندر والوں پر غالب نہیں آ سکے گا۔ پھر وہ ایلیاء کی طرف جائے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت کا محاصرہ کر لے گا، یہ لوگ آپس میں مشورہ کریں گے کہ تم لوگ اس سرکش کے ساتھ جہاد کرنے میں کس بات کا انتظار کر رہے ہو؟ تم جہاد کرو، اللہ تعالیٰ سے جا ملو، یا فتح حاصل کر لو، وہ یہ فیصلہ کر لیں گے کہ صبح کے وقت جنگ شروع کر دی جائے گی، لیکن جب صبح ہو گی تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ان کے ہمراہ ہوں گے، وہ دجال کو قتل کریں گے، اس کے ساتھیوں کو شکست دیں گے، حتی کہ درخت، پتھر اور جھاڑیاں پکار پکار کر کہیں گی کہ اے مومن! یہ میرے پاس یہودی ہے، اس کو قتل کر دو، اس میں تین نشانیاں ہوں گی، وہ کانا ہو گا جبکہ تمہارا رب ایسا نہیں ہے، اس کی پیشانی پر ” کافر “ لکھا ہو گا، ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ اس کو پڑھے گا، وہ صرف گدھے پر سواری کرے گا۔ وہ پلید در پلید ہو گا، پھر فرمایا: مجھے اپنے اوپر اور تم پر دجال کے علاوہ بھی ایک بہت بڑا ڈر ہے، ہم نے پوچھا: اے ابوسریحہ، وہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے فرمایا: اندھیری رات کی طرح فتنے آئیں گے۔ ہم نے کہا: ان فتنوں میں سب سے برا شخص کون ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: ہر فصیح و بلیغ خطیب اور تیز اونٹ پر سواری کرنے والا۔ ہم نے کہا: ان فتنوں کے زمانے میں سب سے افضل کون ہو گا؟ فرمایا: ہر پوشیدہ مالدار۔ میں نے کہا: میں تو نہ ہی مالدار ہوں اور نہ ہی پوشیدہ ہوں، فرمایا: تو اونٹ کے چھوٹے بچے کی طرح ہو جا، نہ تو اس کی پشت پر بوجھ لادا جاتا ہے اور نہ ہی اس میں دودھ ہوتا ہے کہ دوہا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8826]
حدیث نمبر: 8827
حدثنا محمد بن محمد بن عبد الله الرَّمْجاريُّ، حدثنا أحمد بن معاذ السُّلَمي ومَحمِش (3) بن عِصام قالا: حدثنا حفص بن عبد الله السَّلَمي، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان عن أبي الزُّبير عن جابر، عن النبي ﷺ قال:"يخرج الدَّجالُ في خِفَّةٍ من الدِّين وإدبارٍ من العلم، وله أربعون يومًا يَسِيحُها، اليومُ منها كالسَّنة، واليومُ كالشهر، واليوم كالجُمعة، ثم سائرُ أيامه مثلُ أيامكم، وله حمار يَركَبُه، عَرْضُ ما بين أُذُنيه أربعون ذراعًا، يأتي الناسَ فيقول: أنا ربُّكم! وإنَّ ربَّكم ليس بأعورَ، مكتوبٌ بين عينيه: ك ف ر، يقرؤه كلُّ مؤمنٍ كاتبٍ وغيرِ كاتب، يمرُّ بكل ماءٍ ومَنهَل إِلَّا المدينةَ ومكةَ، حرَّمهما اللهُ عليه وقامت الملائكةُ بأبوابها". (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8613 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8613 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دجال اس وقت ظاہر ہو گا جب دین کو ہلکا جانا جائے گا، علم دین سے لوگ منہ موڑ چکے ہوں گے، وہ چالیس دن رہے گا، ایک دن، پورے سال کے برابر ہو گا اور ایک دن، مہینے کے برابر ہو گا اور دن ایک ہفتے کے برابر ہو گا، اس کے بعد تمام دن عام دنوں کی طرح ہوں گے، وہ گدھے پر سواری کرے گا، اس کے دو کانوں کے درمیان چالیس ہاتھ کا فاصلہ ہو گا، وہ لوگوں کے پاس آئے گا، اور کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، حالانکہ تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہو گا: ک ف ر۔ ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن اس کو پڑھ سکے گا، وہ ہر پانی اور گھاٹ کے پاس سے گزرے گا، سوائے مکہ اور مدینہ کے، کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں شہر اس پر حرام کر دیئے ہیں، اور اس کے دروازوں پر فرشتے مقرر ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8827]