المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
131. يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ: مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ
قرآن پڑھنے والے تین طرح کے ہیں: مومن، منافق اور فاجر
حدیث نمبر: 8857
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيوة بن شُريح، حدثني بَشِير بن أبي عمرو الخَوْلاني، أنَّ الوليد بن قيس التُّجِيبي حدَّثه، أنه سمع أبا سعيد الخُدْري يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: يكون خَلْفٌ من بعدِ ستينَ سنةً أضاعوا الصلاة واتَّبَعوا الشَّهَواتِ، فسوف يلقون غَيًّا، ثم يكون خَلْفٌ من بعدِ ستينَ سنةً يقرؤُون القرآنَ لا يَعدُو تَراقِيهَم، ويقرأُ القرآنَ ثلاثةٌ: مؤمنٌ، ومنافقٌ، وفاجرٌ". قال بشير: فقلتُ للوليد: ما هؤلاءِ الثلاثةُ؟ قال: المنافق كافرٌ به، والفاجر يتأكَّلُ به، والمؤمن يؤمنُ به (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8643 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8643 - صحيح
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ساٹھ سال کے بعد ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے جو نماز کو ضائع کر دیں گے اور اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے، پس وہ عنقریب تباہی (غی) سے دوچار ہوں گے، پھر ساٹھ سال کے بعد ایسے نااہل لوگ ہوں گے جو قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور قرآن تین طرح کے لوگ پڑھیں گے: مومن، منافق اور بدکار۔“ بشیر کہتے ہیں کہ میں نے ولید سے پوچھا: ان تینوں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: منافق اس کا انکار کرنے والا ہے، بدکار اس کے ذریعے (دنیا) کھانے والا ہے اور مومن اس پر ایمان لانے والا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8857]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8857]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 8857] [ترقيم الشركة 8747] [ترقيم العلميه 8643]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8858
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشَّهيد والفضل بن محمد بن المسيَّب الشَّعْراني قالا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثني زُفَر بن عبد الرحمن بن أردَكَ، عن محمد بن سليمان بن والبةَ، عن سعيد بن جُبير، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"والذي نفسُ محمدٍ بيدِه، لا تقومُ الساعةُ حتى يظهرَ الفُحْشُ والبخلُ، ويُخوَّنَ الأمينُ ويُؤتَمَنَ الخائنُ، وَيهلِكَ الوُعولُ ويظهرَ التُّحوتُ" فقالوا: يا رسول الله، وما الوعولُ، وما التُّحوت؟ قال:"الوعولُ وجوهُ الناسِ وأشرافُهم، والتُّحوتُ الذين كانوا تحتَ أقدام الناسِ لا يُعلَمُ بهم" (1) .
هذا حديث رواتُه كلهم مدنيُّون ممَّن لم يُنسَبوا إلى نوعٍ من الجَرْح.
هذا حديث رواتُه كلهم مدنيُّون ممَّن لم يُنسَبوا إلى نوعٍ من الجَرْح.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ بے حیائی اور بخل ظاہر نہ ہو جائے، امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار سمجھا جانے لگے، اور ”وعول“ ہلاک ہو جائیں جبکہ ”تحوت“ غالب آ جائیں۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وعول اور تحوت کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وعول سے مراد لوگوں کے معزز اور شریف طبقے کے لوگ ہیں، اور تحوت سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پیروں تلے (گمنام اور پست) تھے جن کا کوئی ذکر نہیں ہوتا تھا۔“
اس حدیث کے تمام راوی مدنی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی جرح کا شکار نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8858]
اس حدیث کے تمام راوی مدنی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی جرح کا شکار نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8858]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد فيه ضعف إسماعيل بن أبي أويس ليس بذاك القوي إلّا أنه يعتبر به في المتابعات والشواهد، وهو قد توبع على حديثه هذا لكن من غير هذا الوجه عن أبي هريرة، ومحمد بن سليمان بن والبة قد انفرد بالرواية عنه زفر بن عبد الرحمن، وهذا بدوره انفرد ...» [ترقيم الرساله 8858] [ترقيم الشركة 8748]
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 8859
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب العَبْدي، حدثنا جعفر بن عَوْن العَمْري، أخبرنا أبو حيَّان التَّيْمي، عن أبي زُرْعة بن عمرو بن جَرِير قال: جلس إلى مروانَ ثلاثةُ نَفَرٍ بالمدينة، فسمعوه يحدِّثُ عن الآيات: أوّلُها خروجُ الدجال، فقام النَّفَرُ من عند مروان فجلسوا إلى عبد الله بن عمرو، فحدَّثوه بما قال مروان، فقال عبد الله: لم يقل مروانُ شيئًا، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ أول الآيات خُروجًا طلوع الشمس من مَغرِبها والدابَّةُ، أيُّها كانت فالأُخرى على أَثرِها قريبًا". ثم أنشأَ يحدِّث، قال:"وذلك أنَّ الشمس إذا غَرَبَت أتَت تحت العَرْشِ فَسَجَدَت، واستأذَنَت في الرجوع، فيُؤذَن لها، حتى إذا أراد الله أن تَطلُعَ من مغربها أتت تحت العرش فسجدت، واستأذَنَت في الرجوع، فلم يُرَدَّ عليها شيءٌ، قال: ثم تعودُ تستأذنُ في الرجوع، فلم يُرَدَّ عليها شيءٌ، قال: ثم تعودُ تستأذنُ في الرجوع، فلا يُرَدُّ عليها، وعَلِمَت أَنْ لو أُذِنَ لها لم تُدرِكِ الشرقَ، قالت: يا ربِّ، ما أبعدَ المَشْرِقَ! مَن لي بالناس؟ حتى إذا كان الليلُ أنت فاستأذَنَت، فقال لها: اطلُعِي من مكانِك". قال: وكان عبد الله يقرأ الكتبَ، فقرأ وذلك يومَ ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ [الأنعام: 158] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں تین افراد مروان کے پاس بیٹھے، انہوں نے اسے قیامت کی نشانیوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سنا کہ ان میں سے پہلی نشانی دجال کا خروج ہے، وہ لوگ مروان کے پاس سے اٹھ کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور انہیں مروان کی کہی ہوئی بات بتائی، تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”مروان نے کچھ نہیں کہا (یعنی اس کی بات صحیح نہیں ہے)، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”خروج کے اعتبار سے پہلی بڑی نشانیاں سورج کا اپنے مغرب سے طلوع ہونا اور دابة الارض کا نکلنا ہیں، ان میں سے جو بھی پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے فوراً بعد ہوگی۔““ پھر انہوں نے تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”اور یہ اس طرح ہوگا کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو عرش کے نیچے آکر سجدہ کرتا ہے اور واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے، تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اسے مغرب سے طلوع کرنا چاہے گا تو وہ عرش کے نیچے آکر سجدہ کرے گا اور واپسی کی اجازت مانگے گا، مگر اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، پھر وہ دوبارہ اجازت مانگے گا مگر اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، پھر وہ تیسری بار اجازت مانگے گا تو اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، تب وہ جان لے گا کہ اگر اسے اجازت مل بھی گئی تو وہ مشرق تک نہیں پہنچ پائے گا، وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مشرق کتنا دور ہے! لوگوں تک مجھے کون پہنچائے گا؟ یہاں تک کہ جب رات طویل ہوجائے گی تو وہ اجازت مانگے گا، تو اس سے کہا جائے گا: اپنے مقام (مغرب) ہی سے طلوع ہوجاؤ۔“ سیدنا عبداللہ چونکہ پرانی کتابیں پڑھا کرتے تھے، پس انہوں نے اس موقع کے متعلق یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ ”کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو۔“ [سورة الأنعام: 158]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8859]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8859]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8859] [ترقيم الشركة 8749]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح