🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

131. يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ: مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ
قرآن پڑھنے والے تین طرح کے ہیں: مومن، منافق اور فاجر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8856
حدثنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا أحمد ابن حازم بن (1) أبي غَرَزة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا سفيان الثَّوْري، عن عمرو بن قيس المُلَائي، عن عطيَّة، عن ابن عمر في هذه الآية: ﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ﴾ [النمل: 82] قال: إذا لم يَأمُروا بالمعروف، ولم يَنهَوْا عن المنكَر (2) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آیت (وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ) (النمل: 82) اور جب بات ان پر آ پڑے گی ہم زمین سے ان کے لئے ایک چوپایہ نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گا کے بارے میں فرمایا: یہ اس وقت ہو گا جب لوگ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چھوڑ دیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8856]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8857
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيوة بن شُريح، حدثني بَشِير بن أبي عمرو الخَوْلاني، أنَّ الوليد بن قيس التُّجِيبي حدَّثه، أنه سمع أبا سعيد الخُدْري يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: يكون خَلْفٌ من بعدِ ستينَ سنةً أضاعوا الصلاة واتَّبَعوا الشَّهَواتِ، فسوف يلقون غَيًّا، ثم يكون خَلْفٌ من بعدِ ستينَ سنةً يقرؤُون القرآنَ لا يَعدُو تَراقِيهَم، ويقرأُ القرآنَ ثلاثةٌ: مؤمنٌ، ومنافقٌ، وفاجرٌ". قال بشير: فقلتُ للوليد: ما هؤلاءِ الثلاثةُ؟ قال: المنافق كافرٌ به، والفاجر يتأكَّلُ به، والمؤمن يؤمنُ به (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8643 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے 60 سال بعد ایسے حکمران آئیں گے جو نمازوں کو ضائع کریں گے، شہوات کی پیروی کریں گے، وہ عنقریب دوزخ میں ڈالے جائیں گے، پھر اس کے 60 سال بعد ایسے حکمران آئیں گے جو قرآن کریم کی تلاوت کریں گے لیکن ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، تین قسم کے لوگ قرآن پڑھتے ہیں، مومن، منافق اور فاجر۔ سیدنا بشیر کہتے ہیں: میں نے ولید سے کہا: یہ تینوں کیسے قرآن پڑھیں گے؟ انہوں نے کہا: منافق تو اس کو مانتا ہی نہیں ہے، اور فاجر کی تلاوت کھوکھلی ہے، اور مومن اس پر ایمان رکھتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8857]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8858
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشَّهيد والفضل بن محمد بن المسيَّب الشَّعْراني قالا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثني زُفَر بن عبد الرحمن بن أردَكَ، عن محمد بن سليمان بن والبةَ، عن سعيد بن جُبير، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"والذي نفسُ محمدٍ بيدِه، لا تقومُ الساعةُ حتى يظهرَ الفُحْشُ والبخلُ، ويُخوَّنَ الأمينُ ويُؤتَمَنَ الخائنُ، وَيهلِكَ الوُعولُ ويظهرَ التُّحوتُ" فقالوا: يا رسول الله، وما الوعولُ، وما التُّحوت؟ قال:"الوعولُ وجوهُ الناسِ وأشرافُهم، والتُّحوتُ الذين كانوا تحتَ أقدام الناسِ لا يُعلَمُ بهم" (1) .
هذا حديث رواتُه كلهم مدنيُّون ممَّن لم يُنسَبوا إلى نوعٍ من الجَرْح.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، قیامت سے پہلے فحاشی اور بخل عام ہو جائے گا، امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار قرار دیا جائے گا، وعول ہلاک ہو جائیں گے اور تحوت ظاہر ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعول کیا ہے؟ اور تحوت کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعول سے مراد مالدار اور اشرافیہ ہیں، اور تحوت سے مراد وہ لوگ ہیں جو کبھی لوگوں کے پاؤں کے نیچے روندے جاتے تھے، جن کو کوئی جانتا تک نہ تھا۔ ٭٭ اس حدیث کے تمام راوی مدنی ہیں اور ان پر کسی قسم کی جرح ثابت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8858]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں