المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
130. السَّاعَةُ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَأُهُمْ
قیامت اس حاملہ عورت کی طرح ہے جس کے دن پورے ہو چکے ہوں، اس کے گھر والوں کو نہیں پتہ کہ وہ کب اچانک ظاہر ہو جائے
حدیث نمبر: 8851
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن عوف، عن أنس بن سِيرين، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله قال: مضت الآياتُ غيرَ أربعةٍ: الدجالِ، والدابةِ، ويأجوجَ ومأجوجَ، وطلوع الشمس من مَغرِبِها، والآيةُ التي يُختَم بها الشمسُ، ثم قرأ: ﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ﴾ [الأنعام: 158] (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8637 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8637 - صحيح
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چار نشانیوں کے علاوہ باقی سب پوری ہو چکی ہیں، وہ چار نشانیاں یہ ہیں۔ دجال کا ظہور، دابۃ الارض کا ظہور، یاجوج و ماجوج کا نکلنا، مغرب کی جانب سے سورج کا طلوع ہونا۔ اور وہ نشانی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سورج پر مہر لگا دے گا۔ پھر سیدنا عبداللہ نے یہ آیت پڑھی: هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ [الأنعام: 158] ” کاہے کے انتظار میں ہیں مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8851]
حدیث نمبر: 8852
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن مَسلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوَّام بن حَوشَب، عن جَبَلة بن سُحَيم، عن مُؤْثِر بن عَفَازة، عن عبد الله بن مسعود قال: لما كان ليلةُ أُسرِيَ برسول الله ﷺ لقيَ إبراهيمَ وموسى وعيسى ﵈، فبَدؤوا بإبراهيم فسألوه عنها، فلم يكن عنده منها عِلمٌ، فسألوا موسى فلم يكن عنده منها علمٌ، فردُّوا الحديثَ إلى عيسى فقال: عَهِدَ اللهُ إليَّ فيما دونَ وَجْبتها، فأما وجبتُها فلا يعلمُها إِلَّا اللهُ ﷿ فذكر من خروج الدجال - فأَهبِطُ فأقتلُه، فيَرجعُ الناسُ إلى بلادهم، فيَستقبلُهم (1) يأجوجُ ومأجوجُ وهم من كلِّ حَدَبٍ يَنسِلون، لا يمرُّون بماءٍ إِلَّا شربوه، ولا بشيءٍ إلا أفسَدوه، فيجأَرون إليَّ، فأدعُو الله فيرسلُ السماءَ بالماء فيَحمِلُهم فيَقذفُ أجسامَهم في البحر، ثم تُنسَفُ الجبال، وتُمَدُّ الأرضُ مدَّ الأَديم، وعَهِدَ اللهُ إِليَّ أنه إذا كان ذلك [فإنَّ] الساعةَ من الناس كالحامل المُتِمِّ لا يدري أهلُها متى تَفجَؤُهم بوِلادِها، أليلًا أم نهارًا. قال العوَّام: فوجدتُ تصديق ذلك في كتاب الله ﷿، ثم قرأ: ﴿حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (96) وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ﴾ [الأنبياء: 95 - 96] (2) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: معراج کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی، پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، ان سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کر دیا، پھر سیدنا موسیٰ علیہ سے پوچھا گیا تو ان کے پاس بھی اس سلسلہ میں معلومات نہ تھیں، پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال کیا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: وقوع قیامت کے معین وقت سے پہلے تک کی معلومات میرے پاس ہیں، کیونکہ قیامت کے واقع ہونے کا معین وقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پتا ہے، پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے ظاہر ہونے کا ذکر کیا پھر فرمایا: میں نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا، پھر لوگ اپنے اپنے وطنوں کو واپس لوٹ جائیں گے، پھر ان کا سامنا یاجوج و ماجوج سے ہو گا، اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکیں گے، وہ پانی کے جس مقام سے گزریں گے، اس کو ختم کرتے جائیں گے، اور جہاں جہاں سے گزریں گے، تباہی پھیلاتے جائیں گے، پھر لوگ مجھ سے مشکل کشائی چاہیں گے، میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگوں گا، اللہ تعالیٰ برسات نازل فرمائے گا، وہ ان کے جسموں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی، پھر پہاڑ اپنی جگہ چھوڑنے لگ جائیں گے، اور زمین کو ایک دسترخوان کی مانند بچھا دیا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ علم دیا ہے کہ اس وقت قیامت اتنی قریب آ چکی ہو گی جیسے کوئی حاملہ عورت اپنے دن پورے کر چکی ہو تو دن میں یا رات میں کسی بھی وقت ولادت ہو سکتی ہے (اسی طرح اس وقت قیامت بھی یونہی کسی بھی وقت اچانک قائم ہو جائے گی) سیدنا عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس بات کی تصدیق مجھے قرآن کریم میں بھی مل گئی، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ [الأنبياء: 97] ”یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے، اور قریب آ گیا سچا وعدہ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8852]
حدیث نمبر: 8853
أخبرنا أبو عثمان بن أحمد بن السَّماك الزاهد ببغداد، حدثنا حَنبَل بن إسحاق بن حنبل، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن حُمَيد، عن أنس، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"الأَمَارَاتُ خَرَزاتٌ منظوماتٌ بسِلْك، فإذا انقَطَع السِّلكُ تَبعَ بعضَه" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8639 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8639 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کی علامات ایک دھاگے میں سلسلہ وار پروئی ہوئی ہیں، جب دھاگہ ٹوٹ جائے گا تو سب ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے آنا شروع ہو جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8853]
حدیث نمبر: 8854
أخبرني أبو الطيّب محمد بن الحسن الحِيري، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم قال: خرج حُذَيفةُ بظَهْر الكوفة ومعه رجلٌ، فالْتفَتَ إلى جانب الفُرات، فقال لصاحبه: كيف أنتم يومَ تراهم يَخرُجون أو يُخرَجون منها لا يَذُوقون منها قطْرةً؟! قال رجل: وتظنُّ ذاك يا أبا عبد الله؟! قال: ما أظنُّه، ولكن أَعلمُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8640 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8640 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قیس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کوفہ میں تشریف لائے، ان کے ہمراہ ایک آدمی تھا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دریائے فرات کی جانب دیکھ کر فرمایا: وہ دن کیسا ہو گا، جب تم سب لوگ اس میں سے گزرو گے لیکن کوئی شخص بھی اس کا ایک قطرہ تک نہیں پی سکے گا، اس آدمی نے کہا: کیا آپ کو اس کا یقین ہے؟ انہوں نے فرمایا: یقین تو نہیں ہے تاہم میں یہ بات جانتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8854]
حدیث نمبر: 8855
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان بن مسلم ومسلم بن إبراهيم قالا: حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرَّة قال: سمعت أبا البَخْتَري يحدِّث عن أبي ثَوْر قال: كنت جالسًا مع حُذيفة وأبي مسعود حيث ردَّ أهلُ الكوفة سعيدَ بن العاص يومَ الجَرَعة، فقال أبو مسعود: ما كنت أظنُّ أن يَرجِعَ ولم يُهرِقُ فيها دمًا، فقال حذيفة: لكني والله علمتُ أنا سنرجعُ على عَقِبها ولم يُهرَقْ فيها محِجمةُ دم، وما علمتُ من ذاك شيئًا إلَّا شيئًا (2) علمتُه ومحمدٌ ﷺ حيٌّ، أنَّ الرجل يصبحُ مؤمنًا ويُمسي كافرًا ما معه من دينه شيءٌ، ويمسي مؤمنًا ويصبح وما معه من دينه شيءٌ، يقاتل في فتنة اليوم ويقتلُه الله ﷿ غدًا، يُنكَّس قلبَه وتَعلُوه اسْتُه، قلت: أسفلُه؟ قال: استُه (3) (4) .
سیدنا ابوثور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا، یہ ان دنوں کی بات ہے جب اہل کوفہ نے سیدنا سعید بن العاص کے خلاف عدم اعتماد کیا۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ وہ خون ریزی کے بغیر وہاں سے واپس آئے گا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ ہم خون کا ایک قطرہ تک بہائے بغیر وہاں سے واپس آنے میں کامیاب ہو جائیں گے، اور یہ تمام باتیں میں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی جان چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ) ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا اور شام کے وقت وہ ایسا کافر ہو چکا ہو گا کہ اس کے پاس دین نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہو گی، اور ایک بندہ شام کے وقت مومن ہو گا، لیکن جب صبح ہو گی تو وہ ایسا کافر ہو چکا ہو گا کہ اس کے پاس دین نام کی کوئی چیز نہیں ہو گی، وہ آج کے فتنہ میں قتال کرے گا، کل اسے اللہ تعالیٰ قتل کر دے گا، اس کا دل الٹ چکا ہو گا، اور اس کے چوتڑ اٹھے ہوں گے، میں نے کہا: چوتڑ سے مراد اس کا نچلا حصہ اٹھ چکا ہو گا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ اس کے چوتڑ اٹھ چکے ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8855]