🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

132. إِذَا وَقَعَتِ الْمَلَاحِمُ خَرَجَ بَعْثٌ مِنَ الْمَوَالِي، هُمْ أَكْرَمُ الْعَرَبِ
جب عظیم جنگیں (ملاحم) چھڑیں گی تو موالی (آزاد کردہ غلاموں) کا ایک لشکر نکلے گا جو عربوں میں سب سے معزز ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8859
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب العَبْدي، حدثنا جعفر بن عَوْن العَمْري، أخبرنا أبو حيَّان التَّيْمي، عن أبي زُرْعة بن عمرو بن جَرِير قال: جلس إلى مروانَ ثلاثةُ نَفَرٍ بالمدينة، فسمعوه يحدِّثُ عن الآيات: أوّلُها خروجُ الدجال، فقام النَّفَرُ من عند مروان فجلسوا إلى عبد الله بن عمرو، فحدَّثوه بما قال مروان، فقال عبد الله: لم يقل مروانُ شيئًا، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ أول الآيات خُروجًا طلوع الشمس من مَغرِبها والدابَّةُ، أيُّها كانت فالأُخرى على أَثرِها قريبًا". ثم أنشأَ يحدِّث، قال:"وذلك أنَّ الشمس إذا غَرَبَت أتَت تحت العَرْشِ فَسَجَدَت، واستأذَنَت في الرجوع، فيُؤذَن لها، حتى إذا أراد الله أن تَطلُعَ من مغربها أتت تحت العرش فسجدت، واستأذَنَت في الرجوع، فلم يُرَدَّ عليها شيءٌ، قال: ثم تعودُ تستأذنُ في الرجوع، فلم يُرَدَّ عليها شيءٌ، قال: ثم تعودُ تستأذنُ في الرجوع، فلا يُرَدُّ عليها، وعَلِمَت أَنْ لو أُذِنَ لها لم تُدرِكِ الشرقَ، قالت: يا ربِّ، ما أبعدَ المَشْرِقَ! مَن لي بالناس؟ حتى إذا كان الليلُ أنت فاستأذَنَت، فقال لها: اطلُعِي من مكانِك". قال: وكان عبد الله يقرأ الكتبَ، فقرأ وذلك يومَ ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ [الأنعام: 158] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں مروان کے پاس تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے مروان کو قیامت کی تین نشانیاں بیان کرتے ہوئے سنا، سب سے پہلی یہ کہ دجال نکلے گا، وہ لوگ مروان کے پاس سے اٹھے اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور مروان کی بیان کردہ حدیث ان کو سنائی، (حدیث سن کر) سیدنا عبداللہ نے فرمایا: مروان کی بیان کردہ حدیث، اس حدیث کے موافق نہیں ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی ہے (میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ) سب سے پہلے سورج مغرب کی جانب سے طلوع ہو گا یا دابۃ الارض نکلے گا، ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے ظاہر ہو جائے گی، اس کے فوراً بعد دوسری وقوع پذیر ہو گی، پھر آپ نے مزید حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: اور یہ اس لئے ہے کہ جب سورج غروب ہو گا تو عرش کے نیچے آئے گا اور سجدہ کرے گا اور واپسی کی اجازت طلب کرے گا، لیکن اس کو اجازت نہیں ملے گی، وہ دوبارہ اجازت مانگے گا لیکن دوسری مرتبہ بھی اس کو اجازت نہیں ملے گی، پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! مشرق بہت دور ہے مجھے وہاں تک پہنچنا ہے۔ حتی کہ جب رات ہو گی تو وہ پھر اجازت مانگے گا، تب اس کو اجازت مل جائے گی اور اس کو کہا جائے گا کہ تم جس جگہ پر ہو یہیں سے طلوع ہو جاؤ، اور سیدنا عبداللہ کتاب اللہ پڑھا کرتے تھے، تب انہوں نے یہ آیت پڑھی وَذَلِكَ يَوْمَ {لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: 158] جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے گی کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی یا اپنے یا اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی تھی (امام احمد رضا) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8859]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8860
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا أبو حفصٍ القاصُّ عثمانُ بن أبي العاتكة، حدثنا سليمان بن حَبيب المُحارِبي، عن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إذا وَقَعَت الملاحمُ، خرج بَعْثٌ من المَوالي من دمشقَ، هم أكرمُ العرب فَرَسًا، وأجودُه سلاحًا، يؤيِّد اللهُ بهم الدِّين" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8646 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب فتنے برپا ہوں گے تو غلاموں کا ایک لشکر دمشق سے نکلے گا، ان کے گھوڑے عرب کے سادات کے گھوڑوں سے اچھے ہوں گے، جدید اسلحہ ان کے پاس ہو گا، اللہ تعالیٰ ان کی بدولت دین کو مضبوط کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8860]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8861
أخبرني [علي بن] (1) الفضل بن محمد بن عَقِيل بن خُوَيلد الخُزَاعي، حدثنا أَبي، عن أبيه، أخبرنا حفص بن عبد الله، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن الحجَّاج بن الحجَّاج، عن قَتَادة، عن المهلَّب بن أبي صُفْرة، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله ﷺ:"تُبعَثُ نارٌ على أهل المشرق فتَحشرُهم إلى المغرب، تبِيتُ معهم حيث باتُوا، وتَقِيلُ معهم حيث قالُوا، يكون لها ما سَقَطَ منهم وتَخلَّف، تَسوقُهم سَوْقَ الجملِ الكَسِير" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8647 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہل مشرق پر آگ بھیجی جائے گی، وہ ان کو مغرب کی جانب ہانک کر لے جائے گی، یہ آگ لوگوں کے ہمراہ رات گزارے گی، لوگ جہاں رات گزاریں گے، یہ آگ بھی وہیں رات گزارے گی، لوگ جہاں قیلولہ کریں گے آگ بھی ان کے ہمراہ قیلولہ کرے گی، جو کچھ لوگوں کے کھانے پینے اور سامان سے بچ جائے گا، وہ آگ کھایا کرے گی، اور یہ آگ لوگوں کو اس طرح ہانکے گی جیسے سست و کاہل اونٹ کو ہانکا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8861]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں