المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ "
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم (میری امت) اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے
حدیث نمبر: 8905
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا إسحاق بن يحيى بن طَلْحة بن عُبيد الله، عن مَعبَد بن خالد قال: دخلتُ المسجدَ فإذا فيه شيخٌ يَتفلَّى، فسلَّمتُ عليه فردَّ عليَّ السلام، وجلستُ إليه فقلت: مَن أنت يا عم؟ فقال: بل مَن أنت يا ابنَ أخي؟ قلت: أنا مَعبَدُ بن خالد فقال: مَرحبًا بك، قد عرفتُ أباك، كان معي بدمشقَ، وإني وأباكَ لأَوَّلُ فارسَينِ وَقَفا بباب (2) عَذْراءَ - مدينة بالشام - فقلت: مَن أنت؟ قال: أنا أبو سَرِيحة الغِفاري، صاحبُ النبي ﷺ، فقلت: حدِّثني عن رسول الله ﷺ، قال: نعم، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"يُحْشَرُ رَجُلانِ من مُزَينةَ، هما آخرُ الناس يُحشَران، يُقبِلانِ من جبلٍ قد تَسوَّراه حتى يأتِيَا معالمَ الناس، فيجدان الأرضَ وُحوشًا، حتى يأتيَا المدينةَ، فإذا بلغا أدنى المدينةِ قالا: أين الناسُ؟ فلا يَرَيانِ أحدًا، فيقول أحدُهما لصاحبه: الناسُ في دُورهم، فيدخلانِ الدُّورَ فإذا ليس في الدُّور أحدٌ، وإذا على الفُرُش الثعالبُ والسَّنانير، فيقولان: أين الناسُ؟ فيقول أحدُهما الناسُ في المسجد، فيأتيانِ المسجدَ فلا يَجِدانِ أحدًا، فيقولان: أين الناسُ؟ فيقول أحدهما: الناسُ في السُّوق، شَغَلَتهم الأسواقُ، فيخرجان حتى يأتيا الأسواقَ فلا يجدانِ فيها أحدًا، فيَنطلِقان حتى يأتيَا الثَّنِيَّةَ، فإذا عليها مَلَكانِ فيأخذان الملكان (1) بأرجُلِهما فيسحبانِهما إلى الأرض، أرضِ المَحشَر، وهما آخرُ الناس حَشْرًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8691 - إسحاق بن يحيى بن طلحة قال أحمد متروك
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8691 - إسحاق بن يحيى بن طلحة قال أحمد متروك
سیدنا معبد بن خالد فرماتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا، میں نے مسجد میں ایک بزرگ آدمی کو دیکھا جو اپنے کپڑوں سے جوئیں نکال رہا تھا۔ میں نے اس کو سلام کیا، اس نے میرے سلام کا جواب دیا، اور مجھے خوش آمدید کہا، اور کہنے لگا: میں تیرے باپ کو جانتا ہوں، وہ میرے ساتھ دمشق میں رہا کرتا تھا، میں اور تیرا باپ وہ پہلے شہسوار تھے جو عذراء (ملک شام کا ایک شہر ہے) کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا: میں ابوسریحہ غفاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہوں، میں نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیں گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مزینہ قبیلے کے دو آدمیوں کا سب سے آخر میں حشر ہو گا۔ یہ دونوں پہاڑ کے اس پار سے پہاڑ عبور کر کے واپس آ رہے ہوں گے۔ حتی کہ لوگوں کے جاننے کے مقامات پر آئیں گے۔ لیکن ہر جانب وحشی جانوروں کو پائیں گے، یہ شہر کی جانب روانہ ہوں گے، جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچیں گے تو سوچیں گے کہ سب لوگ کہاں چلے گئے ہیں؟ ان کو کسی طرف انسان کا نام و نشان تک نظر نہیں آئے گا، ایک کہے گا: لوگ اپنی اپنی حویلیوں میں ہوں گے، یہ ان کی حویلیوں میں داخل ہو کر دیکھیں گے لیکن وہاں بھی کسی کو نہ پائیں گے، گھروں کے فرشوں پر لومڑیاں اور بلیاں بیٹھی ہوں گی، دونوں کہیں گے: انسان کہاں چلے گئے؟ ایک کہے گا: شاید سب لوگ مسجد میں ہوں گے، یہ دونوں مسجد میں آ جائیں گے لیکن یہاں پر بھی کوئی انسان ان کو نظر نہیں آئے گا، یہ کہیں گے: لوگ کہاں چلے گئے؟ ایک کہے گا: شاید لوگ بازار میں ہوں گے، یہ دونوں بازار میں آ جائیں گے، لیکن یہاں پر بھی ان کو کوئی انسان نظر نہیں آئے گا، یہ چلتے ہوئے ثنیۃ الوداع تک آ جائیں گے، یہاں دو فرشتے ہوں گے، وہ ان کو پاؤں سے پکڑ کر محشر کے مقام کی جانب لے جائیں گے، یہ دو محشر کے سب سے آخری لوگ ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8905]
حدیث نمبر: 8906
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَرِي، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتَادة عن أنس قال: لما نَزَلَت ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ [الحج: 1] على النبي ﷺ وهو في مَسيرٍ له، فرَفَعَ بها صوتَه حتى أنابَ (3) إليه أصحابُه، فقال:"أتدرون أيُّ يومٍ هذا؟ يومَ يقول الله لآدمَ: يا آدمُ، قمْ فابعَثْ بَعْثَ النارِ، من كلِّ ألفٍ تسعَ مئةٍ وتسعةً وتسعين"، فكَبُرَ ذلك على المسلمين، فقال النبي ﷺ:"سدِّدوا وقارِبوا وأَبشِروا، فوالَّذي نفسي بيدِه ما أنتم في الأُمم إلَّا كالشَّامَةِ في جَنْبِ البعير، أو كالرَّقْمة في ذراع الدابَّة، فإنَّ معكم الخَليقتَينِ (1) ، ما كانتا مع شيءٍ إِلَّا كَثَّرتاه، يأجوج ومأجوج، ومَن هَلَكَ من كَفَرَةِ الجنِّ والإنس" (2) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ [الحج: 1] ” اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی چیز ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے صحابہ کرام کو مخاطب کیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ علیہ السلام کی آواز سن کر آپ کی جانب متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ وہ دن کون سا ہو گا جب اللہ تعالیٰ سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: اے آدم اٹھیے اور ہزار میں سے 999 لوگوں کو دوزخ میں بھیج دیجئے۔ یہ بات مسلمانوں پر بہت گراں گزری، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، قریب ہو جاؤ اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، باقی امتوں میں تمہارا تناسب اتنا ہی ہو گا جیسے اونٹ کے پہلو میں تل، یا کسی جانور کی ٹانگ پر داغ۔ کیونکہ تمہارے ساتھ دو ایسی مخلوقیں یاجوج اور ماجوج ہوں گی جو جس قوم کے ساتھ شامل ہو جائیں ان کو کثیر کر دیتے ہیں، نیز جو جنات اور انسان حالت کفر میں مرے ہوں گے ان کو بھی تمہارے ساتھ ہی شامل کیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8906]
حدیث نمبر: 8907
وقد أخبرَناهُ عبدُ الله بن محمد الدَّورَقي، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق؛ فساق الحديثَ بمثلِه سواءً. ثم قال محمد بن يحيى في آخره هذا الحديث عندنا غيرُ محفوظٍ عن أنس، ولكن المحفوظ عندنا حديثُ قتادةَ عن الحسن عن عِمرانَ بن حُصَين.
محمد بن اسحاق نے محمد بن یحیی کے واسطے عبدالرزاق سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس کے آخر میں کہا: محمد بن یحیی نے کہا ہے کہ یہ حدیث ہمارے نزدیک سیدنا انس کے طریق سے غیر محفوظ ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک قتادہ کی وہ حدیث محفوظ ہے جو انہوں نے حسن کے واسطے عمران بن حصین سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8907]
حدیث نمبر: 8908
حدَّثَنا به عبدُ الصمد، حدثنا هشام، عن قَتَادةَ، عن الحسن. فقد حَكَمَ إمامُ الأئمة محمد بن يحيى الذُّهْلي ﵁، ولم يُخرِّج محمدُ بن إسماعيل ومسلمُ بن الحجَّاج ﵄ في هذه الترجمة حرفًا. وذُكِرَ أنَّ الحسن لم يسمع من عِمران بن حُصين. قال الحاكم ﵀: والذي عندي أنَّ الحسن قد سَمِعَ من عِمْران بن حُصَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8692 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8692 - على شرط البخاري ومسلم
عبدالصمد نے، ہشام کے واسطے سے قتادہ سے، اور انہوں نے حسن سے روایت کی ہے، امام الائمہ محمد بن یحیی ذہلی رضی اللہ عنہ نے اس (کی صحت) کا فیصلہ کیا ہے، امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ نے اس ترجمہ میں ایک حرف بھی بیان نہیں کیا اور کہا کہ حسن نے عمران بن حصین سے سماع نہیں کیا، اور امام حاکم کہتے ہیں: ہمارے نزدیک حق یہ ہے کہ حسن نے عمران بن حصین سے سماع کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8908]
حدیث نمبر: 8909
وقد حدثنا بالحديث عليُّ بن حَمْشاذَ العَدْل، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد ومحمد بن المِنْهال الضَّرير قالا: حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادةَ، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ في مسيرٍ وقد تفاوَتَ بين أَصحُبِه (3) السَّيرُ، فَرَفَعَ بهاتين الآيتين صوتَه: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾، قرأَ أبو موسى (4) إلى قوله: ﴿وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾، فلما سمع ذلك أصحابه حثُّوا المَطيَّ وعرفوا أنه عندَ قولٍ يقولُه، فقال:"أتدرون أيُّ يوم ذلك؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ؟ قال:"ذاكم يومَ يُنادَى آدم فيناديه ربُّه فيقول: يا، آدمُ ابْعَثْ بَعْثَ النارِ [قال: يا رب، وما بعثُ النار؟ قال: من كل ألفٍ تسعُ مئةٍ وتسعةٌ وتسعون في النار] (1) وواحدٌ في الجنّة"، فأُبِلسَ أصحابُه حتى ما أَوضَحُوا بضاحكةٍ، فلما رأى رسولُ ﷺ الذي بأصحابه قال:"اعْمَلُوا وأَبِشروا، فوالذى نفسُ محمدٍ بيدِه، إنكم مع خليقَتينِ ما كانتا مع شيءٍ إِلَّا كَثَّرتاه، يأجوجَ ومأجوجَ، ومَن هَلَكَ من بني آدم وبني إبليسَ"، فسُرِّيَ عن القوم بعضُ الذي يَجِدُون، ثم قال:"اعمَلوا (2) وأَبشِروا فوالذي نفسُ محمدٍ بيدِه ما أنتم في الناس إِلَّا كالشَّامَةِ في جَنْبِ البعير، أو كالرَّقْمة في ذراع الدَّابّة" (3) . وهكذا رواه سعيدُ بن أبي عَرُوبة عن قَتَادةَ:
قتادہ روایت کرتے ہیں کہ حسن نے عمران بن حصین کا یہ بیان نقل کیا ہے (آپ فرماتے ہیں) میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، چلتے چلتے صحابہ کرام دور دور تک بکھر گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے یہ آیتیں پڑھیں يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ [الحج: 1] ” اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے “ سیدنا ابوموسیٰ نے وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ تک پڑھا، جب صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی تو سواریاں بھگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گئے، جب سب لوگ قریب آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کیا تم جانتے ہو یہ دن کونسا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جب آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو ندا دے گا، اور فرمائے گا: اے آدم ہر ہزار میں سے 999 لوگوں کو دوزخ میں ڈال دو، اور ایک آدمی جنت میں بھیج دو، یہ بات صحابہ كرام رضی اللہ عنہم کے دلوں پر بہت شاق گزری، سب کے چہرے سے ہنسی اور مسکراہٹ غائب ہو گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: جان لو، خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، تمہارے ساتھ یاجوج و ماجوج دو ایسی مخلوقیں ہوں گی کہ یہ جس کے ساتھ ہوں گے اس کو کثیر کر دیں گے، اور تمہارے ساتھ فوت شدہ انسان اور جنات بھی ہوں گے، یہ سن کر کچھ لوگوں کے چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: جان لو، خوش ہو جاؤ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے دوسری امتوں میں تمہارا تناسب ایسے ہی ہو گا جیسے اونٹ کے پہلو میں تل یا کسی جانور کی ٹانگ میں داغ۔ ٭٭ سعید بن ابی عروبہ نے بھی اسی طرح یہ حدیث قتادہ سے روایت کی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8909]
حدیث نمبر: 8910
حدَّثَناهُ أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبدان السَّعْدي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا سعيدٌ وهشامُ (4) بن أبي عبد الله، عن قَتَادةَ، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: بينما نحن مع رسول الله ﷺ في بعض أسفارِه؛ فذكر الحديثَ بنحوه (5) . وقد رُوِّينا هذا الحديثَ عن عبد الله بن عبَّاس:
سعید بن ابی عروبہ اور ہشام بن ابی عبداللہ نے قتادہ کے واسطے سے حسن سے روایت کیا ہے کہ عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، اس کے بعد انہوں نے مفصل حدیث نقل کی ہے، اور ہم نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بھی نقل کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8910]