🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. أَكْرَمُ خَلِيقَةِ اللَّهِ عَلَى اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ معزز ابوالقاسم ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8911
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عَبَّاد بن العوَّام عن هلال بن خَبَّاب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: تَلَا رسولُ الله ﷺ هذه الآيةَ وعنده أصحابُه: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ إلى آخر الآية، فقال:"هل تدرون أيُّ يومٍ ذاك؟" قالوا: الله ورسوله أعلم، قال:"ذاكَ يومَ يقولُ اللهُ لآدم: قُمْ فابعَثْ بَعْثَ النارِ - أو قال: بعثًا إلى النار - فيقول: يا ربِّ، مِن كم؟ قال: من كلِّ ألفٍ تسعَ مئةٍ وتسعةً وتسعين إلى النار، وواحدٌ إلى الجنَّة"، فشَقَّ ذلك على القوم ووَقَعَت عليهم الكآبةُ والحُزْن، فقال رسول الله ﷺ:"إني لأرجو أن تكونوا رُبعَ أهلِ الجنة ثم قال:"إني لأرجو أن تكونوا ثُلثَ أهل الجنة ثم قال:"إني لأرجو أن تكونوا شَطْرَ أهل الجنة"، ففَرِحُوا، فقال رسول ﷺ:"اعمَلوا وأَبشِروا، فإنكم بين (1) خَلِيقتَينِ لم تكونا مع أحدٍ إِلَّا كَثرَتاه، يأجوج ومأجوجَ، وإنما أنتم في الناس - أو في الأُمم. كالشَّامةِ في جَنْب البعير، أو كالرَّقْمة في ذراع الناقة، وإنما أُمَّتي جزءٌ من ألفِ جزءٍ" (2) .
هذا حديث صحيح بهذه الزِّيادة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8697 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی موجودگی میں یہ آیت تلاوت کی: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ [الحج: 1] اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے یہ آیت آخر تک پڑھی پھر فرمایا: تم جانتے ہو، یہ کس دن کی بات ہو رہی ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: اٹھیئے اور دوزخیوں کو دوزخ میں بھیج دیجئے، آدم علیہ السلام پوچھیں گے کہ یا اللہ کتنے لوگوں کو؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہزار میں سے 999 لوگوں کو دوزخ میں اور ایک کو جنت میں بھیج دو، یہ بات صحابہ کرام پر بہت گراں گزری، سب پریشان اور غمگین ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا ایک حصہ ہو گے، پھر صحابہ کرام خوش ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو، اور خوش ہو جاؤ، کیونکہ تمہارے اندر یاجوج اور ماجوج دو ایسی مخلوقیں ہیں، کہ یہ جس قوم کے ساتھ ہو جاتی ہیں ان کو کثیر کر دیتی ہیں، اور باقی لوگوں میں تمہارا تناسب ایسے ہی ہو گا جیسے اونٹ کے پہلو میں تل، یا کسی جانور کی ٹانگ میں داغ۔ اور وہ (جنت میں جانے والا) ہزارواں حصہ میری امت ہی ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8911]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں