🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. ذِكْرُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ
ساتوں آسمانوں کے رہنے والوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8913
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُراساني العدل ببغداد، حدثنا أحمد بن الوليد الفَحَّام، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران، عن ابن عباس أنه قرأَ: ﴿وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا﴾ [الفرقان: 25] قال: تَشقَّقُ سماء الدنيا وتَنزِلُ الملائكة على كل سماء، وهم أكثرُ ممَّن في الأرض من الجنِّ والإنس فيقول أهلُ الأرض: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهل السماء الثانية، وهم أكثرُ من أهل السماء الدنيا وأهل الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزل أهل السماء الثالثة، وهم أكثرُ من أهل السماء الثانية وسماءِ الدنيا وأهل الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهلُ السماءِ، الرابعة، وهم أكثرُ من أهلِ السماء الثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهلُ السماء الخامسة، وهم أكثرُ من أهل السماء الرابعة والثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهلُ السماء السادسة، وهم أكثرُ من أهل السماء الخامسة والرابعة والثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهل السماء السابعة وهم أكثرُ من أهل السماء السادسة والخامسة والرابعة والثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل الكَرُوبيُّون، وهم أكثرُ من أهل السماوات السبع والأَرَضِين، وحَمَلةُ العَرْش، لهم قرونٌ كُعُوبٌ كُعوبَ (1) القَنَا، ما بين قَدَم أحدهم كذا وكذا، ومن أخَمصِ قدمه إلى كَعْبه مسيرةُ خمس مئة عامٍ، ومن كَعْبه إلى ركبته مسيرةُ خمس مئة عام (2) ، ومن ركبتِه إلى أَرنَبَتِه مسيرةُ خمس مئة عامٍ، ومن تَرقُوَتِه إلى موضع القُرْطِ مسيرةُ خمسِ مئة عام (3) . رُواة هذا الحديثِ عن آخرهم مُحَتجٌّ بهم غيرَ عليِّ بن زيد بن جُدْعان القُرَشي، وهو وإن كان موقوفًا على ابن عبَّاس، فإنه عجيبٌ بمَرَّةٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8699 - إسناده قوي
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا﴾ [سورة الفرقان: 25] کی تلاوت کی اور فرمایا: اس دن آسمانِ دنیا بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا اور ہر آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے، جن کی تعداد زمین پر موجود تمام جنوں اور انسانوں سے کہیں زیادہ ہوگی، اہل زمین (ان کی ہیبت دیکھ کر) پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں موجود ہے؟ وہ جواب دیں گے: نہیں۔ پھر دوسرے آسمان کے فرشتے نازل ہوں گے جن کی تعداد پہلے آسمان کے فرشتوں اور تمام اہل زمین سے بھی زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ جواب دیں گے: نہیں۔ پھر تیسرے آسمان کے فرشتے اتریں گے جن کی تعداد پہلے دو آسمانوں کے فرشتوں اور تمام اہل زمین سے زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر چوتھے آسمان کے فرشتے اتریں گے جن کی تعداد تمام پچھلے آسمانوں کے فرشتوں اور اہل زمین سے زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر پانچویں آسمان کے فرشتے اتریں گے جن کی تعداد پہلے چاروں آسمانوں اور تمام اہل زمین سے زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر چھٹے آسمان کے فرشتے اتریں گے جن کی تعداد پہلے پانچوں آسمانوں اور تمام اہل زمین سے زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر ساتویں آسمان کے فرشتے اتریں گے جن کی تعداد تمام چھ آسمانوں اور تمام اہل زمین سے زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر کَرُوبیُّون (مقرب فرشتے) نازل ہوں گے جن کی تعداد تمام ساتوں آسمانوں کے فرشتوں اور زمین والوں سے بھی زیادہ ہوگی، اور پھر عرش اٹھانے والے فرشتے اتریں گے، جن کے سینگوں کے جوڑ نیزوں کی گرہوں کی طرح (مضبوط) ہوں گے، ان میں سے ایک کے پاؤں کے درمیان کا فاصلہ بہت زیادہ ہوگا، اس کے تلوے سے ٹخنوں تک کی مسافت پانچ سو سال کی ہوگی، ٹخنوں سے گھٹنوں تک پانچ سو سال کی مسافت ہوگی، گھٹنوں سے ناک کے بانسے تک پانچ سو سال کی مسافت ہوگی اور اس کی ہنسلی کی ہڈی سے کان کے بندے کی جگہ تک کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت کے برابر ہوگا۔
اس حدیث کے تمام راوی سوائے علی بن زید بن جدعان قرشی کے قابلِ حجت ہیں، اور اگرچہ یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے، لیکن یہ انتہائی حیران کن اور عجیب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8913]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد» [ترقيم الرساله 8913] [ترقيم الشركة 8804] [ترقيم العلميه 8699]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں