المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. ذِكْرُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ
ساتوں آسمانوں کے رہنے والوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8912
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان ومحمد بن كَثير: قالا حدثنا مَهْديُّ بن ميمون حدثنا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، عن بِشْر بن شَغَافٍ، عن عبد الله بن سَلَام؛ قال (1) : وكنَّا جلوسًا في المسجد يومَ الجُمُعة، فقال: إنَّ أعظمَ أيام الدنيا يومُ الجمعة، فيه خُلِقَ آدم، وفيه تقومُ الساعة، وإِنَّ أكرمَ خَليقة الله على الله أبو القاسم ﷺ، قال: قلت: رَحِمَك الله، فأين الملائكةُ؟ قال: فنظر إليَّ وضحك وقال: يا ابنَ أخي هل تدري ما الملائكةَ؟ إنما الملائكةُ خلقٌ كخَلْق السماء وخلق الأرض وخلق الرياح وخلق السَّحاب وخلق الجبال، وسائر الخلق، التي لا تعصى الله شيئًا، وإنَّ أكرمَ خليقةٍ على الله أبو القاسم ﷺ، وإنَّ الجنة في السماء، وإنَّ النار في الأرض، فإذا كان يومُ القيامة بَعَثَ الله الخليقة أُمَّةً أُمّةً، ونبيًا نبيًا، حتى يكونَ أحمد وأمَّتُه آخرَ الأُمم مركزًا، قال: ثم يُوضَعُ جسرٌ على جنَّهم، ثم ينادي منادٍ: أين أحمدُ وأمّتُه؟ قال: فيقوم فتَتبعُه أمّتُه بَرُّها وفاجرها، قال: فيأخذون الجسرَ، فيَطمِسُ الله أبصارَ أعدائه، فيتهافتون فيها من شمال ويمينٍ، ويَنجُو النبيُّ ﷺ والصالحون معه، فتَلَقَّاهم الملائكةُ ربَّنا نُبُوِّئُهم منازلَهم من الجنة على يمينِك وعلى يسارِك، حتى ينتهي إلى ربِّه ﷿، فيُلقَى له كرسيٌّ عن يمين الله ﷿، ثم ينادي منادٍ: أين عيسى وأمّتُه؟ فيقوم فتَتبعُه أمّتُه بَرُّها وفاجرُها، فيأخذون الجسرَ، فيَطمِسُ اللهُ أبصارَ أعدائه، فيتهافتون فيها من شِمالٍ، ويمينٍ، ويَنجُو النبيُّ ﷺ والصالحون معه، فتَلَقَّاهم الملائكةُ؛ ربَّنا نُبُوِّئُهم منازلَهم في الجنة على يمينِك وعلى يسارك، حتى ينتهيَ إلى ربِّه، فيُلقَى له كرسيٌّ من الجانب الآخر، قال: ثم يَتبعُهم الأنبياءُ والأُمم حتى يكونَ آخرُهم نوحًا، رَحِمَ الله نوحًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وليس بموقوفٍ، فإنَّ الله عبد بن سَلَام على تقدُّمه في معرفة قديمةٍ من جُملة الصحابة، وقد أسنَدَه بذِكْر رسول الله ﷺ في غير موضعٍ، والله أعلم (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8698 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وليس بموقوفٍ، فإنَّ الله عبد بن سَلَام على تقدُّمه في معرفة قديمةٍ من جُملة الصحابة، وقد أسنَدَه بذِكْر رسول الله ﷺ في غير موضعٍ، والله أعلم (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8698 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں، ہم جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا دن جمعہ ہے، اس دن میں آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور اسی دن قیامت قائم ہو گی، اور زمین پر اللہ تعالیٰ کے سب سے کریم خلیفہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ عبداللہ بن سلام کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت فرمائے، فرشتے کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھ کر مسکرا دیئے، اور فرمایا: اے میرے بھتیجے! کیا تم جانتے ہو کہ فرشتے کیا ہوتے ہیں؟ جیسے آسمان، زمین، ہوا، بادل اور دوسری مخلوقات جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتی، ان کی طرح فرشتے بھی ایک مخلوق ہیں، اور جنت آسمانوں میں ہے اور دوزخ زمین میں ہے، جب قیامت کا دن ہو گا، اللہ تعالیٰ ایک ایک امت کے ساتھ ایک ایک نبی کو اٹھائے گا، حتی کہ احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت سب سے آخر میں اٹھیں گے، پھر نبی اٹھیں گے اور ان کے ہمراہ ان کی نیک و بد ساری امتیں بھی اٹھیں گی، پھر جہنم پر پل بچھایا جائے گا، وہ پل کو پکڑ لیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کی آنکھیں سلب کر لے گا، وہ دائیں بائیں ہاتھ ماریں گے اور آگ میں گریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے طفیل تمام نیک لوگوں کو نجات ملے گی، پھر فرشتے ان سے ملاقات کریں گے، فرشتے ان کی جنت کی منازل ان کے دائیں بائیں دکھائیں گے حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچیں گے، آپ کو اللہ تعالیٰ کی کرسی کے دائیں جانب بٹھایا جائے گا، پھر ایک منادی ندا دے گا: عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت کہاں ہیں؟ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اٹھیں گے اور ان کی امت کے تمام نیک اور برے لوگ بھی ان کے ہمراہ اٹھیں گے، یہ بھی پل پر سے گزریں گے، اللہ تعالیٰ ان کے دشمنوں کی آنکھیں بھی سلب کر لے گا، یہ بھی وہاں پر دائیں بائیں ہاتھ مارتے پھریں گے، ان کے نبی اور ان کے نیک امتیوں کو نجات ملے گی، پھر فرشتے ان سے ملاقات کریں گے، اور ان کی جنت کی منازل ان کے دائیں بائیں چھپائیں گے حتی کہ وہ نبی علیہ السلام اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچ جائیں گے ان کے لئے دوسری جانب کرسی رکھی جائے گی، پھر اس کے بعد دیگر انبیاء کرام اور ان کی امتیں آتی رہیں گی، اور سب سے آخر میں سیدنا نوح علیہ السلام آئیں گے، اللہ تعالیٰ نوح علیہ السلام پر رحم فرمائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یہ حدیث موقوف نہیں ہے، کیونکہ عبداللہ بن سلام کا شمار صحابہ کرام میں ہوتا ہے اور کئی مقامات پر ان کی روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح ذکر کے ساتھ بھی موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8912]