🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. كُلُّ أَرْضٍ إِلَى الَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ
ہر زمین سے اگلی زمین تک پانچ سو سال کی مسافت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8970
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا بِشْر بن عُمر (2) الزهراني، حدثنا شعبة، عن سليمان، عن عبد الله بن مُرَّة، عن مسروق، عن عبد الله في قول الله ﷿ ﴿زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ﴾ [النحل:88] ، قال: عقاربُ أنيابُها كالنخل الطِّوال (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8755 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد {زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ} [النحل: 88] ہم نے عذاب پر عذاب بڑھایا بدلہ ان کے فساد کا کے بارے میں فرماتے ہیں: وہا پر ایسے بچھو ہیں، جن کے ڈنک، کھجوروں کے لمبے لمبے درختوں کی مانند ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8970]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8971
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب أخبرني عبد الله بن عيّاش حدثني عبد الله بن سليمان، عن دَرّاج، عن أبي الهيثم، عن عيسى بن هلال الصَّدَفي، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الأَرَضِينَ بين كلِّ أرضٍ إلى التي تليها مسيرةُ خمسِ مئة سنة، فالعُلْيا منها على ظَهْر حوتٍ قد التقى طَرَفاه في سماء، والحوتُ على ظَهْر صخرة (1) ، والصخرةُ بيد مَلَك، والثانيةُ مَسجَنُ الريح، فلما أراد الله أن يُهلِكَ عادًا أمرَ خازنَ الريح أن يرسلَ عليهم ريحًا تُهِلكُ عادًا، قال: يا ربِّ أُرسِلُ عليهم الريحَ قَدْرَ مِنخَر الثَّور؟ فقال له الجبّار ﵎: إذًا تُكفِئَ الأرضَ ومَن عليها، ولكن أرسِلَ عليهم بقَدْر خاتمٍ، فهي التي قال الله ﷿ في كتابه العزيز: ﴿مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ﴾ [الذاريات: 42] ، والثالثةُ فيها حجارةُ جهنَّم، والرابعةُ فيها كبِريتُ جهنَّم" قالوا: يا رسول الله، أَلِلّنار كِبريتٌ؟ قال:"نعم، والذي نفسي بيده، إنَّ فيها لأوديةً من كِبريتِ، لو أُرسِلَ فيها الجبالُ الرَّواسي لماعَتْ، والخامسةُ فيها حيّاتُ جهنَّم، إنَّ أفواهها كالأودية، تلسَعُ الكافرَ اللَّسعةَ، فلا يبقى منه لحمٌ على وَضَم، والسادسةُ فيها عقاربُ جهنَّم، إن أدنى عقربةٍ منها كالبِغال المُوكَفَة، تضربُ الكافرَ ضربةً تُنسيهِ ضربتُها حرَّ جهنَّم، والسابعةُ سَقَرُ، وفيها إبليسُ مُصفّدٌ بالحديد، يدٌ أمامَه ويدٌ خلفه، فإذا أراد الله أن يُطلِقَه لما يشاءُ من عباده أطلَقَه" (2) .
هذا حديث تفرَّد به أبو السَّمْح عن عيسى بن هلال، وقد ذكرتُ فيما تقدَّم عدالتَه بنصِّ الإمام يحيى بن مَعِين ﵁ (1) ، والحديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8756 - بل منكر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر زمین سے دوسری زمین تک پانچ سو سال کی مسافت ہے، ان میں س سے اوپر والی ایک مچھلی کی پشت پر ہے، اس کے دونوں کنارے آسمان سے ملتے ہیں، اور وہ مچھلی ایک چٹان پر ہے، اور وہ چٹان ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ اور دوسری ہواؤں کو کنٹرول کرتی ہے، جب اللہ تعالیٰ نے عاد کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا تو ہوا کے نگران فرشتے کو حکم دیا کہ وہ ان پر ایسی ہوا چلائے جو عاد کو ہلاک کر دے، اس نے کہا: اے میرے رب! میں ان پر بیل کے گلے کی مقدار میں ہوا بھیجتا ہوں، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: یہ زمین کے لیے اور ان لوگوں کے لیے جو اس پر ہیں سب کے لیے کافی ہے۔ لیکن ان پر ایک مہر کی مقدار میں ہوا بھیج، یہ وہی بات ہے، جس کا ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان الفاظ کے ہمراہ کیا ہے {مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ} [الذاريات: 42] جس چیز پر گزرتی اس کو گلی ہوئی چیز کی طرح کر چھوڑتی اور تیسری میں دوزخ کا ایک پتھر ہے۔ اور چوتھی میں جہنم کی گندھک ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آگ کی بھی گندھک ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے قببضہ قدرت میں میری جان ہے، اس میں گندھک کی وادیاں ہیں اور ان میں مضبوط پہاڑ ڈالے جائیں تو وہ بھی سما سکتے ہیں۔ پانچویں میں جہنم کے سانپ ہیں، ان کے منہ وادی کے برابر ہیں، وہ کافر کو ایک مرتبہ ڈنک مار دیں تو اس کی ہڈیوں پر گوشت کا ایک ٹکڑا تک نہ بچے گا، چھٹی میں جہنم کے بچھو ہیں، سب سے چھوٹا بچھو پالان کسے ہوئے خچر کے برابر ہو گا۔ وہ کسی کافر کو ایک ڈنک مارے گا تو وہ اس سے دوزخ کی گرمی بھول جائے گا، ساتویں میں سقر ہے، اور اسی میں ابلیس بھی ہے۔ اس کو لوہے کی زنجیروں سے جکڑا ہوا ہے، ایک ہاتھ آگے اور ایک پیچھے باندھا ہوا ہے، جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے پر اس کو چھوڑنا چاہتا ہے تو اس کو اس بندے کے لیے کھول دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو ابوالسمح، عیسیٰ بن ہلال سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ میں نے اس سے پہلے امام یحیی بن معین کے حوالے سے ان کی عدالت بیان کر دی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8971]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8972
أخبرنا أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا يعلى بن عُبيد، عن محمد بن إسحاق، عن يحيى بن عبّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: لما نَزَلَت هذه الآية في المزَّمِّل: ﴿وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا (11) إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا وَجَحِيمًا﴾ الآية، لم يكن إلَّا يسيرًا حتى كانت وقعةُ بَدر (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8757 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سورہ مزمل کی یہ آیت نازل ہوئی {وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا وَجَحِيمًا} [المزمل: 12] اور مجھ پر چھوڑ دو ان جھٹلانے والے مال داروں کو اور انہیں تھوڑی مہلت دو، بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں بھڑکتی آگ ۔ تو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ جنگ بدر کا واقعہ رونما ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: {وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ} [المزمل: 13] اور گلے میں پھنستا کھانا سے مراد زقوم کا درخت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8972]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں