المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
30. كُلُّ أَرْضٍ إِلَى الَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ
ہر زمین سے اگلی زمین تک پانچ سو سال کی مسافت ہے
حدیث نمبر: 8971
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب أخبرني عبد الله بن عيّاش حدثني عبد الله بن سليمان، عن دَرّاج، عن أبي الهيثم، عن عيسى بن هلال الصَّدَفي، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الأَرَضِينَ بين كلِّ أرضٍ إلى التي تليها مسيرةُ خمسِ مئة سنة، فالعُلْيا منها على ظَهْر حوتٍ قد التقى طَرَفاه في سماء، والحوتُ على ظَهْر صخرة (1) ، والصخرةُ بيد مَلَك، والثانيةُ مَسجَنُ الريح، فلما أراد الله أن يُهلِكَ عادًا أمرَ خازنَ الريح أن يرسلَ عليهم ريحًا تُهِلكُ عادًا، قال: يا ربِّ أُرسِلُ عليهم الريحَ قَدْرَ مِنخَر الثَّور؟ فقال له الجبّار ﵎: إذًا تُكفِئَ الأرضَ ومَن عليها، ولكن أرسِلَ عليهم بقَدْر خاتمٍ، فهي التي قال الله ﷿ في كتابه العزيز: ﴿مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ﴾ [الذاريات: 42] ، والثالثةُ فيها حجارةُ جهنَّم، والرابعةُ فيها كبِريتُ جهنَّم" قالوا: يا رسول الله، أَلِلّنار كِبريتٌ؟ قال:"نعم، والذي نفسي بيده، إنَّ فيها لأوديةً من كِبريتِ، لو أُرسِلَ فيها الجبالُ الرَّواسي لماعَتْ، والخامسةُ فيها حيّاتُ جهنَّم، إنَّ أفواهها كالأودية، تلسَعُ الكافرَ اللَّسعةَ، فلا يبقى منه لحمٌ على وَضَم، والسادسةُ فيها عقاربُ جهنَّم، إن أدنى عقربةٍ منها كالبِغال المُوكَفَة، تضربُ الكافرَ ضربةً تُنسيهِ ضربتُها حرَّ جهنَّم، والسابعةُ سَقَرُ، وفيها إبليسُ مُصفّدٌ بالحديد، يدٌ أمامَه ويدٌ خلفه، فإذا أراد الله أن يُطلِقَه لما يشاءُ من عباده أطلَقَه" (2) .
هذا حديث تفرَّد به أبو السَّمْح عن عيسى بن هلال، وقد ذكرتُ فيما تقدَّم عدالتَه بنصِّ الإمام يحيى بن مَعِين ﵁ (1) ، والحديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8756 - بل منكر
هذا حديث تفرَّد به أبو السَّمْح عن عيسى بن هلال، وقد ذكرتُ فيما تقدَّم عدالتَه بنصِّ الإمام يحيى بن مَعِين ﵁ (1) ، والحديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8756 - بل منكر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ زمینوں میں سے ہر ایک زمین سے لے کر اس سے اگلی زمین تک پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ ان میں سے سب سے اوپر والی زمین ایک مچھلی کی پیٹھ پر ہے جس کے دونوں سرے آسمان میں مل گئے ہیں، اور وہ مچھلی ایک چٹان کی پیٹھ پر ہے، اور وہ چٹان ایک فرشتے کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری زمین ہوا کا قید خانہ ہے، چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو ہوا کے خازن (فرشتے) کو حکم دیا کہ ان پر ایسی ہوا بھیجے جو عاد کو ہلاک کر دے۔ اس (فرشتے) نے عرض کی: اے میرے رب! کیا میں ان پر بیل کے نتھنے کے برابر ہوا چھوڑ دوں؟ تو اللہ جبار عزوجل نے اس سے فرمایا: تب تو وہ زمین اور جو کچھ اس پر ہے سب کو الٹ دے گی، بلکہ ان پر ایک انگوٹھی کے سوراخ برابر ہوا چھوڑو۔ یہی وہ ہوا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز میں فرمایا ہے: ﴿مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ﴾ ”وہ جس چیز پر سے گزرتی اسے بوسیدہ ہڈیوں کی طرح کر دیتی تھی۔“ [سورة الذاريات: 42] اور تیسری زمین میں جہنم کے پتھر ہیں، اور چوتھی زمین میں جہنم کی گندھک ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا جہنم میں گندھک بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بے شک اس میں گندھک کی ایسی وادیاں ہیں کہ اگر ان میں مضبوط پہاڑ بھی ڈال دیے جائیں تو وہ بھی پگھل جائیں۔ اور پانچویں زمین میں جہنم کے سانپ ہیں، ان کے منہ وادیوں کی طرح وسیع ہیں، وہ کافر کو ایسا ڈسیں گے کہ ہڈیوں پر کوئی گوشت باقی نہیں رہے گا۔ اور چھٹی زمین میں جہنم کے بچھو ہیں، ان میں سے سب سے چھوٹا بچھو بھی کجاوے والے خچروں کے برابر ہے، وہ کافر کو ایسا ڈنک مارے گا کہ اس کی تکلیف اسے جہنم کی گرمی کو بھلا دے گی۔ اور ساتویں زمین سقر ہے، اور اس میں ابلیس لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، اس کا ایک ہاتھ آگے اور ایک ہاتھ پیچھے بندھا ہوا ہے۔ پھر جب اللہ اسے اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، چھوڑنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے چھوڑ دیتا ہے۔“
یہ حدیث روایت کرنے میں ابوالسمح نے عیسیٰ بن ہلال سے تفرد اختیار کیا ہے، اور میں پہلے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کی نص کے ساتھ ان کی عدالت کا ذکر کر چکا ہوں، اور یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8971]
یہ حدیث روایت کرنے میں ابوالسمح نے عیسیٰ بن ہلال سے تفرد اختیار کیا ہے، اور میں پہلے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کی نص کے ساتھ ان کی عدالت کا ذکر کر چکا ہوں، اور یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8971]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف منكر، عبد الله بن عياش القِتباني ضعيف، وقال ابن يونس: منكر الحديث، ودرَّاج بن السَّمح ضعيف في روايته مناكير وبخاصة في أبي الهيثم» [ترقيم الرساله 8971] [ترقيم الشركة 8862] [ترقيم العلميه 8756]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف منكر
حدیث نمبر: 8972
أخبرنا أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا يعلى بن عُبيد، عن محمد بن إسحاق، عن يحيى بن عبّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: لما نَزَلَت هذه الآية في المزَّمِّل: ﴿وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا (11) إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا وَجَحِيمًا﴾ الآية، لم يكن إلَّا يسيرًا حتى كانت وقعةُ بَدر (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8757 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8757 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب سورۃ المزمل کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا وَجَحِيمًا﴾ ”اور مجھے اور ان جھٹلانے والے خوشحال لوگوں کو چھوڑ دیجئے، اور انہیں تھوڑی سی مہلت دے دیجئے۔ بے شک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔“ [سورة المزمل: 11 - 12] تو اس کے تھوڑا ہی عرصہ بعد غزوہ بدر کا واقعہ پیش آ گیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8972]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8972]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالسماع عند غير المصنف» [ترقيم الرساله 8972] [ترقيم الشركة 8863] [ترقيم العلميه 8757]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق
حدیث نمبر: 8973
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عُمر بن حفص بن غِيَاث (3) ، حدثنا أبي، حدثنا العلاء بن خالد الكاهِلي، عن شقيق، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"يُؤتى بجهنَّم يومئذٍ ولها سبعون ألفَ زِمَامٍ، مع كل زمام سبعون ألفَ مَلَكٍ يَجرُّونها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8758 - لكن العلاء كذبه أبو مسلمة التبوذكي
هذا حديث صحيح على شرط مسلم (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8758 - لكن العلاء كذبه أبو مسلمة التبوذكي
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن جہنم کو لایا جائے گا اور اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8973]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8973]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، من أجل العلاء بن خالد الكاهلي، وقد اختُلف في رفعه ووقفه، والوقف أصحُّ، إلَّا أن مثله لا يقال من قبل الرأي» [ترقيم الرساله 8973] [ترقيم الشركة 8864] [ترقيم العلميه 8758]
الحكم على الحديث: إسناده جيد