🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3989
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِسْمَاعِيل: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً فَذَكَرَ حَدِيثَ الْوَحْيِ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى:" حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ سورة سبأ آية 23".
اس سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی حدیث ۱؎ روایت کی اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے قول «حتى إذا فزع عن قلوبهم» یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے (سورۃ سبا: ۲۳) ۲؎ سے یہی مراد ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3989]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی والی حدیث بیان کی اور کہا کہ اسی سلسلے میں اللہ کا یہ فرمان ہے ﴿حَتَّىٰ إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ﴾ [سورة سبأ: 23] حتیٰ کہ جب ان فرشتوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور کی جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/تفسیر سورة الحجر 1 (4701)، التوحید 32 (7481)، سنن الترمذی/التفسیر 35 (3223)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (194)، (تحفة الأشراف: 14249) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صحیح بخاری کی کتاب التوحید کا سیاق یہ ہے: «إذا قضی اللہ الأمر في السماء ضربت الملائکة بإجنحتہا خضعانا لقولہ کأنہ سلسلة علی صفوان- قال علي بن المدیني: وقال غیرہ: صفوان ینفذہم ذلک - فإذا فزع عن قلوبہم قالوا: ماذا قال ربکم؟ قالوا: الحق وہو العلي الکبیر»  ۔
۲؎: «فُزِّع» قراء کے نزدیک راء معجمہ اور عین مہملہ کے ساتھ ہے لیکن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسے راء مہملہ اور عین معجمہ کے ساتھ پڑھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4800، 4701)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3990
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَذْكُرُ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ 0"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ الرَّبِيعُ لَمْ يُدْرِكْ أُمَّ سَلَمَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے (سورۃ الزمر: ۵۹) ۱؎ (واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3990]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت تھی: ﴿بَلَىٰ قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ﴾ [سورة الزمر: 59] (یعنی واحد مؤنث مخاطب کے صیغوں میں کاف اور تا کے کسرہ کے ساتھ)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ حدیث مرسل ہے۔ ربیع (ربیع بن انس) نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1850) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: وضاحت ۱؎: جمہور کی قرات واحد مذکر حاضر کے صیغہ کے ساتھ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع كما بينه المؤلف رحمه اللّٰه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3991
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى النَّحْوِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا: 0 فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ 0".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «فروح وريحان» تو عیش و آرام ہے (سورۃ الواقعہ: ۸۹) ۱؎ (راء کے پیش کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3991]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ﴿فُرُوْحٌ وَرَيْحَانٌ﴾ [سورة الواقعة: 89] پڑھتے ہوئے سنا (یعنی لفظ روح میں را کے ضمہ کے ساتھ)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/القراء ات سورة الواقعة 6 (2938)، (تحفة الأشراف: 16204)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/64، 213) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جمہور کی قرات راء کے زبر کے ساتھ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (2938 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3992
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ: لَمْ أَفْهَمْهُ جَيِّدًا، عَنْ صَفْوَانَ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ ابْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ: وَنَادَوْا يَا مَالِكُ سورة الزخرف آية 77"، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي بِلَا تَرْخِيمٍ.
یعلیٰ بن امیہ۔ منیہ۔ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر «ونادوا يا مالك» اور پکار پکار کہیں گے اے مالک! (سورۃ الزخرف: ۷۷) پڑھتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی بغیر ترخیم کے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3992]
جناب صفوان بن یعلیٰ اپنے والد یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ﴿وَنَادَوْا يَا مَالِكُ﴾ [سورة الزخرف: 77] پڑھ رہے تھے، جہنمی پکاریں گے اے مالک! (داروغہ جہنم)۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: مقصد ہے کہ ترخیم کے بغیر پڑھا (یعنی اسے مختصر کر کے «يَا مَالِ» نہیں پڑھا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3992]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3230)، وتفسیر القرآن 1 (3266)، صحیح مسلم/الجمعة 13 (871)، سنن الترمذی/الجمعة 13 (508)، (تحفة الأشراف: 11838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/223) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4819) صحيح مسلم (871)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3993
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ 0".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» ۱؎ پڑھایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3993]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھایا ہے: ﴿إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ﴾ [سورة الذاريات: 58] بلاشبہ میں ہی رزق دینے والا، قوت والا اور زور آور ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/القراء ات سورة الذاریات 8 (2940)، (تحفة الأشراف: 9389)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/394، 397، 418) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مشہور قرات «إن الله هو الرزاق ذو القوة المتين» ہے یعنی اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں، توانائی والا اور زور آور ہے (سورۃ الذاریات: ۵۸)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (5307)
وللحديث طريق آخر عند ابن حبان (1762 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3994
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ:" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَؤُهَا:فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 يَعْنِي: مُثَقَّلًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَضْمُومَةَ الْمِيمِ مَفْتُوحَةَ الدَّالِ مَكْسُورَةُ الْكَافِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا (سورۃ الذاریات: ۵۸) (یعنی دال کو مشدد) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مُدَّكِّرٍ»  میم کے ضمہ دال کے فتحہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3994]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے ﴿فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ [سورة القمر: 15] (یعنی شد کے ساتھ۔) بھلا کوئی ہے جو نصیحت پکڑے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ لفظ میم کے ضمہ، دال کے فتحہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 3 (3341)، وتفسیر القرآن 2 (4874)، صحیح مسلم/المسافرین 50 (823)، سنن الترمذی/القراء ات سورة القمر 5 (2937)، (تحفة الأشراف: 9179)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/395، 406، 413، 431، 437، 461) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4869) صحيح مسلم (823)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3995
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: 0 أَيَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ 0".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «يحسب أن ماله أخلده» ۱؎ پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3995]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿أَيَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ﴾ [سورة الهمزة: 3] پڑھ رہے تھے (یعنی شروع میں ہمزہ استفہام کے ساتھ)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3026) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مشہور قرaت بغیر ہمزہ استفہام کے ہے یعنی کیا وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ رہے گا (سورۃ الہمزۃ: ۳)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن حبان (1773) والحاكم (2/256) وتعقبه الذھبي والصواب أنه حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3996
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ" عَمَّنْ أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَوْمَئِذٍ لا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ {25} وَلا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ {26} سورة الفجر آية 25-26"، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَعْضُهُمْ أَدْخَلَ بَيْنَ خَالِدٍ وأَبِي قِلَابَةَ رَجُلًا.
ابوقلابہ ایک ایسے شخص سے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے روایت کرتے ہیں (کہ یہ آیت کریمہ اس طرح ہے) «فيومئذ لا يعذب عذابه أحد * ولا يوثق وثاقه أحد» ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کچھ لوگوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک مزید واسطہ داخل کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3996]
جناب ابوقلابہ اس شخص سے روایت کرتے ہیں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا: ﴿فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذَّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثَقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الفجر: 25، 26] یعنی «يُعَذَّبُ» اور «يُوثَقُ» مجہول صیغوں کے ساتھ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک راوی کا اضافہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: 15608)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/71) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی صیغہ مجہول کے ساتھ جب کہ مشہور قرات دونوں میں صیغہ معروف کے ساتھ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه أحمد (5/71)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3997
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ:" أَنْبَأَنِي مَنْ أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مَنْ أَقْرَأَهُ مَنْ أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَوْمَئِذٍ لا يُعَذِّبُ سورة الفجر آية 25"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَرَأَ عَاصِمٌ، وَالْأَعْمَشُ، وَطَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، وَأَبُو جَعْفَرٍ يَزِيدُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، وَشَيْبَةُ بْنُ نَصَّاحٍ، وَنَافِعُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، وَقَتَادَةُ، وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَمُجَاهِدٌ، وَحُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ لَا يُعَذِّبُ وَلَا يُوثِقُ إِلَّا الْحَدِيثَ الْمَرْفُوعَ فَإِنَّه يُعَذَّبُ بِالْفَتْحِ.
ابوقلابہ کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے یا جسے ایک ایسے شخص نے پڑھایا ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا یا ہے کہ «فيومئذ لا يعذب» (مجہول کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن علاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے «لا يعذب ‏ولا يوثق‏» صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے مگر مرفوع روایت میں «يعذب» (ذال کے فتحہ کے ساتھ) ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3997]
جناب ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بتایا جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا۔ یا کہا: مجھے اس شخص نے پڑھایا جس کو اس شخص نے پڑھایا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا ﴿فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذَّبُ﴾ [سورة الفجر: 25] ( «ذَال» کے زبر، یعنی مجہول صیغے کے ساتھ)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن العلاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہم یہ سبھی حضرات «لَا يُعَذِّبُ وَلَا يُوثِقُ» پڑھتے ہیں ( «ذَال» اور «ثَا» کے کسرہ، یعنی معروف صیغے کے ساتھ)۔ مگر مرفوع حدیث میں «يُعَذَّبُ» «ذَال» کے فتحہ کے ساتھ مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15608) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3996)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3998
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ذَكَرَ فِيهِ جِبْرِيلَ وَمِيكَالَ، فَقَالَ جِبْرَائِلُ، وَمِيكَائِلُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ خَلَفٌ: مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً لَمْ أَرْفَعِ الْقَلَمَ عَنْ كِتَابَةِ الْحُرُوفِ مَا أَعْيَانِي شَيْءٌ مَا أَعْيَانِي جِبْرَائِلُ، وَمِيكَائِلُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث بیان فرمائی جس میں جبرائیل و میکال کا ذکر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائل و میکائل پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خلف کا بیان ہے میں چالیس سال سے برابر لکھ رہا ہوں لیکن جبرائل و میکائل لکھنے میں مجھے جتنی دشواری ہوئی ہے کسی اور چیز میں نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3998]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث بیان فرمائی، اس میں جبرائیل اور میکال کا ذکر تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کے تلفظ میں) «جِبْرَائِلَ» اور «مِيْكَائِلَ» فرمایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4205)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/9) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں