سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3999
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ: ذُكِرَ كَيْفَ قِرَاءَةُ جِبْرَائِلَ، وَمِيكَائِلَ عِنْدَ الْأَعْمَشِ، فَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الصُّورِ، فَقَالَ: عَنْ يَمِينِهِ جِبْرَائِلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِلُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرشتہ کا ذکر کیا جو صور لیے کھڑا ہے تو فرمایا: ”اس کے داہنی جانب جبرائل ہیں اور بائیں جانب میکائل ہیں“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3999]
محمد بن خازم نے بیان کیا کہ جناب اعمش کی مجلس میں «جِبْرَائِيلُ» اور «مِيكَائِيلُ» کے تلفظ کی بحث چل پڑی تو اعمش نے بسند سعد طائی، عطیہ عوفی سے، انہوں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صور پھونکنے والے فرشتے (اسرافیل) کا ذکر کیا اور فرمایا: ”اس کی دائیں جانب «جِبْرَائِيلُ» ”جبرائیل“ اور اس کی بائیں جانب «مِيكَائِيلُ» ”میکائل“ ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ «خَلَفٌ» کہتے ہیں: ”چالیس سال ہونے کو آئے ہیں کہ میں نے لکھنے سے قلم نہیں اٹھایا ہے مگر مجھے جو الجھن «جِبْرَائِيلُ» اور «مِيكَائِيلُ» کے ضبط میں ہوئی ہے کسی اور کلمہ میں نہیں ہوئی۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 3999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4205) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (3998)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (3998)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
حدیث نمبر: 4000
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَرُبَمَا ذَكَرَ ابْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ يَقْرَءُونَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 وَأَوَّلُ مَنْ قَرَأَهَا 0 مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0 مَرْوَانُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ وَالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ.
عبدالرزاق کہتے ہیں ہمیں معمر نے زہری کے واسطہ سے خبر دی ہے اور معمر نے کبھی کبھی زہری کے بجائے ابن مسیب کا ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر اور عثمان «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھتے تھے اور «مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ» سب سے پہلے مروان نے پڑھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل سند زہری کی حدیث سے جو انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نیز زہری کی اس حدیث سے جو سالم سے مروی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4000]
امام زہری رحمہ اللہ بسا اوقات ابن مسیب سے روایت کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ﴿مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] پڑھا کرتے تھے“ (سورۃ فاتحہ میں، «مَالِكِ» بروزن فاعل) اور ”مروان سب سے پہلا شخص ہے جس نے یہ ﴿مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] پڑھا“ (”الف“ کے بغیر بروزن فعل)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”یہ سند «الزُّهْرِيُّ عَنْ أَنَسٍ، وَالزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ» کی بہ نسبت زیادہ صحیح ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2928)
الزهري عنعن وسعيد لم يدرك أبا بكر رضي اللّٰه عنه فالخبر منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
إسناده ضعيف
ترمذي (2928)
الزهري عنعن وسعيد لم يدرك أبا بكر رضي اللّٰه عنه فالخبر منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
حدیث نمبر: 4001
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ:" أَنَّهَا ذَكَرَتْ أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0 يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً"، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ: الْقِرَاءَةُ الْقَدِيمَةُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا یا اس کے علاوہ راوی نے کوئی اور کلمہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت یوں ہوتی «بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين» آپ ہر ہر آیت الگ الگ پڑھتے تھے (ایک آیت کو دوسری آیت میں ملاتے نہیں تھے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا ہے کہ پرانی قرآت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4001]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا ذکر کیا: ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] ، ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] ، ﴿الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 3] ، ﴿مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ﴾ [سورة الفاتحة: 4] ، ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قرأت میں ایک ایک لفظ علیحدہ علیحدہ کر کے پڑھتے تھے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: قدیم قرأت (سلف کی قرأت) «مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ہی ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/القراء ات سورة الفاتحة 1 (2927)، (تحفة الأشراف: 18183)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/302، 323) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2927)
ابن جريج عنعن وابن أبي مليكة لم يسمع من أم سلمة
وحديث أحمد (6/ 288) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
إسناده ضعيف
ترمذي (2927)
ابن جريج عنعن وابن أبي مليكة لم يسمع من أم سلمة
وحديث أحمد (6/ 288) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
حدیث نمبر: 4002
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ وَالشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا، فَقَالَ:" هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ هَذِهِ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَامِيَةٍ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور غروب شمس کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کہاں ڈوبتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فإنها تغرب في عين حامية"» ”یہ ایک گرم چشمہ میں ڈوبتا ہے“ (سورۃ الکہف: ۸۶) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4002]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے بیٹھا ہوا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار تھے اور سورج غروب ہونے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کہاں غروب ہوتا ہے؟“ میں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فَإِنَّهَا ﴿تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَامِيَةٍ﴾ [سورة الكهف: 86] » ”یہ ایک گرم چشمے میں غروب ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 4 (3199)، وتفسیر القرآن 36 (4803)، والتوحید 22 (7424)، صحیح مسلم/الإیمان 72 (159)، سنن الترمذی/الفتن 22 (2186)، تفسیر القرآن سورة یٰسن 37 (3227)، (تحفة الأشراف: 11993)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/145، 152، 158ع 165، 177) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مشہور قرات «حَمِئَةٍ» ہے یعنی کالی مٹی کے چشمہ میں ڈوبتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3199، 4802، 4803) صحيح مسلم (159)
حدیث نمبر: 4003
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ، أَنَّ مَوْلًى لِابْنِ الْأَسْقَعِ رَجُلَ صِدْقٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ ابْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُمْ فِي صُفَّةِ الْمُهَاجِرِينَ فَسَأَلَهُ إِنْسَانٌ أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ".
واثلہ بن الاسقع بکری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مہاجرین کے صفے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا: قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم» ”اللہ ہی معبود برحق ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند“ (سورۃ البقرہ: ۲۵۵) ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4003]
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور چبوترے پر تشریف لائے جو مہاجرین کے لیے مخصوص تھا، تو ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قرآن کریم کی کون سی آیت سب سے بڑی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ﴾ [سورة البقرة: 255] (یعنی آیت الکرسی)۔““ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11756) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شاھد عند مسلم (810) وانظر الحديث السابق (1460)
وله شاھد عند مسلم (810) وانظر الحديث السابق (1460)
حدیث نمبر: 4004
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ" أَنَّهُ قَرَأَ: هَيْتَ لَكَ سورة يوسف آية 23، فَقَالَ شَقِيقٌ: إِنَّا نَقْرَؤُهَا: 0 هِئْتُ لَكَ 0 يَعْنِي، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے «هَيْتَ لَكَ» ۱؎ پڑھا تو ابووائل شقیق بن سلمہ نے عرض کیا: ہم تو اسے «هِئْتُ لَكَ» پڑھتے ہیں تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4004]
جناب شقیق سے روایت ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پڑھا «هَيْتَ لَكَ» (”ہا“ پر زبر کے ساتھ) شقیق نے کہا: ہم اسے «هِيتَ لَكَ» پڑھتے ہیں (یعنی ”ہا“ کے نیچے زیر کے ساتھ)، تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جیسے پڑھایا گیا اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر القرآن 4 (4692)، (تحفة الأشراف: 9265) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معنی ہے آ جاؤ (سورۃ یوسف: ۳) اور «هئتُ» کے معنیٰ ہے میں تیار ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4692)
حدیث نمبر: 4005
حَدَّثَنَا هَنَادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ:" إِنَّ أُنَاسًا يَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ: 0 وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ 0، فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ: وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ سورة يوسف آية 23".
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اس آیت کو «وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ» پڑھتے ہیں تو انہوں نے کہا: جیسے مجھے سکھایا گیا ہے ویسے ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے «وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ» ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4005]
جناب شقیق سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ لوگ یہ آیت کریمہ ﴿قَالَتْ هِيتَ لَكَ﴾ [سورة يوسف: 23] پڑھتے ہیں (یعنی ”ھا“ کے زیر کے ساتھ) تو انہوں نے کہا: ”بلاشبہ مجھے اسی طرح پڑھنا زیادہ محبوب ہے جیسے کہ مجھے سکھایا گیا ہے ﴿وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ﴾ [سورة يوسف: 23] “ (یعنی ”ھا“ پر زبر کے ساتھ)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9265) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4004)
انظر الحديث السابق (4004)
حدیث نمبر: 4006
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِبَنِي إِسْرَائِيلَ {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ تُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ}".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا: «ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لكم خطاياكم» ”اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوو اور زبان سے «حطة» کہو تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے (سورۃ البقرہ: ۵۸) ۱؎“ (بصیغہ واحد مونث غائب مضارع مجہول)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4006]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے بنو اسرائیل سے فرمایا: ﴿ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ تُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ﴾ [سورة البقرة: 58] یعنی «تُغْفَرْ» ”تا“ کے ضمہ سے بصیغہ واحد مؤنث غائب مجہول۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4180) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «تُغْفَرُ» بصیغہ واحد مؤنث غائب مضارع مجہول مشہور قرات جمع متکلم مضارع معروف کے صیغے کے ساتھ ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وله شاھد في صحيفة همام بن منبه (116) ومن طريقه أخرجه البخاري (3403) ومسلم (3015)
وله شاھد في صحيفة همام بن منبه (116) ومن طريقه أخرجه البخاري (3403) ومسلم (3015)
حدیث نمبر: 4007
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی ہشام بن سعد سے اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4007]
جعفر بن مسافر نے ابن ابی فدیک سے، انہوں نے ہشام بن سعد سے، انہوں نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کی مثل روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4180) (حسن صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
انظر الحديث السابق (4006)
انظر الحديث السابق (4006)
حدیث نمبر: 4008
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:" نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْنَا: سُورَةَ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي مُخَفَّفَةً حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الآيَاتِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری تو آپ نے ہمیں «سورة أنزلناها وفرضناها» ”یہ وہ سورت ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے اور مقرر کر دی ہے“ (سورۃ النور: ۱) پڑھ کر سنایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مخفف پڑھا ۱؎ یہاں تک کہ ان آیات پر آئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4008]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ آیات پڑھ کر سنائیں ﴿سُورَةٌ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا﴾ [سورة النور: 1] ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( «فَرَضْنَاهَا» کا کلمہ ”را“ کی) تحفیف سے پڑھا حتیٰ کہ ان آیات پر پہنچے (جن میں سیدہ عائشہ طیبہ رضی اللہ عنہا کی براءت کا مضمون ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُرُوفِ وَالْقِرَاءَاتِ/حدیث: 4008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16878) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: مراد «فرضناها» کی راء ہے، جمہور کی قرات تخفیف راء کے ساتھ ہے، اور ابوعمرو اور ابن کثیر نے اسے تشدید راء کے ساتھ پڑھا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث الآتي (4735)
انظر الحديث الآتي (4735)