سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ: الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 903
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: «اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم» ”اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمت نازل فرمائی ہے، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ برکت اتار جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اتاری ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 903]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہمیں آپ کو سلام کہنے کا طریقہ تو معلوم ہو چکا ہے، لیکن درود کیسے پڑھیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ» ”اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام پر رحمت نازل فرمائی، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام پر برکت نازل فرمائی۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب 10 (4798)، الدعوات 32 (6358)، سنن النسائی/السہو 53 (1294)، (تحفة الأشراف: 4093)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/47) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) کے حدیث میں کئی الفاظ وارد ہیں جو چاہے پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 904
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَة ، فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر رحمتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کے اہل و عیال پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 904]
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ (وہ یہ ہے کہ ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) باہر تشریف لائے تو ہم نے کہا: ہم آپ کو سلام کہنے کا طریقہ تو جانتے ہیں، درود کیسے پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام پر رحمت نازل فرمائی۔ تو یقیناً قابل تعریف اور بزرگیوں والا ہے۔ اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام پر برکت نازل فرمائی۔ تو یقیناً قابل تعریف اور بزرگیوں والا ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3370)، تفسیر الأحزاب 10 (4797)، الدعوات 32 (6357)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (406)، سنن ابی داود/الصلاة 183 (976، 977)، سنن الترمذی/الصلاة 234 (483)، سنن النسائی/السہو 51 (1288، 1289)، (تحفة الأشراف: 11113)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/241، 244)، سنن الدارمی/ الصلاة 85 (1381) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 905
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ طَالُوتَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُمِرْنَا بِالصَّلَاةِ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل فرمائی ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر سارے جہاں میں برکت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 905]
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہمیں آپ پر درود پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم آپ پر کس طرح درود پڑھیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کی ازواج مطہرات پر اور آپ کی اولاد پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام پر رحمات نازل فرمائیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کی ازواج مطہرات اور آپ کی اولاد پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے جہانوں میں ابراہیم علیہ السلام کی آل پر برکت نازل فرمائی۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگیوں والا ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 905]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3369)، الدعوات 33 (6360)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (407)، سنن ابی داود/الصلاة (979)، 183 (1293)، سنن النسائی/السہو 54 (1295)، (تحفة الأشراف: 11896)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصرالصلاة 22 (66)، مسند احمد (5/424) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 906
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ بَيَانٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسِنُوا الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّ ذَلِكَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالُوا لَهُ: فَعَلِّمْنَا، قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَكَ، وَرَحْمَتَكَ، وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ، وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ، وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، إِمَامِ الْخَيْرِ، وَقَائِدِ الْخَيْرِ، وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ، اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود (صلاۃ) بھیجو تو اچھی طرح بھیجو، تمہیں معلوم نہیں شاید وہ درود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان سے عرض کیا: پھر تو آپ ہمیں درود سکھا دیجئیے، انہوں نے کہا: کہو: «اللهم اجعل صلاتك ورحمتك وبركاتك على سيد المرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيين محمد عبدك ورسولك إمام الخير وقائد الخير ورسول الرحمة اللهم ابعثه مقاما محمودا يغبطه به الأولون والآخرون اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! اپنی عنایتیں، رحمتیں اور برکتیں رسولوں کے سردار، متقیوں کے امام خاتم النبیین محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل فرما، جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں، خیر کے امام و قائد اور رسول رحمت ہیں، اے اللہ! ان کو مقام محمود پر فائز فرما، جس پہ اولین و آخرین رشک کریں گے، اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پہ اپنی رحمت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پہ نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 906]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھو تو درود کو مزین کرو، تمہیں کیا معلوم کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا جاتا ہو۔“ ساتھیوں نے کہا: ”ہمیں سکھا دیجئے (کہ کس طرح مزین کر کے درود پڑھیں)“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یوں کہو: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَىٰ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ إِمَامِ الْخَيْرِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ، اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! اپنے درود، رحمت اور برکات نازل فرما، رسولوں کے سردار، متقین کے امام، انبیاء کے خاتم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو تیرے بندے، تیرے رسول، نیکی کے امام، نیکی کے رہبر اور رحمت کے رسول ہیں۔ اے اللہ! انہیں مقام محمود پر فائز فرما جہاں ان پر پہلے اور پچھلے (سب جن اور انسان) رشک کریں گے۔ اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اور ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر رحمت نازل فرمائی۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگیوں والا ہے۔ اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام پر اور ابراہیم علیہ السلام کی آل پر برکت نازل فرمائی۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگیوں والا ہے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9168 ومصباح الزجاجة: 329) (ضعیف)» (مسعودی اختلاط کے شکار روای ہیں، اس لئے متروک الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: بعضوں نے کہا بہتر درود وہی ہے جو صحیح روایت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، اور بعضوں نے کہا جس کے الفاظ زیادہ جامع اور زیادہ عمدہ ہوں، اور یہ جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمہارا درود پیش کیا جائے“، حالانکہ دوسری حدیث میں ہے کہ تمہارا درود میرے اوپر پیش کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس درود میں اخلاص اور صدق نہ ہو وہ قبول نہیں ہوتا، اور جب قبول نہ ہو تو پیش بھی نہ کیا جائے گا، بلکہ درود بھیجنے والے پر واپس کیا جائے گا جیسے تحفہ جب قبول نہیں ہوتا تو واپس کر دیا جاتا ہے، شیخ البانی نے ”صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم “ میں صحیح سندوں سے ثابت درود (صلاۃ) کے سارے صیغوں اور الفاظ کو جمع کر دیا ہے، جس سے مکمل طور پر استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
المسعودي اختلط قبل موته (تقريب: 3919)
وانظر ضعيف سنن الترمذي (2543)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
إسناده ضعيف
المسعودي اختلط قبل موته (تقريب: 3919)
وانظر ضعيف سنن الترمذي (2543)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا صَلَّى عَلَيَّ، فَلْيُقِلَّ الْعَبْدُ مِنْ ذَلِكَ، أَوْ لِيُكْثِرْ".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 907]
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان مجھ پر درود پڑھتا ہے، فرشتے اس وقت تک اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہتا ہے۔ اب بندہ چاہے یہ عمل کم کرے یا زیادہ کر لے (اس کی مرضی ہے۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5039، ومصباح الزجاجة: 330) (حسن)» (سند میں عاصم بن عبید اللہ منکر الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة و الترغیب والترھیب للمنذری 2/500)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 8/ 150)
وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 8/ 150)
وقال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
حدیث نمبر: 908
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ خَطِئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا، وہ جنت کا راستہ بھول گیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 908]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مجھ پر درود پڑھنا فراموش کر دیا، وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5391، ومصباح الزجاجة: 331) (حسن صحیح)» (سند میں جبار بن مغلس ضعیف ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2337، وفضل الصلاة علی النبی ﷺ: ص 46)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
جبارة بن مغلس: ضعيف جدًا و للحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
-
إسناده ضعيف جدًا
جبارة بن مغلس: ضعيف جدًا و للحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
-