🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ: السِّلاَحِ
باب: اسلحہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2805
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن اس حال میں مکہ داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر خود تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2805]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 18 (1846)، الجہاد160 (3044)، المغازي 48 (4286)، اللباس 17 (5808)، صحیح مسلم/الحج 84 (1357)، سنن ابی داود/الجہاد 127 (2685)، سنن الترمذی/الجہاد 18 (1693)، الشمائل 16 (106)، سنن النسائی/الحج 107 (2870، 2871)، (تحفة الأشراف: 1527)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 81 (247)، مسند احمد (3/109، 164، 180، 186، 224، 232، 240)، سنن الدارمی/المناسک 88 (1981)، السیر 20 (2500) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: خود لوہے کی ٹوپی کو کہتے ہیں جسے تلوار وغیرہ سے بچاؤ کے لیے سر پر پہنا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2806
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ:" أَخَذَ دِرْعَيْنِ كَأَنَّهُ ظَاهَرَ بَيْنَهُمَا".
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقعہ پر اوپر نیچے دو زرہیں پہنیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2806]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احد کے دن دو زرہیں اوپر نیچے پہنیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2806]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3805، ومصباح الزجاجة: 993)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 75 (2590)، مسند احمد (3/449) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2807
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي أُمَامَةَ فَرَأَى فِي سُيُوفِنَا شَيْئًا مِنْ حِلْيَةِ فِضَّةٍ فَغَضِبَ وَقَالَ:" لَقَدْ فَتَحَ الْفُتُوحَ قَوْمٌ مَا كَانَ حِلْيَةُ سُيُوفِهِمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَكِنْ الْآنُكُ وَالْحَدِيدُ وَالْعَلَابِيُّ"، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: الْعَلَابِيُّ الْعَصَبُ.
سلیمان بن حبیب کہتے ہیں کہ ہم ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، تو وہ ہماری تلواروں میں چاندی کا کچھ زیور دیکھ کر غصہ ہو گئے، اور کہنے لگے: لوگوں (صحابہ کرام) نے بہت ساری فتوحات کیں، لیکن ان کی تلواروں کا زیور سونا چاندی نہ تھا، بلکہ سیسہ، لوہا اور علابی تھا۔ ابوالحسن قطان کہتے ہیں: علابی: اونٹ کا پٹھا (چمڑا) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2807]
حضرت سلیمان بن حبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم لوگ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ہماری تلواروں کو کچھ چاندی سے مزین دیکھا تو ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگوں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کو بڑی بڑی فتوحات حاصل ہوئیں، ان کی تلواریں تو سونے چاندی سے مزین نہیں تھیں لیکن (ان پر) سیسہ، لوہا اور «الْعَلَابِيُّ» (لگا ہوتا تھا۔) ابوالحسن قطان رحمہ اللہ نے فرمایا: «الْعَلَابِيُّ» پٹھے کو کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 83 (2909)، (تحفة الأشراف: 4874) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2808
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الصَّلْتِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَنَفَّلَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن اپنی ذوالفقار نامی تلوار (علی رضی اللہ عنہ کو) انعام میں دی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2808]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ذوالفقار جنگِ بدر کے موقع پر غنیمت میں سے لی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/السیر 12 (1516)، (تحفة الأشراف: 5827)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/2461، 271) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ انعام بطور نفل تھا اور نفل اس انعام کو کہتے ہیں جو کسی مجاہد کو اس کی کارکردگی اور بہادری کے صلہ میں حصہ سے زیادہ دیا جاتا ہے، یہ تلوار پہلے عاص بن امیہ کی تھی جو بدر کے دن کام آیا، پھر یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ نے اسے علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا، اور ان کے پاس یہ تلوار ان کے فوت ہونے تک رہی۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" كَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِذَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَ مَعَهُ رُمْحًا، فَإِذَا رَجَعَ طَرَحَ رُمْحَهُ حَتَّى يُحْمَلَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تُرْفَعْ ضَالَّةً".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے جاتے تو اپنے ساتھ برچھا لے جاتے، اور لوٹتے وقت اسے پھینک دیتے، انہیں دینے کے لیے کوئی اسے اٹھا لاتا، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی یہ حرکت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور بتاؤں گا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کریں، کیونکہ اگر آپ نے ایسا کیا تو گمشدہ چیز اٹھائی نہیں جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2809]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو اپنے ساتھ نیزہ بھی اٹھا کر لے جاتے۔ جب واپس ہوتے تو نیزہ وہیں پھینک دیتے، اس خیال سے کہ کوئی اٹھا کر لے آئے گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: ایسا نہ کرو، اگر تم ایسا کرو گے تو واقعتاً گمشدہ چیز بھی کوئی نہیں اٹھائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بن ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10182، ومصباح الزجاجة: 994)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/148) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (ابواسحاق مدلس اور مختلط ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ابو خلیل عبد اللہ بن أبی الخلیل مقبول عند المتابعہ ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں ہے، تو وہ لین الحدیث ہوئے، امام بخاری نے فرمایا کہ ان کی متابعت نہیں کی جائے گی)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان الثوري و أبو إسحاق عنعنا
وفيه علة أخري ذكرها البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2810
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ عَرَبِيَّةٌ فَرَأَى رَجُلًا بِيَدِهِ قَوْسٌ فَارِسِيَّةٌ، فَقَالَ:" مَا هَذِهِ؟ أَلْقِهَا، وَعَلَيْكُمْ بِهَذِهِ وَأَشْبَاهِهَا وَرِمَاحِ الْقَنَا، فَإِنَّهُمَا يَزِيدُ اللَّهُ لَكُمْ بِهِمَا فِي الدِّينِ، وَيُمَكِّنُ لَكُمْ فِي الْبِلَادِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں ایک عربی کمان تھی، اور ایک شخص کے ہاتھ میں آپ نے فارسی کمان دیکھی تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ اسے پھینک دو، اور اس طرح کی رکھو، اور نیزے رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ان دونوں کے ذریعہ سے دین کو ترقی دے گا، اور تمہیں دوسرے ملکوں کو فتح کرنے پر قادر بنا دے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2810]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں عربی کمان تھی، آپ نے ایک شخص کے ہاتھ میں فارسی کمان دیکھی تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ اسے پھینک دو۔ تم اس طرح کی (عربی) کمانیں اور نیزے استعمال کیا کرو، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے دین میں تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ملکوں میں اقتدار عطا فرمائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10326، ومصباح الزجاجة: 995) (ضعیف الاسناد)» ‏‏‏‏ (عبداللہ بن بشر الحبرانی ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
أشعث بن سعيد السمان: متروك (تقريب: 523) وعبد اللّٰه بن بسر الحبراني: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں