🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ: مَا يُرْجَى فِيهِ الشَّهَادَةُ
باب: شہادت کی انواع و اقسام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2803
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِهِ: إِنْ كُنَّا لَنَرْجُو أَنْ تَكُونَ وَفَاتُهُ قَتْلَ شَهَادَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهَادَةٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهَادَةٌ يَعْنِي الْحَامِلَ، وَالْغَرِقُ، وَالْحَرِقُ، وَالْمَجْنُوبُ يَعْنِي ذَاتَ الْجَنْبِ شَهَادَةٌ".
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پرسی (عیادت) کے لیے تشریف لائے، ان کے اہل خانہ میں سے کسی نے کہا: ہمیں تو یہ امید تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں شہادت کی موت مریں گے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہداء کی تعداد بہت کم ہے! (نہیں ایسی بات نہیں بلکہ) اللہ کے راستے میں قتل ہونا شہادت ہے، مرض طاعون میں مر جانا شہادت ہے، عورت کا زچگی (جننے کی حالت) میں مر جانا شہادت ہے، ڈوب کر یا جل کر مر جانا شہادت ہے، نیز پسلی کے ورم میں مر جانا شہادت ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2803]
حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ گھر والوں میں سے کسی نے کہا: ہمیں تو امید تھی کہ وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو کر شہادت کی موت پائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگر صرف میدان جنگ میں مرنا ہی شہادت ہے) تب تو میری امت کے شہید بہت تھوڑے ہوں گے۔ اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے، طاعون سے مرنا بھی شہادت ہے اور جو عورت حمل کی حالت میں فوت ہو جائے وہ بھی شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا، جل کر مرنے والا اور ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 15 (3111)، سنن النسائی/الجنائز 14 (1847)، الجہاد 39 (3196)، (تحفة الأشراف: 3173)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 12 (36)، مسند احمد (5/446) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ ان سب کو شہیدوں کا ثواب اور درجہ ملے گا گرچہ ان کے احکام شہید کے سے نہیں ہیں، اس لئے ان کو غسل دیا جائے گا، ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اس پر بھی بڑا شہید وہی ہے جو اللہ کی راہ یعنی جہاد میں مارا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2804
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَا تَقُولُونَ فِي الشَّهِيدِ فِيكُمْ؟" قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ"، قَالَ سُهَيْلٌ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَزَادَ فِيهِ:" وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم شہید کسے سمجھتے ہو؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کے راستے میں مارا جانا (شہادت ہے) فرمایا: تب تو میری امت میں بہت کم شہید ہوں گے! (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ایسی بات نہیں بلکہ) جو اللہ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کے راستے میں مر جائے وہ بھی شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے، طاعون کے مرض میں مرنے والا شہید ہے۔ سہیل کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن مقسم نے خبر دی وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: اور ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2804]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ شہید کے بارے میں کیا کہتے ہو (کہ شہید کون ہوتا ہے؟) حاضرین نے کہا: اللہ کی راہ میں قتل ہو جانا (شہادت ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہید تھوڑے ہی ہوں گے۔ جو اللہ کی راہ میں قتل ہو گیا، وہ شہید ہے اور جو اللہ کی راہ میں فوت ہو گیا وہ بھی شہید ہے اور پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12732)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 32 (652)، صحیح مسلم/الإمارة 51 (1914) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں