🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. بَابُ: الشُّرْبِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر پینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3422
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ , فَشَرِبَ قَائِمًا" , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِكْرِمَةَ , فَحَلَفَ بِاللَّهِ مَا فَعَلَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا، تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ۱؎۔ شعبی کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث عکرمہ سے بیان کی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3422]
امام شعبی رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے پی لیا۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عکرمہ رحمہ اللہ کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 76 (1637)، الأشربة 16 (5617)، صحیح مسلم/الأشربة 15 (2027)، ولیس عندہ ''فذکرت''، سنن الترمذی/الأشربة 12 (1882)، الشمائل 31 (197، 199)، سنن النسائی/الحج 165 (2967)، (تحفة الأشراف: 5767)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/214، 220، 242، 243، 249، 287، 342، 369، 372) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی کھڑے ہو کر پانی نہیں پیا، یہ عکرمہ نے اپنے گمان کے مطابق قسم کھائی، ورنہ مشہور روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے کھڑے ہی پیا، اور بعض علماء نے کہا کہ زمزم کا پانی اور وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے رہ کر پینا مستحب ہے، اور باقی کل پانی بیٹھ کر پینا چاہیے، اور احتمال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو زمزم کا پانی کھڑے رہ کر پیا یہ عذر کی وجہ سے ہو کہ وہاں بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنے کی جگہ نہ پائی ہو، اور بعضوں نے کہا کہ کھڑے رہ کر پانی پینا پہلے منع تھا، اس کی ممانعت منسوخ ہو گئی، اور بعضوں نے کہا: پہلے جائز تھا، پھر منع ہوا، جابر رضی اللہ عنہ سے ایسا مروی ہے، غرض بہتر یہی ہے بیٹھ کر پانی پیئے، مجبوری کی بات اور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3423
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ , عَنْ جَدَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا كَبْشَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ , فَشَرِبَ مِنْهَا وَهُوَ قَائِمٌ" , فَقَطَعَتْ فَمَ الْقِرْبَةِ , تَبْتَغِي بَرَكَةَ مَوْضِعِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
کبشہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، ان کے پاس ایک پانی کی مشک لٹکی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑ ے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پیا، تو انہوں نے مشک کے منہ کو جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کا لمس ہوا تھا برکت کے لیے کاٹ کر رکھ لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3423]
حضرت کبشہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ ان کے پاس ایک مشک لٹکی ہوئی تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر اس سے پانی پی لیا۔ حضرت کبشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک کی برکت کے خیال سے مشک کا منہ کاٹ لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأشربة 18 (1892)، (تحفة الأشراف: 18049)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/434) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3424
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3424]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 14 (2024)، سنن الترمذی/الأشربة 11 (1879)، (تحفة الأشراف: 1180)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/131، 182، 277) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں