🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب : الاستتار عند الاغتسال
باب: غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 406
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ غسل کرتے دیکھا تو منبر پر چڑھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ «حلیم» بردبار، «حیی» باحیاء اور «ستر» پردہ پوشی پسند فرمانے والا ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحمام 2 (4012)، (تحفة الأشراف 11845)، مسند احمد 4/224 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥يعلى بن منية التميمي، أبو خالد، أبو صفوان، أبو خلفصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← يعلى بن منية التميمي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عبد الملك بن ميسرة الفزازى، أبو عبد الله، أبو سليمان
Newعبد الملك بن ميسرة الفزازى ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← عبد الملك بن ميسرة الفزازى
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن محمد القضاعي، أبو جعفر
Newعبد الله بن محمد القضاعي ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة حافظ
👤←👥إبراهيم بن يعقوب السعدي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن يعقوب السعدي ← عبد الله بن محمد القضاعي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
406
الله حليم حيي ستير يحب الحياء والستر إذا اغتسل أحدكم فليستتر
سنن النسائى الصغرى
407
الله ستير إذا أراد أحدكم أن يغتسل فليتوار بشيء
سنن أبي داود
4012
الله حيي ستير يحب الحياء والستر إذا اغتسل أحدكم فليستتر
سنن نسائی کی حدیث نمبر 406 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 406
406۔ اردو حاشیہ:
➊ حلیم۔ حی۔ ستیر اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام صفات کاملہ سے متصف ہے اور وہ صفات اللہ تعالیٰ میں اس کی شان کے مطابق متحقق ہوتی ہیں۔ ہمیں ان کی حقیقت سے متعلق بحث نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہم ان کی حقیقت کو جان ہی سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ہماری عقل سے ماور ا ہیں۔ ارشادالٰہی ہے: ﴿لیس کمثله شیء﴾ [الشوریٰ42: 11]
اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ ان صفات کو تسلیم کرنا اور بلاوجہ ان کی من گھڑت تاویلات سے اجتناب ضروری ہے، ورنہ قرآن و حدیث کا انکار لازم آسکتا ہے۔
➋ غسل اس طرح پردے میں ہونا چاہیے کہ جسم کا کوئی حصہ نظر نہ آئے۔ یہ بہتر ہے۔ اس طرح انسان جن و انس کے برے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ ورنہ نظر وغیرہ لگنے کا خطرہ رہے گا، نیز اس سے شرم و حیا میں اضافہ ہو گا۔ اور شرم و حیا ایمان کا جز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 406]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4012
ننگا ہونا منع ہے۔
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بغیر تہ بند کے (میدان میں) نہاتے دیکھا تو آپ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ حیاء دار ہے پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیاء اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4012]
فوائد ومسائل:

کھلی جگہ میں بے لباس ہو کرغسل کرنا حرام ہے، واجب ہے کہ کپڑا پہن کر نہائے حتی کے میت کو عریاں بھی جائز نہیں۔

2: داعی حضرات پر واجب ہے کہ جب لوگوں میں اور معاشرے میں کوئی خلاف شرح بات دیکھیں تو اس پر لوگوں کو منتبہ کریں۔

3: اللہ عزوجل کے اسمائے حسنی وصفات علیا میں سے ایک ستیر بھی ہے (س کی زیر اور ت کی شد کے ساتھ) یعنی بندوں کے عیوب کی زیادہ پردہ پوشی کرنے والا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4012]