🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
497. حَدِیث یَزِیدَ بنِ الاَسوَدِ العَامِرِیِّ مِمَّن نَزَلَ الشَّامَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه ...
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17476
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عن أَبِيهِ ، قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ أَوْ الْفَجْرِ، قَالَ: ثُمَّ انْحَرَفَ جَالِسًا، وَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ، فَقَالَ:" ائْتُونِي بِهَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ". قَالَ: فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟" قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ. قَالَ:" فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ، ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ، فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ، فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ". قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَاسْتَغْفَرَ لَهُ، قَالَ: وَنَهَضَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَهَضْتُ مَعَهُمْ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَشَبُّ الرِّجَالِ وَأَجْلَدُهُ. قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَزْحَمُ النَّاسَ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا إِمَّا عَلَى وَجْهِي أَوْ صَدْرِي، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُ شَيْئًا أَطْيَبَ وَلَا أَبْرَدَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ: وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ..
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی پھر ان میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے بخشش کی دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعاء کردی، پھر لوگ اٹھ اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے لگے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس وقت بڑا مضبوط نوجوان تھا، میں رش میں اپنی جگہ بناتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے اپنے چہرے یا سینے پر ملنے لگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ مہک اور ٹھنڈک رکھنے والا کوئی ہاتھ نہیں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد خیف میں تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17476]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17477
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَشُعْبَةُ ، وَشَرِيكٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، عن أَبِيه ِ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: قَالَ شَرِيكٌ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي. قَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكَ"..
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17477]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17478
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو النَّضْرِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، وَقَالَ: أَسْوَدُ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيَّ ، عن أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: ثُمَّ ثَارَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ بِيَدِهِ يَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَمَسَحْتُ بِهَا وَجْهِي، فَوَجَدْتُهَا أَبْرَدَ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبَ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے بخشش کی دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعاء کردی، پھر لوگ اٹھ اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے لگے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس وقت بڑا مضبوط نوجوان تھا، میں رش میں اپنی جگہ بناتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے اپنے چہرے یا سینے پر ملنے لگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ مہک اور ٹھنڈک رکھنے والا کوئی ہاتھ نہیں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد خیف میں تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17478]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17479
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عن أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِمِنًى وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ لَمْ يُصَلِّيَا، فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ لَهُمَا:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟" قَالَا: قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ:" فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمْ فِي رِحَالِكُمْ ثُمَّ أَدْرَكْتُمْ الْإِمَامَ لَمْ يُصَلِّ، فَصَلِّيَا مَعَهُ، فَهِيَ لَكُمْ نَافِلَةٌ" .
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17479]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
498. حَدِیث زَیدِ بنِ حَارِثَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17480
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عن أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَاهُ فِي أَوَّلِ مَا أُوحِيَ إِلَيْهِ، فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الْوُضُوءِ أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ , فَنَضَحَ بِهَا فَرْجَهُ" .
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) جب پہلی وحی لے کر آئے تو انہیں وضو اور نماز کا طریقہ بھی سکھایا اور وضو سے فارغ ہو کر ایک چلو پانی لیا اور اپنی شرمگاہ پر چھڑک لیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17480]

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف، فى إسناده ابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد اضطرب فى إسناده ومتنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
499. حَدِیث عِیَاضِ بنِ حِمَار المجَاشِعِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17481
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عن عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوَيْ عَدْلٍ، وَلْيَحْفَظْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، فَلَا يَكْتُمْ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا، فَإِنَّهُ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ" . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قُلْتُ لِأَبِي: إِنَّ قَوْمًا يَقُولُونَ: عِقَاصَهَا، وَيَقُولُونَ: عِفَاصَهَا! قَالَ: عِفَاصَهَا بِالْفَاءِ.
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی کوئی گری پڑی ہوئی چیز پائے تو اسے چاہئے کہ اس پر دو عادل آدمیوں کو گواہ بنالے اور اس کی تھیلی اور منہ بند کو اچھی طرح ذہن میں محفوظ کرلے، پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے مت چھپائے کیونکہ وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور اگر اس کا مالک نہ آئے تو وہ اللہ کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17481]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17482
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ ، وَكَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْرِفَةٌ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى لَهُ هَدِيَّةً قَالَ: أَحْسَبُهَا إِبِلًا، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، وَقَالَ: " إِنَّا لَا نَقْبَلُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ" . قَالَ: قُلْتُ: وَمَا زَبْدُ الْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: رِفْدُهُمْ، هَدِيَّتُهُمْ.
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی باہمی شناسائی بعثت سے قبل ہی ہوچکی تھی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوچکے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ غالباً اونٹ پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا ہم مشرکوں کے زبد قبول نہیں کرتے، راوی نے زبد کا معنی پوچھا تو بتایا کہ اس کا معنی ہدیہ اور تحفہ ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17482]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد مرسل، لأن الحسن يخبر عن قصة عياض، وقد روي موصولاً عن عياض من غير طريق الحسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17483
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عن عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي يَشْتُمُنِي وَهُوَ دُونِي، عَلَيَّ بَأْسٌ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهُ؟ قَالَ: " الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ، يَتَهَاذَيَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ" .
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میری قوم کا کوئی آدمی مجھے گالی دیتا ہے اور مجھ سے فروتر بھی ہے، اگر میں اس سے بدلہ لیتا ہوں تو کیا اس میں گناہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دو شخص جو ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، وہ دونوں شیطان ہوتے ہیں جو کہ بکواس اور جھوٹ بولتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17483]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17484
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ:" إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي فِي يَوْمِي هَذَا: كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عِبَادِي حَلَالٌ. وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمْ الشَّيَاطِينُ فَأَضَلَّتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ، وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوا بِي مَا لَمْ أُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ، عَجَمِيَّهُمْ وَعَرَبِيَّهُمْ، إِلَّا بَقَايَا مِنْ أهل الكتاب، وَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ، وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ، تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانًا، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ إِذًَا يَثْلَغُوا رَأْسِي، فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً، فَقَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا اسْتَخْرَجُوكَ، فَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ، وَأَنْفِقْ عَلَيْهِمْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جُنْدًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ. وَأَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِكُلِّ ذِي قُرْبَى، وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ فَقِيرٌ، وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ: الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ، الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعًا أَوْ تُبَعَاءَ، شَكَّ يَحْيَى لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا، وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَى لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ، وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ" ، وَذَكَرَ الْبُخْلَ وَالْكَذِبَ" وَالشِّنْظِيرُ الْفَاحِشُ"..
حضرت عیاض رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس نے آج جو باتیں مجھے سکھائی ہیں اور تم ان سے ناواقف ہو، میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں، (چنانچہ میرے رب نے فرمایا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو ہبہ کردیا ہے، وہ حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو حنیف (سب سے یکسو ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہونے والا) بنایا ہے، لیکن پھر شیاطین ان کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکا دیتے ہیں اور میں نے جو چیزیں ان کے لئے حلال کی ہیں انہوں نے وہ چیزیں ان پر حرام کی ہیں اور انہوں نے انہیں یہ حکم دیا ہے کہ میرے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرائیں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل زمین پر نظر فرمائی تو سوائے اہل کتاب کے چند باقی ماندہ لوگوں کے وہ سب ہی عرب وعجم سے ناراض ہوا اور فرمایا (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ کو بھیجا تاکہ آپ کو آزماؤں اور آپ کے ذریعے دوسروں کو آزماؤں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل فرمائی جسے پانی نہیں دھو سکتا اور جسے آپ خواب اور بیدار دونوں میں تلاوت کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ قریش کو جلا دوں، میں نے عرض کیا کہ پروردگار وہ تو میرے سر کو کھائی ہوئی روٹی بنادیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم انہیں میدان میں آنے کی دعوت دینا جیسے وہ تمہیں دعوت دیں گے، پھر تم ان سے جہاد کرنا، ہم تمہارے ساتھ ہوں گے، تم اپنے مجاہدین پر خرچ کرنا، تم پر خرچ کیا جائے گا اور اپنا لشکر روانہ کرنا، ہم اس کے ساتھ پانچ گنا لشکر مزید روانہ کردیں گے اور اپنے مطیعین کو لے کر نافرمانوں سے قتال کرنا۔ اور اہل جنت تین طرح کے ہوں گے، ایک وہ منصف بادشاہ جو صدقہ و خیرات کرتا ہو اور نیکی کے کاموں کی توفیق اسے ملی ہوئی ہو، دوسرا وہ مہربان آدمی جو ہر قریبی رشتہ دار اور مسلمان کے لئے نرم دل ہو اور تیسرا وہ فقیر جو سوال کرنے سے بچے اور خود صدقہ کرے اور اہل جہنم پانچ طرح کے لوگ ہوں گے، وہ کمزور آدمی جس کے پاس مال و دولت نہ ہو اور وہ تم میں تابع شمار ہوتا ہو، جو اہل خانہ اور مال کے حصول کے لئے محنت بھی نہ کرتا ہو، وہ خائن جس کی خیانت کسی سے ڈھکی چھپی نہ ہو اور وہ معمولی چیزوں میں بھی خیانت کرے، وہ آدمی جو صبح وشام صرف تمہیں تمہارے اہل خانہ اور مال کے متعلق دھوکہ دیتا رہتا ہو، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل، کذب اور بیہودہ گوئی کا بھی تذکرہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17484]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2865
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17485
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سعيد، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ. وَقَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ وَالشِّنْظِيرُ الْفَاحِشُ". قَالَ وَذَكَرَ الْكَذِبَ أَوْ الْبُخْلَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17485]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2865
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں