مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
493. حَدِیث حَبِیبِ بنِ مَسلَمَةَ الفِهرِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17466
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ , عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ ، عن حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ" .
حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس کے بعد تہائی میں سے انعام بھی عطا فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17466]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17467
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ ، عن حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، قَالَ:" شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ" .
حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے خمس کے بعد تہائی میں سے انعام بھی عطا فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17467]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، رواية مكحول عن زياد منقطعة
حدیث نمبر: 17468
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ زَيد بْنِ جَارِيَةَ ، عن حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ" .
حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس کے بعد تہائی میں سے انعام بھی عطا فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17468]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17469
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ ، عن حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، قَالَ:" شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ فِي الْبَدْأَةِ، وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ" . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَمِعْت أَبِي، يَقُولُ: لَيْسَ فِي الشَّامِ رَجُلٌ أَصَحَّ حَدِيثًا مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَعْنِي التَّنُوخِيَّ.
حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں خمس کے بعد چوتھائی حصہ انعام میں دیا اور واپسی پر خمس کے بعد تہائی میں سے انعام عطا فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17469]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان بن موسي يروي عن زياد بن جارية بواسطة مكحول، ورواية مكحول عن زياد منقطعة
494. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17470
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الشَّامُ، فَإِذَا خُيِّرْتُمْ الْمَنَازِلَ فِيهَا، فَعَلَيْكُمْ بِمَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ، فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمَلَاحِمِ، وَفُسْطَاطُهَا مِنْهَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا: الْغُوطَةُ" .
متعدد صحابہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب تمہارے ہاتھوں شام فتح ہوجائے گا، جب تمہیں وہاں کسی مقام پر ٹھہرنے کا اختیار دیا جائے تو دمشق نامی شہر کا انتخاب کرنا، کیونکہ وہ جنگوں کے زمانے میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوگا اور اس کا خیمہ (مرکز) غوطہ نامی علاقے میں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17470]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر
495. حَدِیث كَعبِ بنِ عِیَاض رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17471
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً، وَإِنَّ فِتْنَةَ أُمَّتِي الْمَالُ" .
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ہر امت کے لئے ایک آزمائش رہی ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17471]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 17472
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الشَّامِيُّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: فُسَيْلَةُ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِنْ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ مِنْ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ" .
فسیلہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ بات بھی عصبیت میں شامل ہے کہ انسان اپنی قوم سے محبت کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا نہیں، عصبیت یہ ہے کہ انسان ظلم کے کام پر اپنی قوم کی مدد کرے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17472]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، عباد بن كثير متابع
496. حَدِیث زِیَادِ بنِ لَبِید رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17473
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عن زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَقَالَ: " وَذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ." قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا، وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟! قَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ أُمِّ لَبِيدٍ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى يَقْرَؤُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ لَا يَنْتَفِعُونَ مِمَّا فِيهِمَا بِشَيْءٍ؟" .
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ یہ علم ضائع ہونے کے وقت ہوگا، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم خود بھی قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھاتے ہیں، پھر وہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور یہ سلسلہ یونہی قیامت تک چلتا رہے گا تو علم کیسے ضائع ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن ام لبید! تیری ماں تجھے گم کر کے روئے، میں تو سمجھتا تھا کہ تم مدینہ کے بہت سمجھدار آدمی ہو، کیا یہ یہود و نصاری تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ دراصل یہ لوگ اس میں موجود تعلیمات سے معمولی سا فائدہ بھی نہیں اٹھاتے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17473]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سالم بن أبى الجعد لم يسمع من زياد
497. حَدِیث یَزِیدَ بنِ الاَسوَدِ العَامِرِیِّ مِمَّن نَزَلَ الشَّامَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه ...
حدیث نمبر: 17474
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيُّ ، عن أَبِيهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْمَسْجِدِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ، فَقَالَ:" عَلَيَّ بِهِمَا"، فَأُتِيَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، قَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟" قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ:" فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ، فَصَلِّيَا مَعَهُمْ، فَإِنَّهَمَا لَكُمَا نَافِلَةٌ" . وَرُبَّمَا قِيلَ لِهُشَيْمٍ: فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ يَحْرِفُ. فَيَقُولُ: يَحْرِفُ عَنْ مَكَانِهِ.
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17474]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17475
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عن أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ بِمِنًى، فَانْحَرَفَ، فَرَأَى رَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، فَدَعَا بِهِمَا، فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟" فَقَالَا: قَدْ كُنَّا صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ، فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ، فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ" .
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17475]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح