🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23282
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، وَأَبو النَّضْرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ هُوَ ابنُ هِلَالٍ ، قَالَ أَبو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ يَعْنِي ابنَ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ الْيَشْكُرِيَّ فِي رَهْطٍ مِنْ بنِي لَيْثٍ، قَالَ: فَقَالَ: قُلْنَا: بنُو لَيْثٍ، قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ وَسَأَلَنَا، ثم قلنا: أتيناك نسألك عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَقْبلْنَا مَعَ أَبي مُوسَى قَافِلِينَ وَغَلَتْ الدَّوَاب بالْكُوفَةِ، فَاسْتَأْذَنْتُ أَنَا وَصَاحِب لِي أَبا مُوسَى فَأَذِنَ لَنَا، فَقَدِمْنَا الْكُوفَةَ باكِرًا مِنَ النَّهَارِ، فَقُلْتُ لِصَاحِبي: إِنِّي دَاخِلٌ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا قَامَتْ السُّوقُ خَرَجْتُ إِلَيْكَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا فِيهِ حَلْقَةٌ كَأَنَّمَا قُطِعَتْ رُءُوسُهُمْ يَسْتَمِعُونَ إِلَى حَدِيثِ رَجُلٍ، قَالَ: فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبي، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: أَبصْرِيٌّ أَنْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ لَوْ كُنْتَ كُوفِيًّا لَمْ تَسْأَلْ عَنْ هَذَا، هَذَا حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ ، قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ وَأَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْخَيْرَ لَنْ يَسْبقَنِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ:" يَا حُذَيْفَةُ، تَعَلَّمْ كِتَاب اللَّهِ، وَاتَّبعْ مَا فِيهِ"، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ:" فتنهٌ وشرٌّ"، قال: قلت: يا رَسُولَ الله، أَبعْدَ هَذَا الشَرِّ خَيْرِ؟ قال:" يا حذيفة، تَعَلَّم كِتَاب الله، وَاتَّبعْ مَا فِيهِ"، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله، أَبعْدَ هَذَا الشَرٌّ خَيْرٌّ؟ قَالَ:" هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ، وَجَمَاعَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْهُدْنَةُ عَلَى دَخَنٍ مَا هِيَ؟ قَالَ:" لَا تَرْجِعُ قُلُوب أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ:" يَا حذيفة، تَعَلَّم كِتَاب الله، واَتَّبعْ مَا فِيهِ"، ثَلاَثَ مَرَّات، قَال: قِلْتِِِِِِ: يَا رسول الله، أبعد هذا الخير شر؟ قال:" فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبوَاب النَّارِ، وَأَنْتَ أَنْ تَمُوتَ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبعَ أَحَدًا مِنْهُمْ" .
نصر بن عاصم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بنولیث کے ایک گروہ کے ساتھ یشکری کے پاس آیا انہوں نے پوچھا کون لوگ ہیں؟ ہم نے بتایا بنولیث ہیں ہم نے ان کی خیریت دریافت کی اور انہوں نے ہماری خیریت معلوم کی پھر ہم نے کہا کہ ہم آپ کے پاس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث معلوم کرنے کے لئے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آرہے تھے کوفہ میں جانور بہت مہنگے ہوگئے تھے میں نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ حضرت ابوموسیٰ سے اجازت لی انہوں نے ہمیں اجازت دے دی چناچہ ہم صبح سویرے کوفہ پہنچ گئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ میں مسجد کے اندر ہوں جب بازار کھل جائے گا تو میں آپ کے پاس آجاؤں گا۔ میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ لگا ہوا تھا یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے سر کاٹ دیئے گئے ہیں وہ ایک آدمی کی حدیث کو بڑی توجہ سے سن رہے تھے میں ان کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اسی دوران ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا میں نے اس سے پوچھا کہ یہ صاحب کون ہیں؟ اس نے مجھ سے پوچھا کیا آپ بصرہ کے رہنے والے ہیں میں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا کہ میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ اگر آپ کوفی ہوتے تو ان صاحب کے متعلق سوال نہ کرتے یہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان کے قریب گیا تو انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں شر کے متعلق کیونکہ میں جانتا تھا کہ خیر مجھے چھوڑ کر آگے نہیں جاسکتی ایک دن میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حذیفہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پیروی کرو (تین مرتبہ فرمایا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ اور شر ہوگا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا حذیفہ! کتاب اللہ کو سیکھو اور اس کے احکام کی پر وی کرو میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھوئیں پر صلح قائم ہوگی اور گندگی پر اتفاق ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دھوئیں پر صلح قائم ہونے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اس صلح پر دل سے راضی نہیں ہوں گے۔ پھر میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہی سوال جواب ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ایسا فتنہ آئے گا جو اندھا بہرا کر دے گا اس پر جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے لوگ مقرر ہوں گے اے حذیفہ! اگر تم اس حال میں مرو کہ تم نے کسی درخت کے تنے کو اپنے دانتوں تلے دبا رکھا ہو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23282]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23283
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ أَبو النَّضْرِ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بالْمَدَائِنِ لَيَالِيَ سَارَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ: يَا رِبعِيُّ، مَا فَعَلَ قَوْمُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: عَنْ أَيِّ بالِهِمْ تَسْأَلُ؟ قَالَ: مَنْ خَرَجَ مِنْهُمْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ؟ فَسَمَّيْتُ رِجَالًا فِيمَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ" ..
ربعی بن حراش (رح) کہتے ہیں کہ جس دور میں فتنہ پرور لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے تھے مدائن میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا انہوں نے مجھ سے پوچھا اے ربعی! تمہاری قوم کا کیا بنا؟ میں نے پوچھا کہ آپ ان کے متعلق کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کون کون روانہ ہوئے ہیں؟ میں نے انہیں ان میں سے چند لوگوں کے نام بتا دیئے وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جماعت کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنے امیر کو ذلیل کرتا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہاں اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23283]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23284
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بنُ أَبي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ أَتَاهُ بالْمَدَائِنِ، فَذَكَرَهُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23284]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23285
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ لَيْلَةِ أُسْرِيَ بمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: " فَانْطَلَقْتُ أَوْ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بيْتِ الْمَقْدِسِ"، فَلَمْ يَدْخُلَاهُ، قَالَ: قُلْتُ: بلْ دَخَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ وَصَلَّى فِيهِ، قَالَ: مَا اسْمُكَ يَا أَصْلَعُ؟ فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُكَ! قَالَ: قُلْتُ: أَنَا زِرُّ بنُ حُبيْشٍ، قَالَ: فَمَا عِلْمُكَ بأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ لَيْلَتَئِذٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: الْقُرْآنُ يُخْبرُنِي بذَلِكَ، قَالَ: مَنْ تَكَلَّمَ بالْقُرْآنِ، فَلَجَ، اقْرَأْ، قَالَ: فَقَرَأْتُ: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة الإسراء آية 1، قَالَ: فَلَمْ أَجِدْهُ صَلَّى فِيهِ، قَالَ: يَا أَصْلَعُ هَلْ تَجِدُ صَلَّى فِيهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: وَاللَّهِ مَا صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ، لَوْ صَلَّى فِيهِ لَكُتِب عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِيهِ، كَمَا كُتِب عَلَيْكُمْ صَلَاةٌ فِي الْبيْتِ الْعَتِيقِ، وَاللَّهِ مَا زَايَلَا الْبرَاقَ حَتَّى فُتِحَتْ لَهُمَا أَبوَاب السَّمَاءِ، فَرَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ، ثُمَّ عَادَا عَوْدَهُمَا عَلَى بدْئِهِمَا، قَالَ: ثُمَّ ضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ، قَالَ: وَيُحَدِّثُونَ أَنَّهُ لَرَبطَهُ لِيَفِرَّ مِنْهُ؟! وَإِنَّمَا سَخَّرَهُ لَهُ عَالِمُ الْغَيْب وَالشَّهَادَةِ، قَالَ: قُلْتُ: أَبا عَبدِ اللَّهِ، أَيُّ دَابةٍ الْبرَاقُ؟ قَالَ: دَابةٌ أَبيَضُ طَوِيلٌ، هَكَذَا خَطْوُهُ مَدُّ الْبصَرِ .
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ شب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کرنے لگے کہ پھر ہم وہاں سے چل کر بیت المقدس پہنچے لیکن بیت المقدس میں داخل نہیں ہوئے " میں نے کہا کہ اس رات تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں داخل بھی ہوئے تھے اور وہاں پر نماز پھی پڑھی تھی یہ سن کر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے گنجے! تمہارا کیا نام ہے؟ میں تمہیں چہرے سے پہنچاتا ہوں لیکن نام یاد نہیں ہے میں نے عرض کیا کہ میرا نام زر بن حبیش ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا کہ قرآن بتاتا ہے انہوں نے فرمایا کہ قرآن سے بات کرنے والا کامیاب ہوتا ہے تم وہ آیت پڑھ کر سناؤ اب جو میں نے " سبحان الذی اسری بعبدہ " پڑھی تو اس میں یہ کہیں نہ ملا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز بھی پڑھی تھی، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ارے کنجے! کیا تمہیں اس میں نماز پڑھنے کا ذکر ملتا ہے؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے فرمایا بخدا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہاں نماز پڑھنا فرض ہوجاتا جیسے بیت اللہ میں ہوا بخدا! وہ دونوں براق سے جدا نہیں ہوئے تاآنکہ ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے۔ پھر ان دونوں نے جنت اور جہنم کو دیکھا اور آخرت کے سارے وعدے دیکھے پھر وہ دونوں اسی طرح واپس آگئے جیسے گئے تھے پھر وہ ہنسنے لگے یہاں تک کہ ان کے دندان مبارک میں نے دیکھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے براق کو باندھ دیا تھا تاکہ وہ بھاگ نہ جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو سارا عالم غیب وشہود ان کے تابع کردیا تھا میں نے پوچھا اے ابو عبداللہ! براق کس قسم کا جانور تھا؟ فرمایا سفید رنگ کا ایک لمباجانور تھا جس کا قدم تا حدنگاہ پڑتا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23285]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23286
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِنًا أَنْ يَقُولَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ باسْمِكَ أَحْيَا وَباسْمِكَ أَمُوتُ"، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانِي بعْدَمَا أَمَاتَنِي وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ " [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23286]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6312، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ ، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23287
حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بكْرِ بنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبي عَبدِ الْمَلِكِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَضْلُ الدَّارِ الْقَرِيبةِ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى الدَّارِ الشَّاسِعَةِ، كَفَضْلِ الْغَازِي عَلَى الْقَاعِدِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دور والے گھر پر مسجد کے قریب والے گھر کی فضیلت ایسے ہے جیسے نمازی کی فضیلت جہاد کے انتظار میں بیٹھنے والے پر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23287]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا، أبو عبدالملك وأهي الحديث، ثم هو لم يسمع من حذيفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23288
حَدَّثَنَا أَبو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بنُ أَبي كَثِيرٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ . وَإِسْحَاقُ بنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا كَثِيرٌ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، أَنَّهُ أَتَى حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانِ بالْمَدَائِنِ يَزُورُهُ وَيَزُورُ أُخْتَهُ، قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ: مَا فَعَلَ قَوْمُكَ يَا رِبعِيُّ، أَخَرَجَ مِنْهُمْ أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَسَمَّى نَفَرًا، وَذَلِكَ فِي زَمَنِ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى عُثْمَانَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ، وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ، لَقِيَ اللَّهَ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ" .
ربعی بن حراش (رح) کہتے ہیں کہ جس دور میں فتنہ پرور لوگ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے تھے مدائن میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا انہوں نے مجھ سے پوچھا اے ربعی! تمہاری قوم کا کیا بنا؟ میں نے پوچھا کی آپ ان کے متعلق کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کون کون روانہ ہوئے ہیں؟ میں نے انہیں ان میں سے چند لوگوں کے نام بتا دیئے وہ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جماعت کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنے امیرکو ذلیل کرتا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہاں اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23288]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23289
حَدَّثَنَا وَهْب بنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبي عُبيْدَةَ بنِ حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا أَعْطَاهُ فَأَعْطَى الْقَوْمُ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بهِ، كَانَ لَهُ أَجْرُهُ، وَمِنْ أُجُورِ مَنْ يَتَّبعُهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ شَرًّا فَاسْتُنَّ بهِ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ، وَمِنْ أَوْزَارِ مَنْ يَتَّبعُهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں کسی شخص نے لوگوں سے سوال کیا، لوگ رکے رہے پھر ایک آدمی نے اسے کچھ دے دیا اور پھر سب لوگ اسے دینے لگے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کو بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23289]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23290
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَقْوَامٌ، فَيُخْتَلَجُونَ دُونِي، فَأَقُولُ: رَب أَصْحَابي، رَب أَصْحَابي، فَيُقَالُ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بعْدَكَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حوض کوثر پر کچھ آدمی ایسے بھی آئیں گے کہ میں دیکھوں گا جب وہ میرے سامنے پیش ہوں گے انہیں میرے سامنے سے اچک لیا جائے گا میں عرض کروں گا پروردگار! میرے ساتھی ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23290]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، تغير حفظ حصين بأخرة، وقد اختلف عليه فى تسمية صحابي هذا الحديث، والمحفوظ: عن ابن مسعود
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23291
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابنَ كَيْسَانَ ، عَنِ ابنِ شِهَاب ، قَالَ: قَالَ أَبو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ بنُ عَبدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيّ : سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بنَ الْيَمَانِ ، يَقُولُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بيْنِي وَبيْنَ السَّاعَةِ، وَمَا ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا أَسَرَّهُ إِلَيَّ لَمْ يَكُنْ حَدَّثَ بهِ غَيْرِي، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ، سُئِلَ عَنِ الْفِتَنِ وَهُوَ يَعُدُّ: " الْفِتَنَ فِيهِنَّ ثَلَاثٌ لَا يَذَرْنَ شَيْئًا مِنْهُنَّ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ، مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبارٌ" ، قَالَ حُذَيْفَةُ: فَذَهَب أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي..
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا! میں اب سے لے کر قیامت تک ہونے والے تمام فتنوں کے متعلق تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں ایسا تو نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصیت کے ساتھ کوئی بات مجھے بتائی ہو جو میرے علاوہ کسی اور کو نہ بتائی ہو البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مجلس میں یہ باتیں بیان فرمائی تھیں میں اس میں موجود تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتنوں کے متعلق سوالات پوچھے جا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں شمار کروا رہے تھے ان میں تین فتنے ایسے ہیں جو کسی چیز کو نہیں چھوڑیں گے ان میں سے کچھ گرمیوں کی ہواؤں جیسے ہوں گے کچھ چھوٹے ہوں گے اور کچھ بڑے حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ اس مجلس کے تمام شرکاء دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23291]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2891
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں