🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23312
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ الْجُهَنِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبو الرُّقَادِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ مَوْلَايَ وَأَنَا غُلَامٌ، فَدُفِعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ وَهُوَ يَقُولُ: " إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ مُنَافِقًا، وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ فِي الْمَقْعَدِ الْوَاحِدِ أَرْبعَ مَرَّاتٍ، لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَلَتَحَاضُّنَّ عَلَى الْخَيْرِ، أَوْ لَيُسْحِتَنَّكُمْ اللَّهُ جَمِيعًا بعَذَاب، أَوْ لَيُؤَمِّرَنَّ عَلَيْكُمْ شِرَارَكُمْ، ثُمَّ يَدْعُو خِيَارُكُمْ، فَلَا يُسْتَجَاب لَكُمْ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بعض اوقات انسان کوئی جملہ بولتا تھا اور اس کی وجہ سے منافق ہوجاتا تھا اور اب ایک ایک مجلس میں اس طرح کے دسیوں کلمات میں روزانہ سنتا ہوں۔ تم لوگ امر بالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ اللہ تم پر ایسا عذاب مسلط کر دے گا کہ تم اللہ سے دعائیں کرو گے لیکن تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23312]

الحكم على الحديث:
أثر حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الرقاد العبسي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23313
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حصين ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ يَشُوصُ فَاهُ بالسِّوَاكِ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23313]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1136، م: 255
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23314
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ أَبي غَنِيَّةَ , حَدَّثَنَا أَبي ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَشْرَبوا فِي الذَّهَب وَلَا فِي الْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبسُوا الْحَرِيرَ وَالدِّيباجَ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم و دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23314]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23315
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ ثَابتِ ابنِ وَدِيعَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بضِباب قَدْ احْتَرَشَهَا، قَالَ: فَجَعَلَ يُقَلِّب ضَبا مِنْهَا بيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: " أُمَّةٌ مُسِخَتْ"، قَالَ: وَأَكْبرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ:" مَا أَدْرِي مَا فَعَلَتْ"، قَالَ:" وَمَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا" ، وقَالَ شُعْبةُ: وسَمِعْتُهُ، وقَالَ حُصَيْنٌ : عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: وَذَكَرَ شَيْئًا نَحْوًا مِنْ هَذَا، قَالَ: فَلَمْ يَأْمُرْ بهِ، وَلَمْ يَنْهَ أَحَدًا.
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی چند عدد گوہ شکار کر کے لایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک گوہ کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور فرمایا کہ ایک امت کی شکلیں مسخ کردی تھیں مجھے معلوم نہیں کہ شاید یہ وہی ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23315]

الحكم على الحديث:
إسناداه صحيحان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23316
حَدَّثَنَا أَبو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَمْرُو بنُ صُلَيْعٍ حَتَّى أَتَيْنَا حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ مُضَرَ لَا تَدَعُ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ عَبدًا صَالِحًا إِلَّا أفَتَنَتْهُ وَأَهْلَكَتْهُ، حَتَّى يُدْرِكَهَا اللَّهُ بجُنُودٍ مِنْ عِبادِهِ، فَيُذِلَّهَا حَتَّى لَا تَمْنَعَ ذَنَب تَلْعَةٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قبیلہ مضر زمین پر اللہ کا کوئی نیک بندہ ایسا نہیں چھوڑے گا جسے وہ فتنے میں نہ ڈال دے اور اسے ہلاک نہ کر دے حتی کہ اللہ اس پر اپنا ایک لشکر مسلط کر دے گا جو اسے ذلیل کر دے گا اور اسے کسی ٹیلے کا دامن بھی نہ بچاسکے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23316]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23317
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بيْنَ حَوْضِي كَمَا بيْنَ أَيْلَةَ وَمُضَرَ، آنِيَتُهُ أَكْثَرُ، أَوْ قَالَ: مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَاؤُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَشَدُّ بيَاضًا مِنَ اللَّبنِ، وَأَبرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَب مِنَ الْمِسْكِ، مَنْ شَرِب مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بعْدَهُ" ..
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مسافت اتنی ہے جتنی ایلہ اور مضر کے درمیان ہے اس کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23317]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23318
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: مَا بيْنَ طَرَفَيْ حَوْضِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كأَيْلَةَ وَمُضَرَ، فَذَكَرَهُ، وَكَذَا قَالَ يُونُسُ ، كَمَا قَالَ عَفَّانُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23318]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23319
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ : أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ عَلِيٍّ، رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ، أَمْ شَيْئًا عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً، وَلَكِنَّ حُذَيْفَةَ أَخْبرَنِي , عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي أَصْحَابي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا، مِنْهُمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ" .
قیس بن عبادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اے ابوالیقظان! یہ بتائیے کہ جس مسئلے میں آپ لوگ پڑچکے ہیں وہ آپ کی اپنی رائے ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی وصیت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ ایسی کوئی وصیت نہیں فرمائی جو عام لوگوں کو نہ کی ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا میری امت میں بارہ منافق ہوں گے ان میں سے آٹھ لوگ وہ ہوں گے جو جنت میں داخل ہوں گے اور نہ اس کی مہک پائیں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23319]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2779
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23320
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " لَمْ يُصَلِّ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بيْتِ الْمَقْدِسِ، وَلَوْ صَلَّى فِيهِ، لَكُتِب عَلَيْكُمْ صَلَاةُ نَبيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس میں نماز نہیں پڑھی تھی اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نماز پڑھ لیتے تو تم پر بھی وہ نماز فرض ہوجاتی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23320]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ الزُّبيْرِ ، وَأَبو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابنَ جُمَيْعٍ ، قَالَ أَبو نُعَيْمٍ: عَنْ أَبي الطُّفَيْلِ مِثْلَ جُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبو الطُّفَيْلِ، قَالَ: كَانَ بيْنَ حُذَيْفَةَ وَبيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبةِ مَا يَكُونُ بيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ كَمْ كَانَ أَصْحَاب الْعَقَبةِ؟ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: أَخْبرْهُ إِذْ سَأَلَكَ، قَالَ: إِنْ كُنَّا نُخْبرُ أَنَّهُمْ أَرْبعَةَ عَشَرَ، وَقَالَ أَبو نُعَيْمٍ: فَقَالَ الرَّجُلُ: كُنَّا نُخْبرُ أَنَّهُمْ أَرْبعَةَ عَشَرَ، قَالَ: فَإِنْ كُنْتَ مِنْهُمْ، وَقَالَ أَبو نُعَيْمٍ: فِيهِمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ، وَأَشْهَدُ باللَّهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْب لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ، قَالَ أَبو أَحْمَدَ: الْأَشْهَادُ وَعَدَّنَا ثَلَاثَةً، قَالُوا: مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ، قَالَ أَبو أَحْمَدَ فِي حَدِيثِهِ: وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى، فَقَالَ لِلنَّاسِ: " إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ، فَلَا يَسْبقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ"، فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبقُوهُ، فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ .
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ معمولی سی تکرار ہوگئی تھی جیسا کہ لوگوں میں ہوجاتی ہے انہوں نے پوچھا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے لوگ کتنے تھے؟ لوگوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب یہ آپ سے پوچھ رہے ہیں تو آپ انہیں بتا دیجئے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں تو یہی بتایا گیا ہے کہ وہ چودہ آدمی تھے اگر آپ بھی ان میں شامل ہوں تو ان کی تعداد پندرہ ہوجاتی ہے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ان میں بارہ آدمی دنیا کی زندگی اور گواہوں کے اٹھنے کے دن اللہ اور اس کے رسول کے لئے جنگ ہیں۔ اور تین لوگوں کی طرف سے عذر بیان کیا جنہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کا اعلان نہیں سنا تھا اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ لوگ کیا چاہتے ہیں اس کی وضاحت ابو احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ سخت گرمی کے موسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور لوگوں سے فرما دیا کہ پانی بہت تھوڑا ہے لہٰذا اس مقام پر مجھ سے پہلے کوئی نہ پہنچے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ان سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لعنت ملامت کی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23321]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي، م: 2779
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں