مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23262
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ بلَالٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بنِ شَكَلٍ ، وَعَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، وَعَنْ سُلَيْكِ بنِ مِسْحَل الغَطَفانِي ، قَالُوا: خَرَجَ عَلَيْنَا حُذَيْفَةُ وَنَحْنُ نَتَحَدَّثُ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ لَتَكَلَّمُونَ كَلَامًا إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّفَاقَ" .
متعدد تابعین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم باتیں کر رہے تھے اور فرمانے لگے کہ تم لوگ ایسی باتیں کر رہے ہو جنہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں " نفاق '' شمار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23262]
الحكم على الحديث:
أثر حسن، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف
حدیث نمبر: 23263
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبي مِجْلَزٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ فِي الَّذِي يَقْعُدُ فِي وَسْطِ الْحَلْقَةِ، قَالَ: " مَلْعُونٌ" عَلَى لِسَانِ النَّبيِّ أَوْ لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص وسط حلقہ میں بیٹھتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی معلون قرار دے دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23263]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبو مجلز لم يدرك حذيفة
حدیث نمبر: 23264
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنِي وَاصِلٌ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِي بعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي جُنُب، قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات مدینہ منورہ کے کسی بازار میں ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا تو میں نے عرض کیا کہ میں اختیاری طور پر ناپاک ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن ناپاک نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23264]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23265
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ عن النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو جو اللہ نے چاہا اور جو فلاں نے چاہا " بلکہ یوں کہا کرو " جو اللہ نے چاہا اس کے بعد فلاں نے چاہا " [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23265]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عبدالله بن يسار لم يلق حذيفة، وقد اختلف فيه عليه أيضا
حدیث نمبر: 23266
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ يَعْنِي ابنَ صُهَيْب ، عَنْ مُوسَى بنِ أَبي الْمُخْتَارِ ، عَنْ بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ : " مَا أَخْبيَةٌ بعْدَ أَخْبيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ببدْرٍ يُدْفَعُ عَنْهُمْ، مَا يُدْفَعُ عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَخْبيَةِ، وَلَا يُرِيدُ بهِمْ قَوْمٌ سُوءًا إِلَّا أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ عَنْهُمْ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان خیموں کے بعد کوئی خیمے نہ رہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں تھے اور جس طرح ان کا دفاع ہوا کسی اور کا دفاع نہ ہوسکا اور جب بھی کوئی قوم ان کے ساتھ برا ارادہ کرتی تو کوئی نہ کوئی چیز انہیں اپنی طرف مشغول کرلیتی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23266]
الحكم على الحديث:
أثر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسي بن أبى المختار، وقد توبع، وفي سماع بلال العبسي من حذيفة كلام
حدیث نمبر: 23267
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ أَبي الْجَهْمِ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُتْبةَ ، عَنِ ابنِ عَباسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بذِي قَرَدٍ أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بنِي سُلَيْمٍ، فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، صَفًّا يُوَازِي الْعَدُوَّ، وَصَفًّا خَلْفَهُ، فَصَلَّى بالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً، ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى" ..
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں جس کا نام "" ذی قرد "" تھا نماز خوف پڑھائی لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23267]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23268
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ بنِ أَبي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بنِ هِلَالٍ ، عَنْ ثَعْلَبةَ بنِ زَهْدَمٍ الْحَنْظَلِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بنِ الْعَاصِ، بطَبرِسْتَانَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ : أَنَا، فَقَالَ سُفْيَانُ: فَوَصَفَ مِثْلَ حَدِيثِ ابنِ عَباسٍ، وَزَيْدِ بنِ ثَابتٍ.
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلوۃ الخوف کس نے پڑھی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے پھر انہوں نے بعینہ وہی طریقہ بیان کیا جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23268]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23269
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيباجِ، وَآنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَقَالَ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم و دیبا پہننے سے اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23269]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5632، م: 2067
حدیث نمبر: 23270
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَبيب بنِ سُلَيْمٍ الْعَبسِيِّ ، عَنْ بلَالِ بنِ يَحْيَى الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّعْيِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے مرنے کا چیخ و پکار کے ساتھ اعلان کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23270]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، بلال بن يحيى لم يسمع من حذيفة، وحبيب ابن سليم مجهول
حدیث نمبر: 23271
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: " باسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا"، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ " [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23271]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6312