مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23322
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ الزُّبيْرِ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بنُ أَوْسٍ ، عَنْ بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " مَا أَخْبيَةٌ بعْدَ أَخْبيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ يُدْفَعُ عَنْهَا مِنَ الْمَكْرُوهِ، أَكْثَرَ مِنْ أَخْبيَةٍ وُضِعَتْ فِي هَذِهِ الْبقْعَةِ" . وَقَالَ: " إِنَّكُمْ الْيَوْمَ مَعْشَرَ الْعَرَب لَتَأْتُونَ أُمُورًا إِنَّهَا لَفِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّفَاقُ عَلَى وَجْهِهِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان خیموں کے بعد کوئی خیمے نہ رہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں تھے اور جس طرح ان کا دفاع ہوا کسی اور کا دفاع نہ ہوسکا اور جب بھی کوئی قوم ان کے ساتھ برا ارادہ کرتی تو کوئی نہ کوئی چیز انہیں اپنی طرف مشغول کرلیتی تھی۔ اور فرمایا اے گروہ عرب! آج کل لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں جنہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ”نفاق“ شمار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23322]
الحكم على الحديث:
أثر صحيح، وهذا إسناد منقطع، بلال العبسي لم يسمع من حذيفة
حدیث نمبر: 23323
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ حَمَّادِ بنِ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادِ بنِ أَبي سُلَيْمَانَ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بعْدَ مَا مَحَشَتْهُمْ النَّارُ، يُقَالُ لَهُمْ: الْجَهَنَّمِيُّونَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم سے ایک قوم اس وقت نکلے گی جب آگ انہیں جھلسا چکی ہوگی انہیں " جہنمی " کہا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23323]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23324
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبتِّيِّ ، عَنْ نُعَيْمٍ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: ابنِ أَبي هِنْدٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَسْنَدْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِي، فَقَالَ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ حَسَنٌ: ابتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، خُتِمَ لَهُ بهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ابتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بهَا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ بصَدَقَةٍ ابتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بهَا، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنا سینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تکیہ بنا رکھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (رضاء الہٰی کے لئے) لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اور اس کی زندگی اسی اقرار پر ختم ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص رضاء الہٰی کے لئے ایک دن روزہ رکھے اور اسی پر اس کا اختتام ہو تو وہ بھی جنت میں داخل ہوگا اور جو شخص رضاء الہٰی کے لئے صدقہ کرے اور اسی پر اس کا اختتام ہو تو وہ بھی جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23324]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع بين نعيم بن أبى هند وحذيفة
حدیث نمبر: 23325
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَب ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، قَالَ: بلَغَ حُذَيْفَةَ عَنْ رَجُل أنهُ يَنُمُّ الْحَدِيثَ َقَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23325]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105
حدیث نمبر: 23326
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بنُ بهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23326]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23327
حَدَّثَنَا أَبو سَعِيدٍ مَوْلَى بنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ بلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ أَبي عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ أَحَدِ بنِي عَبدِ الْأَشْهَلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ، لَتَأْمُرُنَّ بالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيَبعَثَنَّ عَلَيْكُمْ قَوْمًا، ثُمَّ تَدْعُونَهُ، فَلَا يُسْتَجَاب لَكُمْ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ امربالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ اللہ تم پر ایسا عذاب مسلط کر دے گا کہ تم اللہ سے دعائیں کرو گے لیکن تمہاری دعائیں قبول نہ ہوں گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23327]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عبدالله بن عبدالرحمن
حدیث نمبر: 23328
حَدَّثَنَا أَبو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا السَّفْرُ بنُ نُسَيْرٍ الْأَزْدِيُّ ، وَغَيْرُهُ , عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي شَرٍّ، فَذَهَب اللَّهُ بذَلِكَ الشَّرِّ، وَجَاءَ بالْخَيْرِ عَلَى يَدَيْكَ، فَهَلْ بعْدَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: " فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يَتْبعُ بعْضُهَا بعْضًا، تَأْتِيكُمْ مُشْتَبهَةً كَوُجُوهِ الْبقَرِ، لَا تَدْرُونَ أَيًّا مِنْ أَيٍّ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ شر میں تھے اللہ نے آپ کے ذریعے اسے دور فرما دیا اور آپ کے ہاتھوں خیر کا دور دورہ فرما دیا کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! انہوں نے پوچھا کہ وہ کیسا ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے رونما ہوں گے جو پے درپے آئیں گے اور تم پر اس طرح اشتباہ ہوجائے گا جیسے گائے کے چہرے ہوتے ہیں اور تم ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ معلوم نہیں کرسکو گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23328]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف السفر بن نسير، ثم هو لم يدرك حذيفة
حدیث نمبر: 23329
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بنِ حَبيب ، عَنِ الْمِنْهَالِ بنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلَتْنِي أُمِّي مُنْذُ مَتَى عَهْدُكَ بالنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَنَالَتْ مِنِّي وَسَبتْنِي قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: دَعِينِي، فَإِنِّي آتِي النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّي مَعَهُ الْمَغْرِب، ثُمَّ لَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِب، فَصَلَّى النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبعْتُهُ، فَعَرَضَ لَهُ عَارِضٌ فَنَاجَاهُ، ثُمَّ ذَهَب، فَاتَّبعْتُهُ فَسَمِعَ صَوْتِي، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقُلْتُ: حُذَيْفَةُ، قَالَ:" مَا لَكَ؟"، فَحَدَّثْتُهُ بالْأَمْرِ، فَقَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ"، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا رَأَيْتَ الْعَارِضَ الَّذِي عَرَضَ لِي قُبيْلُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: بلَى، قَالَ:" فَهُوَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَمْ يَهْبطْ الْأَرْضَ قَبلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، فَاسْتَأْذَنَ رَبهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ، وَيُبشِّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَباب أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کب سے وابستہ ہو؟ میں نے انہیں اس کا اندازہ بتادیا وہ مجھے سخت سست اور برا بھلا کہنے لگیں میں نے ان سے کہا کہ پیچھے ہٹیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں مغرب کی نماز ان کے ساتھ پڑھوں گا اور اس وقت تک انہیں چھوڑوں گا نہیں جب تک وہ میرے اور آپ کے لئے استغفار نہ کریں۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی اور واپس چلے گئے میں بھی پیچھے ہولیا راستے میں کوئی آدمی مل گیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باتیں کرنے لگے جب وہ چلا گیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز سن لی اور پوچھا کون ہے؟ میں نے عرض کیا حذیفہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے سارا واقعہ بتایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں اور تمہاری والدہ کو معاف فرمائے۔ پھر فرمایا کہ کیا تم نے اس شخص کو کبھی زمین پر دیکھا تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے مجھے ملا تھا؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا اس نے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی تھی کہ مجھے سلام کرنے کے لئے حاضر ہوا اور یہ خوشخبری دے کہ حسن اور حسین جو انان جنت کے سردار ہیں اور فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23329]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23330
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ ابنِ أَبي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِب وَالْعِشَاءَ، ثُمَّ تَبعْتُهُ وَهُوَ يُرِيدُ يَدْخُلُ بعْضَ حُجَرِهِ، فَقَامَ وَأَنَا خَلْفَهُ، كَأَنَّهُ يُكَلِّمُ أَحَدًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" مَنْ هَذَا؟"، قُلْتُ: حُذَيْفَةُ، قَالَ:" أَتَدْرِي مَنْ كَانَ مَعِي؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَإِنَّ جِبرِيلَ جَاءَ يُبشِّرُنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَباب أَهْلِ الْجَنَّةِ"، قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ: فَاسْتَغْفِرْ لِي وَلِأُمِّي، قَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا حُذَيْفَةُ، وَلِأُمِّكَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ہمراہ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی پھر ان کے پیچھے ہولیا راستے میں کوئی آدمی مل گیا جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باتیں کرنے لگے جب وہ چلا گیا تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آواز سن لی اور پوچھا کون ہے؟ میں نے عرض کیا حذیفہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے سارا واقعہ بتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہیں اور تمہاری والدہ کو معاف فرمائے۔ پھر فرمایا کہ کیا تم نے اس شخص کو کبھی زمین پر دیکھا تھا جو ابھی کچھ دیر پہلے مجھے ملا تھا؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک فرشتہ تھا جو آج رات سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا تھا، اس نے پروردگار سے اس بات کی اجازت لی تھی کہ مجھے سلام کرنے کے لئے حاضر ہو اور یہ خوشخبری دے کہ حسن اور حسین جو انان جنت کے سردار ہیں اور فاطمہ خواتین جنت کی سردار ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23330]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، لا يعرف سماع الشعبي من حذيفة
حدیث نمبر: 23331
حَدَّثَنَا أَبو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ، قَالُوا: هَذَا مُبلِّغُ الْأُمَرَاءِ، قَالَ حُذَيْفَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَدْخُلُ قَتَّاتٌ الْجَنَّةَ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چغلخور جنت میں داخل نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23331]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6056، م: 105