مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1123. حَدِيثُ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23848
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بن أَبَي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ ، قَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: أَمَا لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَإِلَى مَسْجِدِي، وَإِلَى مَسْجِدِ إِيلِيَاءَ" أَوْ" بَيْتِ الْمَقْدِسِ" يَشُكُّ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت میں مروی ہے کہ ان کی ملاقات حضرت ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو پوچھا کہ آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جبل طور سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ کی روانگی سے پہلے آپ کی ملاقات ہوجاتی تو آپ کبھی وہاں کا سفر نہ کرتے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سواریوں کو تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی زیارت کے لئے تیار نہیں کرنا چاہیے مسجد حرام، میری مسجد، مسجد بیت المقدس۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23848]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح على وهم فيه، وهم يزيد بن عبدالله بن الهاد
حدیث نمبر: 23849
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا بَصْرَةَ خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنَ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ، فأُتِيَ بِطَعَامِهِ، فَقِيلَ لَهُ: لَمْ تَغِبْ عَنَّا مَنَازِلُنَا بَعْدُ! فَقَالَ: " أَتَرْغَبُونَ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" قَالَ: فَمَا زِلْنَا مُفْطِرِينَ حَتَّى بَلَغُوا مَكَانَ كَذَا وَكَذَا .
یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو بصرہ رضی اللہ عنہ ماہ رمضان میں اسکندریہ سے روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں کھانا پیش کیا گیا، کسی نے ان سے کہا کہ اب تو یہاں سے شہر زیادہ دور نہیں رہا انہوں نے فرمایا کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ راوی کہتے ہیں کہ پھر جب تک ہم فلاں فلاں جگہ پہنچ نہیں گئے روزے کا ناغہ کرتے رہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23849]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإعضاله، فإن بين يزيد بن أبى حبيب و أبى بصرة رأويين
حدیث نمبر: 23850
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لَقِيَ أَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَهُوَ جَاءٍ مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ قَالَ: مِنَ الطُّورِ صَلَّيْتُ فِيهِ، قَالَ: أَمَا لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَرْحَلَ إِلَيْهِ مَا رَحَلْتَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت میں مروی ہے کہ ان کی ملاقات حضرت ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ جبل طور سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ کی روانگی سے پہلے آپ کی ملاقات ہوجاتی تو آپ کبھی وہاں کا سفر نہ کرتے کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سواریوں کو تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی زیارت کے لئے تیار نہیں کرنا چاہیے مسجد حرام، میری مسجد، مسجد بیت المقدس۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23850]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23851
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أخبرنا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا بَصْرَةَ حَدَّثَنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ زَادَكُمْ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ، فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ" ، قَالَ أَبُو تَمِيمٍ: فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ فَسَارَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَى أَبِي بَصْرَةَ، فَقَالَ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قَالَ عَمْرٌو، قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوبصرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لئے ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے جو تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کون سی نماز ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز وتر جو نماز عشاء اور طلوع آفتاب کے درمیان کسی بھی وقت پڑھی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23851]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1124. حَدِيثُ أَبِي أُبِيِّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23852
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي أُبَيِّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ حَجَّاجٌ: عَنِ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ اجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا" .
حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایسے امراء آئیں گے جنہیں بہت سی چیزیں غفلت میں مبتلا کردیں گی اور وہ نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کردیا کریں گے اس موقع پر تم لوگ وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23852]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو المثني مجهول، وقد اضطرب فيه
1125. حَدِيثُ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23853
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ آخَرَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فِي سَفَرٍ، فَعَطَسَ رَجُلٌ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ: عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ، ثُمَّ سَارَ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ؟ قَالَ: مَا أَرَدْتُ أَنْ تَذْكُرَ أُمِّي؟ قَالَ: لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَهَا، كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَعَطَسَ رَجُلٌ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ:" عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ"، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ أَوْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلْيُقَلْ لَهُ: يَرْحَمُكُمْ اللَّهُ أَوْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، شَكَّ يَحْيَى، وَلْيَقُلْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ" .
ایک صاحب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کسی سفر میں حضرت سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک آدمی کو چھینک آئی تو اس نے اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے " السلام علیکم " کہہ دیا حضرت سالم رضی اللہ عنہ نے فرمایا تجھ پر اور تیری ماں پر بھی ہو کچھ دور چلنے کے بعد انہوں نے اس سے پوچھا کہ شاید تمہیں مجھ پر غصہ آیا ہو؟ اس نے کہا کہ آپ نے میری والدہ کا تذکرہ کیوں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کے علاوہ کوئی اور جملہ کہنے کی طاقت ہی نہیں تھی کیونکہ ایک مرتبہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا اور ایک آدمی کو چھینک آئی تھی، اس نے بھی " السلام علیکم " کہا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے یہی جواب دیا تھا پھر فرمایا تھا کہ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے " الحمدللہ علی کل حال " یا " الحمدللہ رب العالمین " کہہ لینا چاہئے اور سننے والے کو " یرحمکم اللہ " کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو جواب میں یہ کہنا چاہئے کہ اللہ میرے اور تمہارے گناہ معاف فرمائے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23853]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لابهام رجلين فيه، ولاضطرابه
1126. بَقِيَّةُ حَدِيثِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23854
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ظَبْيَةَ الْكَلَاعِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ ، يَقُولُ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا؟" قَالُوا: حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرَةِ نِسْوَةٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ" . قَالَ: فَقَالَ:" مَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ؟" قَالُوا: حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَهِيَ حَرَامٌ، قَالَ: " لَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشْرَةِ أَبْيَاتٍ، أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ" .
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم لوگ بدکاری کے متعلق کیا کہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے لہٰذا وہ قیامت تک حرام رہے گی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کے لئے دس عورتوں سے بدکاری کرنا اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرنے کی نسبت زیادہ ہلکا ہے پھر پوچھا کہ چوری کے متعلق تم لوگ کیا کہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے لہٰذا وہ حرام رہے گی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کا دس گھروں میں چوری کرنا اپنے پڑوسی کے یہاں چوری کرنے کی نسبت زیادہ ہلکا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23854]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد
1127. حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23855
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أخبرنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: " ذَبَحْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً، فَأَمَرَنَا فَعَالَجْنَا لَهُ شَيْئًا مِنْ بَطْنِهَا فَأَكَلَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" .
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک بکری ذبح کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اس کا تھوڑا ساحصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے درمیان میں تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23855]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواهده ، م: 357
حدیث نمبر: 23856
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُخَوَّلٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ" .
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان (مرد) کو اس حال میں نماز پڑھنے سے روکا ہے کہ اس کے سر کے بالوں کی چوٹی بنی ہوئی ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23856]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه فى تعيين الرجل المبهم، ثم إنه اختلف فى إسناده على مخول
حدیث نمبر: 23857
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ، قَالَ: " إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ، وَلَا أَخِيسُ الْبِرَّ، وَارْجِعْ إِلَيْهِمْ، فَإِنْ كَانَ فِي قَلْبِكَ الَّذِي فِيهِ الْآنَ، فَارْجِعْ" ، قَالَ بُكَيْرٌ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ: أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا.
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اسلام میرے دل میں گھر کر گیا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اب میں قریش کے پاس واپس نہیں جانا چاہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں خلاف عہد نہیں کرسکتا اور ایلچیوں کو اپنے پاس نہیں روک سکتا اس لئے اب تو تم واپس چلے جاؤ اگر تمہارے دل میں وہی ارادہ باقی رہے جو اب ہے تو پھر میرے پاس آجانا (چنانچہ میں ان کے پاس چلا گیا پھر واپس آکر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور مشرف با اسلام ہوگیا) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23857]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، على ابن أبى رافع لا يعرف له رواية، والصواب - إن شاء الله - رواية الحسن ابن على بن أبى رافع عن جده سماعا