مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26180
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَمْرَةَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا , فَقَالَ: " إِنَّكُمْ لَتَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا , لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودیہ عورت کے متعلق فرمائی تھی کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26180]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1289، م: 932
حدیث نمبر: 26181
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَرِجْلِي فِي قِبْلَتِهِ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ , غَمَزَنِي , فَقَبَضْتُهَا , فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رو رہی تھی اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب وہ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26181]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 382، م: 512
حدیث نمبر: 26182
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ , فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ:" غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْإِبِلِ , الْمُقِيمُ فِيهَا كَالشَّهِيدِ , وَالْفَارُّ مِنْهَا كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ" .
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے میری امت صرف نیزہ بازی اور طاعون سے ہی ہلاک ہوگی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نیزہ بازی کا مطلب تو ہم سمجھ گئے، یہ طاعون سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ایک گلٹی ہوتی ہے جو اونٹ کی گلٹی کے مشابہ ہوتی ہے، اس میں ثابت قدم والا شہید کی طرح ہوگا اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والا میدان جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26182]
الحكم على الحديث:
إسناده جيد
حدیث نمبر: 26183
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ الْعَدَوِيَّةُ , قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون سے بچ کر راہ فرار اختیار کرنے والا ایسے ہے جیسے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26183]
الحكم على الحديث:
حديث جيد
حدیث نمبر: 26184
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ أَنْ يُتَحَرَّى بِهَا طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی ممانعت فرمائی تھی کہ طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت نماز کا اہتمام کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26184]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 833
حدیث نمبر: 26185
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا أَوْتَرَ , صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر پڑھ لیتے تو بیٹھے بیٹھے دو کعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26185]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 26186
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ شَجَّاحٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي وَرْقَاءُ بِنْتُ هُذَامٍ الْهُنَائِيَّةُ , قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ:" رُبَّمَا رَأَيْتُ فِي ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَنَابَةَ , فَأَفْرُكُهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کئی مرتبہ میں نے بھی اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26186]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ورقاء الهنائية، م: 288
حدیث نمبر: 26187
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا طَلْحَةُ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي وَرْقَاءُ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ , أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ , لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص پر کوئی قرض ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی فکر میں ہو تو اس کے ساتھ اللہ کی طرف سے مسلسل ایک محافظ لگا رہتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26187]
الحكم على الحديث:
حديث حسن وهذا إسناد كسابقه
حدیث نمبر: 26188
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ میں جتنی محنت فرماتے تھے کسی اور موقع پر اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26188]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1175
حدیث نمبر: 26189
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا مَرِضَ قَرَأَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ وَيَنْفُثُ , قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا ثَقُلَ جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِهِمَا , وَأَمْسَحُ بِيَمِينِهِ الْتِمَاسَ بَرَكَتِهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر بیمار ہوجاتے تو معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو ان کا دست مبارک پکڑتی تو یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت حاصل ہوجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26189]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5061، م: 2192